بھوت
مرے ہوؤں سے ڈرو نہیں یہ کہا تھا تم نے جو مر گئے وہ زمیں کے اندر اتر گئے ان مرے ہوؤں کی بھٹکتی پھرتی خوشی غمی کے عذاب سہتی نحیف روحوں سے ڈرنا کیسا کہا تھا تم نے نہیں میں ڈرتا نہیں ہوں ان سے بھٹکتی پھرتی زمیں کا چکر لگاتی روحوں سے خوف کیسا جو خود پتنگے کے کرب میں مبتلا ہوں ان سے کسی ...