شاعری

بھوت

مرے ہوؤں سے ڈرو نہیں یہ کہا تھا تم نے جو مر گئے وہ زمیں کے اندر اتر گئے ان مرے ہوؤں کی بھٹکتی پھرتی خوشی غمی کے عذاب سہتی نحیف روحوں سے ڈرنا کیسا کہا تھا تم نے نہیں میں ڈرتا نہیں ہوں ان سے بھٹکتی پھرتی زمیں کا چکر لگاتی روحوں سے خوف کیسا جو خود پتنگے کے کرب میں مبتلا ہوں ان سے کسی ...

مزید پڑھیے

آمد

کبھی خشک موسم میں پروا جو چلتی تو بنجر پہاڑوں گھنے گرد آلود شہروں سے کترا کے ہم تک پہنچتی ہمیں تند یادوں کے گرداب میں ڈوبتے اور ابھرتے ہوئے دیکھ کر ہم سے کہتی میں ان سب کے جسموں سے مس ہو کے آئی ہوں ان کے پسینے کی خوشبو کو اپنے لبادے میں بھر کر ہتھیلی پہ رکھ کر میں لائی ہوں کبھی سرخ ...

مزید پڑھیے

پیپل

اک پیپل کے نیچے میں نے اپنی کھاٹ بچھائی لیٹ گیا میں کھاٹ پہ لیکن نیند نہ مجھ کو آئی آہیں بھرتے کروٹیں لیتے ساری عمر گنوائی پیپل کے پتوں کو گنتے کرتے ان پر غور پیپل کی شاخوں کو تکتے بیت گیا اک دور پیپل کی ہر چیز پرانی البیلا ہر طور چلے ہوا تو ڈالی ڈالی لچک لچک بل کھائے رکے ہوا تو ...

مزید پڑھیے

مڈ وائف

آنے والے ننھے منے سب خوابوں سے کہتی ہے وہ آ جاؤ اور آ کر دیکھو کتنے لوگ تمہاری خاطر جانے کب سے جاگ رہے ہیں پر جب آنے والے اس کے نرم ملائم ریشم ایسے ہاتھوں کی پوروں سے چمٹے آ جاتے ہیں وہ تن کر کہتی ہے دیکھو میں نے تم کو جنم دیا ہے ماں کہہ کر تم مجھے پکارو اور وہ اس کے ریشم ایسے ...

مزید پڑھیے

امید

زندگی تیرہ غار کے مانند اور میں روشنی کا شیدائی کانپتی اونگھتی سی دیواریں پتھروں پر سجی ہوئی کائی گیلی گیلی سیہ چٹانوں پر گرتی بوندوں کی نغمہ پیرائی تیرگی اور ہزار آوازیں دل رہین فریب تنہائی ہر قدم لغزشوں کا افسانہ ہر نفس وقف ناشکیبائی دور لیکن وہ نور کا نقطہ پیکر سیم گوں کی ...

مزید پڑھیے

دکھ میلے آکاش کا

دکھ کے روپ ہزاروں ہیں ہوا بھی دکھ اور آگ بھی دکھ ہے میں تیرا تو میرا دکھ ہے پر یہ میلے اور گہرے آکاش کا دکھ جو قطرہ قطرہ ٹپک رہا ہے اس دکھ کا کوئی انت نہیں ہے جب آکاش کا دل دکھتا ہے بچے بوڑھے شجر حجر چڑیاں اور کیڑے سب کے اندر دکھ اگتا ہے پھر یہ دکھ آنکھوں کے رستے گالوں پر بہنے لگتا ...

مزید پڑھیے

میں اور تو

اک البیلی پگڈنڈی ہے افتاں خیزاں گرتی پڑتی ندی کنارے اتری ہے ندی کنارے باہیں کھولے اک البیلا پیڑ کھڑا ہے پیڑ نے رستہ روک لیا ہے پگڈنڈی حیران کھڑی ہے جسم چرائے آنکھ جھکائے دائیں بائیں دیکھ رہی ہے جانے کب سے باہیں کھولے رستہ روکے پیڑ کھڑا ہے جانے کب سے جسم چرائے آنکھ جھکائے ...

مزید پڑھیے

تجھے بھی یاد تو ہوگا

کبھی ہوا اک جھونکا ہے جو دیواروں کو پھاند کے اکثر ہلکی سی ایک چاپ میں ڈھل کر صحن میں پھرتا رہتا ہے کبھی ہوا اک سرگوشی ہے جو کھڑکی سے لگ کر پہروں خود سے باتیں کرتی ہے کبھی ہوا وہ موج صبا ہے جس کے پہلے ہی بوسے پر ننھی منی کلیوں کی نندیا سے بوجھل سوجی آنکھیں کھل جاتی ہیں کبھی ...

مزید پڑھیے

سکتہ

اگر وہ مرحلہ آئے ہوا جب سانس لینا بھول جائے مسافر چلتے چلتے رک پڑے سوچے مجھے اب کون سی منزل کو جانا ہے پرندہ آسماں پر دائرہ در دائرہ اڑتا سفیدی کے مہا گرداب کے اندر اتر جائے مندی آنکھوں میں جب خوابوں کا اک موج ساگر ریت کی شکنوں میں ڈھل کر ریت ہو جائے اگر وہ مرحلہ آئے تو تم اپنی نظر ...

مزید پڑھیے

ہوا کہتی رہی آؤ

ہوا کہتی رہی آؤ چلو اس کھیت کو چھو لیں ادھر اس پیڑ کے پتوں میں چھپ کر تالیاں پیٹیں گریں اٹھیں لڑھک کر نہر میں اتریں نہائیں مخملیں سبزے پہ ننگے پاؤں چل کر دور تک جائیں ہوا کہتی رہی آؤ مگر میں خشک چھاگل اپنے دانتوں میں دبائے پیاس کی برہم سپہ سے لڑ رہا تھا میں کہاں جاتا مجھے سورج کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 67 سے 960