سرمایہ داری
کلیجہ پھنک رہا ہے اور زباں کہنے سے عاری ہے بتاؤں کیا تمہیں کیا چیز یہ سرمایہ داری ہے یہ وہ آندھی ہے جس کی رو میں مفلس کا نشیمن ہے یہ وہ بجلی ہے جس کی زد میں ہر دہقاں کا خرمن ہے یہ اپنے ہاتھ میں تہذیب کا فانوس لیتی ہے مگر مزدور کے تن سے لہو تک چوس لیتی ہے یہ انسانی بلا خود خون انسانی ...