شاعری

ننھی جا سو جا

جب دیکھو تو پاس کھڑی ہے ننھی جا سو جا تجھے بلاتی ہے سپنوں کی نگری جا سو جا غصے سے کیوں گھور رہی ہے میں آ جاؤں گا کہہ جو دیا ہے تیرے لیے اک گڑیا لاؤں گا گئی نہ ضد کرنے کی عادت تیری جا سو جا ننھی جا سو جا ان کالے دروازوں سے مت لگ کے دیکھ مجھے اڑ جاتی ہے نیند آنکھوں سے پا کر پاس ...

مزید پڑھیے

سچ ہی لکھتے جانا

دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا مت گھبرانا مت ڈر جانا سچ ہی لکھتے جانا باطل کی منہ زور ہوا سے جو نہ کبھی بجھ پائیں وہ شمعیں روشن کر جانا سچ ہی لکھتے جانا پل دو پل کے عیش کی خاطر کیا دینا کیا جھکنا آخر سب کو ہے مر جانا سچ ہی لکھتے جانا لوح جہاں پر نام تمہارا لکھا رہے گا یوں ...

مزید پڑھیے

شہر ظلمات کو ثبات نہیں

اے نظام کہن کے فرزندو اے شب تار کے جگر بندو یہ شب تار جاوداں تو نہیں یہ شب تار جانے والی ہے تا بہ کے تیرگی کے افسانے صبح نو مسکرانے والی ہے اے شب تار کے جگر گوشو اے سحر دشمنو ستم گوشو صبح کا آفتاب چمکے گا ٹوٹ جائے گا جہل کا جادو پھیل جائے گی ان دیاروں میں علم و دانش کی روشنی ہر ...

مزید پڑھیے

عہد سزا

یہ ایک عہد سزا ہے جزا کی بات نہ کر دعا سے ہاتھ اٹھا رکھ دوا کی بات نہ کر خدا کے نام پہ ظالم نہیں یہ ظلم روا مجھے جو چاہے سزا دے خدا کی بات نہ کر حیات اب تو انہیں محبسوں میں گزرے گی ستم گروں سے کوئی التجا کی بات نہ کر انہی کے ہاتھ میں پتھر ہیں جن کو پیار کیا یہ دیکھ حشر ہمارا وفا کی بات ...

مزید پڑھیے

مستقبل

تیرے لئے میں کیا کیا صدمے سہتا ہوں سنگینوں کے راج میں بھی سچ کہتا ہوں میری راہ میں مصلحتوں کے پھول بھی ہیں تیری خاطر کانٹے چنتا رہوں گا تو آئے گا اسی آس پہ جھوم رہا ہے دل دیکھ اے مستقبل اک اک کر کے سارے ساتھی چھوڑ گئے مجھ سے میرے رہبر بھی منہ موڑ گئے سوچتا ہوں بے کار گلہ ہے غیروں ...

مزید پڑھیے

تیز چلو

یہ کہہ رہا ہے دل بے قرار تیز چلو بہت اداس ہیں زنجیر و دار تیز چلو جو تھک گئے ہیں انہیں گرد راہ رہنے دو کسی کا اب نہ کرو انتظار تیز چلو خزاں کی شام کہاں تک رہے گی سایہ فگن بہت قریب ہے صبح بہار تیز چلو تمہی سے خوف زدہ ہیں زمین و زر والے تمہی ہو چشم ستم گر پہ بار تیز چلو کرو خلوص و محبت ...

مزید پڑھیے

اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو

جینے کا حق سامراج نے چھین لیا اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو ذلت کے جینے سے مرنا بہتر ہے مٹ جاؤ یا قصر ستم پامال کرو سامراج کے دوست ہمارے دشمن ہیں انہی سے آنسو آہیں آنگن آنگن ہیں انہی سے قتل عام ہوا آشاؤں کا انہی سے ویراں امیدوں کا گلشن ہے بھوک ننگ سب دین انہی کی ہے لوگو بھول کے بھی ...

مزید پڑھیے

عورت

بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا دیوار ہے وہ اب تک جس میں تجھے چنوایا دیوار کو آ توڑیں بازار کو آ ڈھائیں انصاف کی خاطر ہم سڑکوں پہ نکل آئیں مجبور کے سر پر ہے شاہی کا وہی سایا بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا تقدیر کے قدموں پر سر رکھ کے پڑے رہنا تائید ستم گر ہے چپ رہ کے ستم ...

مزید پڑھیے

مشیر

میں نے اس سے یہ کہا یہ جو دس کروڑ ہیں جہل کا نچوڑ ہیں ان کی فکر سو گئی ہر امید کی کرن ظلمتوں میں کھو گئی یہ خبر درست ہے ان کی موت ہو گئی بے شعور لوگ ہیں زندگی کا روگ ہیں اور تیرے پاس ہے ان کے درد کی دوا میں نے اس سے یہ کہا تو خدا کا نور ہے عقل ہے شعور ہے قوم تیرے ساتھ ہے تیرے ہی وجود ...

مزید پڑھیے

اپنی جنگ رہے گی

جب تک چند لٹیرے اس دھرتی کو گھیرے ہیں اپنی جنگ رہے گی اہل ہوس نے جب تک اپنے دام بکھیرے ہیں اپنی جنگ رہے گی مغرب کے چہرے پر یارو اپنے خون کی لالی ہے لیکن اب اس کے سورج کی ناؤ ڈوبنے والی ہے مشرق کی تقدیر میں جب تک غم کے اندھیرے ہیں اپنی جنگ رہے گی ظلم کہیں بھی ہو ہم اس کا سر خم کرتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 626 سے 960