شاعری

خبر مفقود ہے لیکن

خبر مفقود ہے لیکن لہو میں بھاگتی خواہش امیدوں کے ہرے ساحل پہ حیراں ہے اسے کشف سحر جو بھی ہوا سورج سے خالی ہے اسے جو راستے سونپے گئے تقسیم ہوتے زاویوں میں سانس لیتے ہیں کھلی آنکھوں میں روشن چاند تاروں کے چمکنے سے بہت پہلے غنیم وسعت داماں ہزاروں چاہ ڈھونڈھ لیتا ہے خبر مفقود ہے ...

مزید پڑھیے

مجھے کھول تازہ ہوا میں رکھ

یہ جو فصل فرقت عصر ہے اسے کاٹ بھی یہ جو دفتر غم زیست ہے اسے بند کر اسے بند کر کہ وہ بت فروش نہیں رہے جو اسیر تھے رخ دہر کے ترے روبرو ترے چار سو شب ہست و بود کی راہ میں ترے ہم قدم ترے آئنوں کی شکستگی کا بھرم لیے کوئی اور کب ہے مرے سوا کوئی اور کب تھا مرے بغیر مگر اے رہین دم الست مرے ...

مزید پڑھیے

سنہری دروازے کے باہر

لرزتے بدن رنگ کہرے میں لپٹے ہوئے ادھ مری روشنی کا کفن اوڑھ کر موت کی سر زمیں میں اجالوں پہ قربان ہونے سے پہلے بہت دیر تک اپنے احساس کی آنچ سہتے رہے شام نیم تاریک راہوں پہ ماتھا رگڑتی رہی کانپتی تھرتھراتی شب غم کے سانچے میں ڈھلنے سے پہلے بہت دیر تک سرد فانوس کے پاس ٹھہری ...

مزید پڑھیے

احساس

اگرچہ پتے بے شمار ہیں شجر تو ایک ہے جوانی میں اجلے دنوں کی سنہری دھوپ میں میرے پتے پھول گر گئے اب میں بھی سچ کی آغوش میں جذب ہونے کے لئے تیار ہوں

مزید پڑھیے

ایک پری آکاش سے اتری

ایک پری آکاش سے اتری نیلی رات کے سناٹے میں صبح ہوئی جب سورج نکلا اس نے دیکھا ٹوٹے درپن اندھی بستی سے غائب تھے گونگی بستی کے آنگن میں سوکھے پیڑ کی اک ڈالی پر ایک پپیہا بول رہا تھا

مزید پڑھیے

اور میں چپ رہا

میرے ہاتھوں سے میری چتا بن گئی میرے کاندھوں پہ میرا جنازہ اٹھا نوک مژگان سے قرطاس ایام پر میرے خوں سے مرا نام لکھا گیا اور میں چپ رہا میرے بازار کوچے مرے بام و در میری ناداریوں سے سجائے گئے میرے افکار میری متاع ہنر میری محرومیوں سے بسائے گئے اور میں چپ رہا میری تقدیر کا جو بھی ...

مزید پڑھیے

نیند کیوں نہیں آتی

رات خامشی لے کر جھولتی ہے پیڑوں پر دشت دشت ویراں ہیں روشنی کے ہنگامے تیرگی برستی ہے اونچے نیچے ٹیلوں پر نیند کیوں نہیں آتی میں اداس رہتا ہوں دن کے گرم میلے میں میں ملول رہتا ہوں شام کے جھمیلے میں میں شراب پی کر بھی ہوشیار رہتا ہوں جو بھی دل پہ لگ جائے میں وہ زخم سہتا ہوں سوچتا ہوں ...

مزید پڑھیے

یہ کیسی رت آ گئی جنوں کی

میں اپنی بیوی سے بات کرتے نپے تلے لفظ بولتا ہوں میں اپنے دفتر میں ساتھیوں سے لکھی ہوئی بات بولتا ہوں میں اپنے لخت جگر سے اکثر نظر ملانے سے کانپتا ہوں یہ کیسی فصل بہار آئی صبا سے خوشبو ڈری ہوئی ہے یہ کیسی رت آ گئی جنوں کی نسیم گلچیں سے مل گئی ہے

مزید پڑھیے

ایک نظم جنگلوں کے نام

زمین شعلے اگل رہی ہے فضا سے تیزاب گر رہا ہے زمین اگنی پہ لوٹتی ہے ہوائیں چہرہ بگاڑتی ہیں سنا تو تھا آج دیکھتے ہیں یہاں ہوائیں ہیں نار سیرت ازل سے لے کر ابد تلک بے قرار ہوں گی ہماری روحیں جنم جنم تک بھٹک بھٹک کر فنا فنا بے کراں تباہی کا نام لے کر نہ پیڑ ہوں گے نہ قمریوں کے سریلے ...

مزید پڑھیے

بچپن

جب ہلکی پھلکی باتوں سے نغموں کی طنابیں بنتی تھیں جب چھوٹے چھوٹے لفظوں سے افکار کی شمعیں جلتی تھیں ہر چہرہ اپنا چہرہ تھا ہر درپن اپنا درپن تھا جو گھر تھا ہمارا ہی گھر تھا ہر آنگن اپنا آنگن تھا جو بات لبوں تک آتی تھی وہ دل سے نہیں کر آتی تھی کانوں میں امرت بھرتی تھی اور دل کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 663 سے 960