شاعری

آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال

آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال مدھ بھرا حرف کوئی زہر بھرا حرف کوئی دل نشیں حرف کوئی قہر بھرا حرف کوئی حرف الفت کوئی دل دار نظر ہو جیسے جس سے ملتی ہے نظر بوسۂ لب کی صورت اتنا روشن کہ سر موجۂ زر ہو جیسے صحبت یار میں آغاز طرب کی صورت حرف نفرت کوئی شمشیر غضب ہو جیسے تا ابد شہر ...

مزید پڑھیے

رنگ ہے دل کا مرے

تم نہ آئے تھے تو ہر اک چیز وہی تھی کہ جو ہے آسماں حد نظر راہ گزر راہ گزر شیشۂ مے شیشۂ مے اور اب شیشۂ مے راہ گزر رنگ فلک رنگ ہے دل کا مرے خون جگر ہونے تک چمپئی رنگ کبھی راحت دیدار کا رنگ سرمئی رنگ کہ ہے ساعت بیزار کا رنگ زرد پتوں کا خس و خار کا رنگ سرخ پھولوں کا دہکتے ہوئے گلزار کا ...

مزید پڑھیے

چند روز اور مری جان

چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم اور کچھ دیر ستم سہہ لیں تڑپ لیں رو لیں اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم جسم پر قید ہے جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبوس ہے گفتار پہ تعزیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں زندگی کیا کسی مفلس کی ...

مزید پڑھیے

مرثیے

۱ دور جا کر قریب ہو جتنے ہم سے کب تم قریب تھے اتنے اب نہ آؤ گے تم نہ جاؤ گے وصل ہجراں بہم ہوئے کتنے ۲ چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا رنگ بدلے کسی صورت شب تنہائی کا دولت لب سے پھر اے خسرو شیریں دہناں آج ارزاں ہو کوئی حرف شناسائی کا گرمئی رشک سے ہر انجمن گل بدناں تذکرہ چھیڑے تری ...

مزید پڑھیے

ملاقات

یہ رات اس درد کا شجر ہے جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں میں لاکھ مشعل بکف ستاروں کے کارواں گھر کے کھو گئے ہیں ہزار مہتاب اس کے سائے میں اپنا سب نور رو گئے ہیں یہ رات اس درد کا شجر ہے جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے مگر اسی رات کے شجر سے یہ چند لمحوں کے زرد پتے گرے ...

مزید پڑھیے

ایک نظم ۱

سبز شاخوں پر نئے سرخ پتے مخمل کی صورت سجنے لگے پرانی شاخوں پر نئے پنچھی چہکنے لگے پچھلا موسم کب بیتا نیا موسم کب آیا یہ سوچ کر ہم ہنسنے لگے نئے آشیانے نئے موسم سب تمہارے ہیں بیتی رتوں کے منظر نامے بس ہمارے ہیں

مزید پڑھیے

ایک نظم ۲

میں نے تمہیں تمہارے کنول جھیل چہرے کو فراموش کر دیا ہے پرانی ساعتوں کی شیرینیوں کو یکسر بھلا دیا ہے لفظوں کے مرمریں پیکر جملوں کی لطیف سوغاتیں ہم سے ہمارا سب کچھ چھین لیا گیا چھیننے والے قزاق ہمارے اپنے عزیز تھے ہمارے اپنے رفیق تھے

مزید پڑھیے

مکالمہ

آداب آداب تسلیمات تسلیمات مزاج اقدس فضل ربی ہے نمازیں پڑھتے ہیں فراغتوں سے ڈرتے ہیں اللہ خیروبرکت دے سنا ہے آپ نے نئی گاڑی خرید لی جی ہاں مرسڈیز ہے اللہ کے فضل سے گرین کارڈ ہولڈر بھی ہیں مگر آپ کا وہ کمیونزم آپ تو خاصے ریڈیکل تھے شکر باریٔ تعالی کا جس نے اندھیروں میں روشنی ...

مزید پڑھیے

احتساب

جنہیں چاہتے ہو پسند کرتے ہو ان کی روحوں کو ٹٹولو سچائیوں کی گرہوں کو کھولو وہاں بھی اندھیرے کھنڈر ہیں وہاں بھی ویران منظر ہیں وہاں بھی زخموں کے بسیرے ہیں وہاں بھی تنہائیوں کے ڈیرے ہیں وہ بس ہنستے ہیں نمائش کے لئے ان کی زہر‌ خند ہنسی کو سمجھو گوشۂ عافیت انہیں ملا ہے نہ تمہیں ملے ...

مزید پڑھیے

بارش کا ایک گیت

جیون مایا ہریالی میں تم جوت جگاتی آئی ہو تم چاند چکوری چاند بنو تم پھولن پھول پھلار بنو تم درپن چھایا گیان بنو تم رات جگاتی پیار بنو تم روپ چمن سنسار بنو جب بارش موتی لٹتے ہیں جب مٹی سوندھی کھلتی ہے تب ہیریں سوانگ رچاتی ہیں تب رانجھے ڈھول بجاتے ہیں تب عاشق گیت سجاتے ہیں جب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 684 سے 960