آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال
آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال مدھ بھرا حرف کوئی زہر بھرا حرف کوئی دل نشیں حرف کوئی قہر بھرا حرف کوئی حرف الفت کوئی دل دار نظر ہو جیسے جس سے ملتی ہے نظر بوسۂ لب کی صورت اتنا روشن کہ سر موجۂ زر ہو جیسے صحبت یار میں آغاز طرب کی صورت حرف نفرت کوئی شمشیر غضب ہو جیسے تا ابد شہر ...