مرے ہمدم مرے دوست!
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوست گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکن تری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلن میری دل جوئی مرے پیار سے مٹ جائے گی گر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سے جی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغ تیری پیشانی سے ڈھل جائیں یہ تذلیل کے داغ تیری بیمار جوانی کو ...