شاعری

اگر میں چیخوں

اگر میں چیخوں میں اپنے دل کی تمام گہرائیوں سے چیخوں تو کائناتی نظام میں کیا خلل پڑے گا یہی کہ اندھے کنویں سے اک بازگشت ہوگی کہے گی کیوں تم کو کیا ہوا ہے؟ تمہی بڑے آئے ہو کہیں کے یہ آسمان و زمیں یہ سورج یہ چاند تارے تمام ماں باپ سارے اجداد شہر کے سب شریف زادے انہیں بھی دیکھو یہ سب ...

مزید پڑھیے

رات ہوئی

تم کو پا لینے کی دھن میں دنیا اوڑھی رنگ برنگے کپڑے پہنے پیشانی پر سورج باندھا آنگن بھر میں دھوپ بچھائی دیواروں پر سبزہ ڈالا پھولوں پتوں سے اپنی چوکھٹ رنگوائی موسم آئے موسم بیتے سورج نکلا دھوپ کھلی پھر دھوپ چڑھی پھر اور چڑھی پھر شام ہوئی پھر گہری کالی رات ہوئی

مزید پڑھیے

دنیا کو کہاں تک جانا ہے

دنیا کو کہاں تک جانا ہے یہ کتنا بڑا افسانہ ہے سب کان لگائے بیٹھے ہیں اور رات سرکتی جاتی ہے یہ رات کہاں تک جانی ہے کچھ اس کا اور و چھور نہیں یہ رات سمندر ہے جس میں آواز بہت ہے رونے کی بس دور تلک تاریکی ہے کچھ دور ذرا سی روشنیاں پھر تاریکی پھر روشنیاں یہ رات بلا کی مایا ہے جو کچھ کا ...

مزید پڑھیے

سانپ

سانپ لپیٹے گھوم رہا ہوں دنیا مجھ سے خوف زدہ ہے سب مجھ کو اچھے لگتے ہیں لیکن یوں ہے جس لڑکی کو چاہا میں نے جس لڑکے کو دوست بنایا جس گھر میں ماں باپ بنائے جس مسجد میں گھٹنے ٹیکے سب نے میرا سانپ ہی دیکھا مجھ کو کوئی دیکھ نہ پایا میں سب کو کیسے سمجھاؤں یہ دنیا کا سانپ نہیں ہے میرے ساتھ ...

مزید پڑھیے

شعر کہہ لینے کے بعد

جیسے تم کو چھو لیا ہے جیسے تم کو پا لیا ہے جیسے تم کو بول کر چپ ہو گیا ہوں ویسے یوں ہی شعر کہہ لینے کے بعد رات بھر میں دیکھتا ہوں دور تک وہ ماہتاب وہ گھنا گہرا گلاب

مزید پڑھیے

ہمواری

سورج میرے ایک پاؤں کا جوتا ہے دوسرے پاؤں کا جوتا چاند ان سے رات اور دنوں میں لنگڑاتا چلتا ہوں میں کاش میں اپنے دونوں جوتے ساتھ پہنتا پھر کتنے آرام سے چلتا

مزید پڑھیے

ترانۂ ریختہ

سر چڑھ کے بولتا ہے اردو زباں کا جادو ہندوستاں کی مٹی کے آسماں کا جادو ہندوستاں کا جادو سارے جہاں کا جادو سر چڑھ کے بولتا ہے اردو زباں کا جادو جپ‌ جاپ جوگیوں کا نعرہ قلندروں کا تہذیب محفلوں کی اور شور مے کدوں کا کوچے میں دلبروں کے ہنگامہ عاشقوں کا معشوق کی نگہ کے تیر و کماں کا ...

مزید پڑھیے

بچھڑے گھر کا سایہ

صبح سویرے وہ بستر سے سائے جیسی اٹھتی ہے پھر چولھے میں رات کی ٹھنڈی آگ کو روشن کرتی ہے اتنے میں دن چڑھ جاتا ہے جلدی جلدی چائے بنا کر شوہر کو رخصت کرتی ہے سیارے گردش کرتے ہیں شہر میں صحرا صحراؤں میں چٹیل میداں کہساروں کے نشیب و فراز بنا کرتے ہیں سارے گھر کو دھوتی ہے کپڑے تولیے ٹوتھ ...

مزید پڑھیے

بیضۂ نور

دور تک دور پھیلی ہوئی رات میں چاندنی میں نہایا ہوا ایک شیشے کا گھر بیضۂ نور اس کے دیوار و در تیز جاں سوز خوشبو کے پر سبز پتوں سے تر سرخ گہرے گلابوں سے بھیگے ہوئے اوس کی نرم سانسوں میں سینچے ہوئے دور تک دور پھیلی ہوئی رات میں چاندنی کا یہ گھر صبح تک رات بھر میرا ایمان ہے میرا امکان ...

مزید پڑھیے

نارسائی

ہزاروں پتوں پر تم کو خط لکھے ایک ایک جان پہچان والے سے پوچھتا پھرا ہوں جتنے منہ تھے اتنی باتیں جانے کون ہو؟ تم کو جانتا نہیں، پہچانتا بہت ہوں پتہ نہیں کون سے خواب میں کس تاریک لمحے میں بے چین بے نیند رات کی کون سی کروٹ میں اچانک روشنی سا تم کو دیکھا تھا تب سے تم سے محبت ہو گئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 678 سے 960