کراں تا کراں
جو مزہ چاہت میں ہے حاصل میں اس کو ڈھونڈھنا بے کار ہے ہو کہاں تم کس جہاں میں کیوں مجھے معلوم ہو؟ دھند میں ہو خواب میں یا آسماں کی قوس میں یا موج کی گردش میں ہو تم ہاتھ کی ریکھا کے اندر ہو کہیں یا دور سناٹوں کے ٹکراؤ سے پیدا ان سنی آواز کی ریزش میں ہو چاہے کہیں بھی ہو مری چاہت کے پھیلے ...