شاعری

محبت

تمہیں جولائی کی انیسویں تپتی جھلستی دوپہر اب یاد کب ہوگی کہ جس کی حدتیں کتنے مہینوں بعد تک ہم نے بدن کے ہر دریچے پر لکھی محسوس کی تھیں اور انہیں نظمیں سمجھ کر گنگنایا تھا تمہارے جسم کی پگڈنڈیوں پر چلتے چلتے ایک ایسا موڑ آیا تھا جہاں اوہام الہامی نظر آتے ہیں اور امکان ناکامی محبت ...

مزید پڑھیے

ریپ

میں اپنے اندر کسی خلا میں بھٹک رہی تھی ادھڑ رہی تھی مگر وہاں صرف اک بدن تھا جو ناخنوں سے وجود سے روح چھیلتا تھا ادھڑتی سانسوں پہ دانت اپنے چبھو رہا تھا میں درد زہ سے بھی سرخ رو ہو کے آنے والی میں آشنائے اذیت ذائقہء تخلیق اک تمسخر سے ایک تضحیک کے گماں سے خود اپنی آہٹ کی سسکیوں ...

مزید پڑھیے

نظم

رات کاغذ قلم کا عجب کھیل تھا ان کے قدموں کا نقشہ بنایا گیا اور قدموں میں دل کو سجایا گیا دل کی معراج تھے نقش پا پیار کے کیا مچلتا تھا دل زندگی وار کے اور پھر جاگ اٹھی ادا حسن کی میرا دل ان کے زیر قدم آ گیا میری جرأت تو دیکھو اے جان وفا اپنا ذوق جنوں آزماتا رہا تیرے قدموں کو میں نے ...

مزید پڑھیے

ایک منظر

سرخ گلاب چمکتے ہیرے جگمگ کرتے موتی شہد میں ڈوبے ادھورے جملے منظر پھولوں پر منڈلاتی بے کل تتلی روئی جیسی نرم ملائم مٹی میں روٹی کے ٹکڑے چھت پر بیٹھے کوے چڑیاں مٹھی کھلے روٹی کے ٹکڑے فرش پر بکھریں کوا چڑیاں شور مچاتے لپکیں جھپٹیں موتی اپنا روپ دکھائیں ہیرے اور چمکتے جائیں

مزید پڑھیے

نمائش میں

وہ کچھ دوشیزگان ناز پرور کھڑی ہیں اک بساطی کی دکاں پر نظر کے سامنے ہے ایک محشر اور اک محشر ہے میرے دل کے اندر سنہرا کام رنگیں ساریوں پر بساط آسماں پر ماہ و اختر جمال و حسن کے پر رعب تیور نمایاں چاند سی پیشانیوں پر وہ رخساروں پہ ہلکی ہلکی سرخی لبوں میں پر فشاں روح گل تر سیہ زلفوں ...

مزید پڑھیے

ادھر بھی آ

یہ جہد و کشمکش یہ خروش جہاں بھی دیکھ ادبار کی، سروں پہ گھنی بدلیاں بھی دیکھ یہ توپ یہ تفنگ یہ تیغ و سنان بھی دیکھ او کشتۂ نگار دل آرا ادھر بھی آ آ، اور بگل کا نغمۂ ''جاں آفریں'' بھی سن آ، بے کسوں کا نالۂ اندوہ کیں بھی سن آ، باغیوں کا زمزمۂ آتشیں بھی سن او مست ساز و بربط و نغمہ ...

مزید پڑھیے

انقلاب

چھوڑ دے مطرب بس اب للہ پیچھا چھوڑ دے کام کا یہ وقت ہے کچھ کام کرنے دے مجھے تیری تانوں میں ہے ظالم کس قیامت کا اثر بجلیاں سی گر رہی ہیں خرمن ادراک پر یہ خیال آتا ہے رہ رہ کر دل بے تاب میں بہہ نہ جاؤں پھر ترے نغمات کے سیلاب میں چھوڑ کر آیا ہوں کس مشکل سے میں جام و سبو! آہ کس دل سے کیا ہے ...

مزید پڑھیے

عیادت

یہ کون آ گیا رخ خنداں لیے ہوئے عارض پہ رنگ و نور کا طوفاں لیے ہوئے بیمار کے قریب بصد شان احتیاط دل داریٔ نسیم بہاراں لیے ہوئے رخسار پر لطیف سی اک موج سر خوشی لب پر ہنسی کا نرم سا طوفاں لیے ہوئے پیشانیٔ جمیل پہ انوار تمکنت تابندگیٔ صبح درخشاں لیے ہوئے زلفوں کے پیچ و خم میں بہاریں ...

مزید پڑھیے

شرارے

خود کو بہلانا تھا آخر خود کو بہلاتا رہا میں بہ ایں سوز دروں ہنستا رہا گاتا رہا مجھ کو احساس فریب رنگ و بو ہوتا رہا میں مگر پھر بھی فریب رنگ و بو کھاتا رہا میری دنیائے وفا میں کیا سے کیا ہونے لگا اک دریچہ بند مجھ پر ایک وا ہونے لگا اک نگار ناز کی پھرنے لگیں آنکھیں مجازؔ اک بت کافر کا ...

مزید پڑھیے

ایک دوست کی خوش مذاقی پر

ہو نہیں سکتا تری اس ''خوش مذاقی'' کا جواب شام کا دل کش سماں اور تیرے ہاتھوں میں کتاب رکھ بھی دے اب اس کتاب خشک کو بالائے طاق اڑ رہا ہے رنگ و بو کی بزم میں تیرا مذاق چھپ رہا ہے پردۂ مغرب میں مہر زر فشاں دید کے قابل ہیں بادل میں شفق کی سرخیاں موجزن جوئے شفق ہے اس طرح زیر سحاب جس طرح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 771 سے 960