شاعری

برف باری کی رت

یہیں تو کہیں پر تمہارے لبوں نے مرے سرد ہونٹوں سے برفیلے ذرے چنے تھے اسی پیڑ کی چھال پر ہاتھ رکھ کر ہم اک دن کھڑے تھے یہیں برف باری میں ہم لڑکھڑاتے ہوئے جا رہے تھے بہک تازہ بوسوں کی سر میں سمائے ہم آغوشی جسم و جاں کے نشے میں گئی برف باری کی رت اور پگھلتی ہوئی برف بھی بہہ گئی سب یہاں ...

مزید پڑھیے

اقلیما

اقلیما جو ہابیل کی قابیل کی ماں جائی ہے ماں جائی مگر مختلف مختلف بیچ میں رانوں کے اور پستانوں کے ابھاروں میں اور اپنے پیٹ کے اندر اپنی کوکھ میں ان سب کی قسمت کیوں ہے اک فربہ بھیڑ کے بچے کی قربانی وہ اپنے بدن کی قیدی تپتی ہوئی دھوپ میں جلتے ٹیلے پر کھڑی ہوئی ہے پتھر پر نقش بنی ہے اس ...

مزید پڑھیے

پتھر کی زبان

اسی اکیلے پہاڑ پر تو مجھے ملا تھا یہی بلندی ہے وصل تیرا یہی ہے پتھر مری وفا کا اجاڑ چٹیل اداس ویراں مگر میں صدیوں سے، اس سے لپٹی ہوئی کھڑی ہوں پھٹی ہوئی اوڑھنی میں سانسیں تری سمیٹے ہوا کے وحشی بہاؤ پر اڑ رہا ہے دامن سنبھالا لیتی ہوں پتھروں کو گلے لگا کر نکیلے پتھر جو وقت کے ساتھ ...

مزید پڑھیے

ایک عورت کی ہنسی

پتھریلے کہسار کے گاتے چشموں میں گونج رہی ہے ایک عورت کی نرم ہنسی دولت طاقت اور شہرت سب کچھ بھی نہیں اس کے بدن میں چھپی ہے اس کی آزادی دنیا کے معبد کے نئے بت کچھ کر لیں سن نہیں سکتے اس کی لذت کی سسکی اس بازار میں گو ہر مال بکاؤ ہے کوئی خرید کے لائے ذرا تسکین اس کی اک سرشاری جس سے وہ ...

مزید پڑھیے

چادر اور چار دیواری

حضور میں اس سیاہ چادر کا کیا کروں گی یہ آپ کیوں مجھ کو بخشتے ہیں بصد عنایت نہ سوگ میں ہوں کہ اس کو اوڑھوں غم و الم خلق کو دکھاؤں نہ روگ ہوں میں کہ اس کی تاریکیوں میں خفت سے ڈوب جاؤں نہ میں گناہ گار ہوں نہ مجرم کہ اس سیاہی کی مہر اپنی جبیں پہ ہر حال میں لگاؤں اگر نہ گستاخ مجھ کو ...

مزید پڑھیے

اس کا دل تو اچھا دل تھا

ایک ہے ایسی لڑکی جس سے تم نے ہنس کر بات نہ کی کبھی نہ دیکھا اس کی آنکھوں میں چمکے کیسے موتی کبھی نہ سوچا تم سے ایسی باتیں وہ کیوں کہتی ہے کبھی نہ سمجھا ملتے ہو تو گھبرائی کیوں رہتی ہے کیسے اس رخسار کی رنگت سرسوں جیسی زرد ہوئی جب تک ملی نہیں تھی تم سے وہ ایسی تنہا تو نہ تھی مل کر آنکھ ...

مزید پڑھیے

ایک زن خانہ بدوش

تم نے دیکھی ہے کبھی ایک زن خانہ بدوش جس کے خیمے سے پرے رات کی تاریکی میں گرسنہ بھیڑیے غراتے ہیں دور سے آتی ہے جب اس کی لہو کی خوشبو سنسناتی ہیں درندوں کی ہنسی اور دانتوں میں کسک ہوتی ہے کہ کریں اس کا بدن صد پارہ اپنے خیمے میں سمٹ کر عورت رات آنکھوں میں بتا دیتی ہے کبھی کرتی ہے الاؤ ...

مزید پڑھیے

اس گلی کے موڑ پر

اس گلی کے موڑ پر اک عزیز دوست نے میرے اشک پونچھ کر آج مجھ سے یہ کہا یوں نہ دل جلاؤ تم لوٹ مار کا ہے راج جل رہا ہے کل سماج یہ فضول راگنی مجھ کو مت سناؤ تم بورژوا سماج ہے لوٹ مار چوریاں اس کا وصف خاص ہے اس کو مت بھلاؤ تم انقلاب آئے گا اس سے لو لگاؤ تم ہو سکے تو آج کل مال کچھ بناؤ تم کھائی ...

مزید پڑھیے

ایک لڑکی سے

سنگ دل رواجوں کی یہ عمارت کہنہ اپنے آپ پر نادم اپنے بوجھ سے لرزاں جس کا ذرہ ذرہ ہے خود شکستگی ساماں سب خمیدہ دیواریں سب جھکی ہوئی گڑیاں سنگ دل رواجوں کے خستہ حال زنداں میں اک صدائے مستانہ ایک رقص رندانہ یہ عمارت کہنہ ٹوٹ بھی تو سکتی ہے یہ اسیر شہزادی چھوٹ بھی تو سکتی ہے یہ اسیر ...

مزید پڑھیے

نظم

کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے وہ تم کو خوف دلائیں گے جو ہے وہ بھی کھو سکتا ہے اس راہ میں رہزن ہیں اتنے کچھ اور یہاں ہو سکتا ہے کچھ اور تو اکثر ہوتا ہے پر تم جس لمحے میں زندہ ہو یہ لمحہ تم سے زندہ ہے یہ وقت نہیں پھر آئے گا تم اپنی کرنی کر گزرو جو ہوگا دیکھا جائے گا

مزید پڑھیے
صفحہ 686 سے 960