محبت
تمہیں جولائی کی انیسویں تپتی جھلستی دوپہر اب یاد کب ہوگی کہ جس کی حدتیں کتنے مہینوں بعد تک ہم نے بدن کے ہر دریچے پر لکھی محسوس کی تھیں اور انہیں نظمیں سمجھ کر گنگنایا تھا تمہارے جسم کی پگڈنڈیوں پر چلتے چلتے ایک ایسا موڑ آیا تھا جہاں اوہام الہامی نظر آتے ہیں اور امکان ناکامی محبت ...