شاعری

مرے ہمدم مرے دوست!

گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوست گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکن تری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلن میری دل جوئی مرے پیار سے مٹ جائے گی گر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سے جی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغ تیری پیشانی سے ڈھل جائیں یہ تذلیل کے داغ تیری بیمار جوانی کو ...

مزید پڑھیے

اس وقت تو یوں لگتا ہے

اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے مہتاب نہ سورج، نہ اندھیرا نہ سویرا آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمن اور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیرا ممکن ہے کوئی وہم تھا، ممکن ہے سنا ہو گلیوں میں کسی چاپ کا اک آخری پھیرا شاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید اب آ کے کرے گا نہ کوئی ...

مزید پڑھیے

دل من مسافر من

مرے دل، مرے مسافر ہوا پھر سے حکم صادر کہ وطن بدر ہوں ہم تم دیں گلی گلی صدائیں کریں رخ نگر نگر، کا کہ سراغ کوئی پائیں کسی یار نامہ بر کا ہر اک اجنبی سے پوچھیں جو پتا تھا اپنے گھر کا سر کوئے ناشنایاں ہمیں دن سے رات کرنا کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا تمہیں کیا کہوں کہ کیا ...

مزید پڑھیے

آج کی رات

آج کی رات ساز درد نہ چھیڑ دکھ سے بھرپور دن تمام ہوئے اور کل کی خبر کسے معلوم دوش و فردا کی مٹ چکی ہیں حدود ہو نہ ہو اب سحر کسے معلوم زندگی ہیچ! لیکن آج کی رات ایزدیت ہے ممکن آج کی رات آج کی رات ساز درد نہ چھیڑ اب نہ دہرا فسانہ ہائے الم اپنی قسمت پہ سوگوار نہ ہو فکر فردا اتار دے دل ...

مزید پڑھیے

خدا وہ وقت نہ لائے

خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو سکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائے تری مسرت پیہم تمام ہو جائے تری حیات تجھے تلخ جام ہو جائے غموں سے آئینۂ دل گداز ہو تیرا ہجوم یاس سے بیتاب ہو کے رہ جائے وفور درد سے سیماب ہوکے رہ جائے ترا شباب فقط خواب ہو کے رہ جائے غرور حسن سراپا نیاز ہو ...

مزید پڑھیے

پاس رہو

تم مرے پاس رہو مرے قاتل، مرے دل دار مرے پاس رہو جس گھڑی رات چلے، آسمانوں کا لہو پی کے سیہ رات چلے مرہم مشک لیے، نشتر الماس لیے بین کرتی ہوئی ہنستی ہوئی، گاتی نکلے درد کے کاسنی پازیب بجاتی نکلے جس گھڑی سینوں میں ڈوبے ہوئے دل آستینوں میں نہاں ہاتھوں کی رہ تکنے لگے آس لیے اور بچوں کے ...

مزید پڑھیے

سوچنے دو

اک ذرا سوچنے دو اس خیاباں میں جو اس لحظہ بیاباں بھی نہیں کون سی شاخ میں پھول آئے تھے سب سے پہلے کون بے رنگ ہوئی رنج و تعب سے پہلے اور اب سے پہلے کس گھڑی کون سے موسم میں یہاں خون کا قحط پڑا گل کی شہ رگ پہ کڑا وقت پڑا سوچنے دو سوچنے دو اک ذرا سوچنے دو یہ بھرا شہر جو اب وادئ ویراں بھی ...

مزید پڑھیے

انتظار

گزر رہے ہیں شب و روز تم نہیں آتیں ریاض زیست ہے آزردۂ بہار ابھی مرے خیال کی دنیا ہے سوگوار ابھی جو حسرتیں ترے غم کی کفیل ہیں پیاری ابھی تلک مری تنہائیوں میں بستی ہیں طویل راتیں ابھی تک طویل ہیں پیاری اداس آنکھیں تری دید کو ترستی ہیں بہار حسن پہ پابندیٔ جفا کب تک یہ آزمائش صبر گریز ...

مزید پڑھیے

کچھ عشق کیا کچھ کام کیا

کچھ عشق کیا کچھ کام کیا وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھر آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

مزید پڑھیے

ترانہ

دربار وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گے کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 682 سے 960