خبر مفقود ہے لیکن
خبر مفقود ہے لیکن لہو میں بھاگتی خواہش امیدوں کے ہرے ساحل پہ حیراں ہے اسے کشف سحر جو بھی ہوا سورج سے خالی ہے اسے جو راستے سونپے گئے تقسیم ہوتے زاویوں میں سانس لیتے ہیں کھلی آنکھوں میں روشن چاند تاروں کے چمکنے سے بہت پہلے غنیم وسعت داماں ہزاروں چاہ ڈھونڈھ لیتا ہے خبر مفقود ہے ...