شاعری

سرمایہ داری

کلیجہ پھنک رہا ہے اور زباں کہنے سے عاری ہے بتاؤں کیا تمہیں کیا چیز یہ سرمایہ داری ہے یہ وہ آندھی ہے جس کی رو میں مفلس کا نشیمن ہے یہ وہ بجلی ہے جس کی زد میں ہر دہقاں کا خرمن ہے یہ اپنے ہاتھ میں تہذیب کا فانوس لیتی ہے مگر مزدور کے تن سے لہو تک چوس لیتی ہے یہ انسانی بلا خود خون انسانی ...

مزید پڑھیے

دلی سے واپسی

رخصت اے دلی تری محفل سے اب جاتا ہوں میں نوحہ گر جاتا ہوں میں نالہ بہ لب جاتا ہوں میں یاد آئیں گے مجھے تیرے زمین و آسماں رہ چکے ہیں میری جولاں گاہ تیرے بوستاں تیرا دل دھڑکا چکے ہیں میرے احساسات بھی تیرے ایوانوں میں گونجے ہیں مرے نغمات بھی رشک شیراز کہن ہندوستاں کی آبرو سر زمین ...

مزید پڑھیے

الہ آباد سے

الہ آباد میں ہر سو ہیں چرچے کہ دلی کا شرابی آ گیا ہے بہ صد آوارگی یا صد تباہی بہ صد خانہ خرابی آ گیا ہے گلابی لاؤ چھلکاؤ لنڈھاؤ کہ شیدائے گلابی آ گیا ہے نگاہوں میں خمار بادہ لے کر نگاہوں کا شرابی آ گیا ہے وہ سرکش رہزن ایوان خوباں بہ عزم باریابی آ گیا ہے وہ رسوائے جہاں ناکام ...

مزید پڑھیے

پہلا جشن آزادی

بصد غرور بصد فخر و ناز آزادی مچل کے کھل گئی زلف دراز آزادی مہہ‌ و نجوم ہیں نغمہ طراز آزادی وطن نے چھیڑا ہے اس طرح ساز آزادی زمانہ رقص میں ہے زندگی غزل خواں ہے زمانہ رقص میں ہے زندگی غزل خواں ہے ہر اک جبیں پہ ہے اک موج نور آزادی ہر اک آنکھ میں کیف و سرور آزادی غلامی خاک بسر ہے ...

مزید پڑھیے

سانحہ

درد و غم حیات کا درماں چلا گیا وہ خضر عصر و عیسیٔ دوراں چلا گیا ہندو چلا گیا نہ مسلماں چلا گیا انساں کی جستجو میں اک انساں چلا گیا رقصاں چلا گیا نہ غزل خواں چلا گیا سوز و گداز و درد میں غلطاں چلا گیا برہم ہے زلف کفر تو ایماں سرنگوں وہ فحر کفر و نازش ایماں چلا گیا بیمار زندگی کی کرے ...

مزید پڑھیے

شوق گریزاں

دیر و کعبہ کا میں نہیں قائل دیر او کعبہ کو آستاں نہ بنا مجھ میں تو روح سرمدی مت پھونک رونق بزم عارفاں نہ بنا دشت ظلمات میں بھٹکنے دے میری راہوں کو کہکشاں نہ بنا عشرت جہل و تیرگی مت چھین محرم راز دو جہاں نہ بنا بجلیوں سے جہاں نہ ہو چشمک اس گلستاں میں آشیاں نہ بنا خار چشم حریف رہنے ...

مزید پڑھیے

زہراب حسن

حسن اک کیف جاودانی ہے اور جو چیز ہے وہ فانی ہے حسن کے دن بھی کیف پرور ہیں حسن کی رات بھی سہانی ہے حسن کی صبح اک شکست جمیل حسن کی شام کامرانی ہے یہ کچھ افسانۂ تخیل ہے کچھ حقیقت کی ترجمانی ہے کچھ ترے حسن کا کرشمہ ہے کچھ مری طبع کی روانی ہے

مزید پڑھیے

ایک جلا وطن کی واپسی

پھر خبر گرم ہے وہ جان وطن آتا ہے پھر وہ زندانیٔ زندان وطن آتا ہے وہ خراب گل و ریحان وطن آتا ہے مصر سے یوسف کنعان وطن آتا ہے ''کوئی معشوق بصد شوکت و ناز آتا ہے سرخ بیرق ہے سمندر میں جہاز آتا ہے'' رند بے کیف کو تھی بادہ و ساغر کی تلاش ناظر منظر فطرت کو تھی منظر کی تلاش ایک بھونرے کو خزاں ...

مزید پڑھیے

نذر علی گڑھ

سرشار نگاہ نرگس ہوں پا بستۂ گیسوئے سنبل ہوں یہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوں ہر آن یہاں صہبائے کہن اک ساغر نو میں ڈھلتی ہے کلیوں سے حسن ٹپکتا ہے پھولوں سے جوانی ابلتی ہے جو طاق حرم میں روشن ہے وہ شمع یہاں بھی جلتی ہے اس دشت کے گوشے گوشے سے اک جوئے حیات ابلتی ...

مزید پڑھیے

نورا

وہ نوخیز نورا وہ اک بنت مریم وہ مخمور آنکھیں وہ گیسوئے پر خم وہ ارض کلیسا کی اک ماہ پارہ وہ دیر و حرم کے لیے اک شرارہ وہ فردوس مریم کا اک غنچۂ تر وہ تثلیث کی دختر نیک اختر وہ اک نرس تھی چارہ گر جس کو کہیے مداوائے درد جگر جس کو کہیے جوانی سے طفلی گلے مل رہی تھی ہوا چل رہی تھی کلی کھل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 772 سے 960