شاعری

صحافی سے

قوم کی بہتری کا چھوڑ خیال فکر تعمیر ملک دل سے نکال تیرا پرچم ہے تیرا دست سوال بے ضمیری کا اور کیا ہو مآل اب قلم سے ازار بند ہی ڈال تنگ کر دے غریب پر یہ زمیں خم ہی رکھ آستان زر پہ جبیں عیب کا دور ہے ہنر کا نہیں آج حسن کمال کو ہے زوال اب قلم سے ازار بند ہی ڈال کیوں یہاں صبح نو کی بات ...

مزید پڑھیے

نورؔجہاں

ہجوم یاس میں جوت آس کی تری آواز ہم اہل درد کی ہے زندگی تری آواز لبوں پہ کھلتے رہیں پھول شعر و نغمہ کے فضا میں رنگ بکھیرے یونہی تری آواز دیار دیدۂ و دل میں ہے روشنی تجھ سے ہے چہرہ چاند مدھر چاندنی تری آواز ہو ناز کیوں نہ مقدر پہ اپنے نورؔجہاں تجھے قریب سے دیکھا سنی تری آواز نہ مٹ ...

مزید پڑھیے

کافی ہاؤس

دن بھر کافی ہاؤس میں بیٹھے کچھ دبلے پتلے نقاد بحث یہی کرتے رہتے ہیں سست ادب کی ہے رفتار صرف ادب کے غم میں غلطاں چلنے پھرنے سے لاچار چہروں سے ظاہر ہوتا ہے جیسے برسوں کے بیمار اردو ادب میں ڈھائی ہیں شاعر میرؔ و غالبؔ آدھا جوشؔ یا اک آدھ کسی کا مصرعہ یا اقبالؔ کے چند اشعار یا پھر نظم ...

مزید پڑھیے

سلام لوگو

سلام اے دل فگار لوگو سلام اے اشک بار لوگو تمہی نے اپنا وطن بچایا تمہی نے باطل کا سر جھکایا بجھا کے شمع حیات اپنی وفا کی راہوں کو جگمگایا مگر یہ دل رو کے کہہ رہا ہے لہو تمہارا نہ رنگ لایا وہی ہے شب کا حصار لوگو سلام اے اشک بار لوگو گلوں کی وادی لہو لہو ہے فغاں کی آواز چار سو ...

مزید پڑھیے

لائل پور

لائل پور اک شہر ہے جس میں دل ہے مرا آباد دھڑکن دھڑکن ساتھ رہے گی اس بستی کی یاد میٹھے بولوں کی وہ نگری گیتوں کا سنسار ہنستے بستے ہائے وہ رستے نغمہ ریز دیار وہ گلیاں وہ پھول وہ کلیاں رنگ بھرے بازار میں نے ان گلیوں پھولوں کلیوں سے کیا ہے پیار برگ آوارہ میں بکھری ہے جس کی روداد لائل ...

مزید پڑھیے

ملکۂ ترنم نور جہاں کی نذر

نغمہ بھی ہے اداس تو سر بھی ہے بے اماں رہنے دو کچھ تو نور اندھیروں کے درمیاں اک عمر جس نے چین دیا اس جہان کو لینے دو سکھ کا سانس اسے بھی سر جہاں تیار کون ہے جو مجھے بازوؤں میں لے اک یہ نوا نہ ہو تو کہو جاؤں میں کہاں اگلے جہاں سے مجھ کو یہی اختلاف ہے یہ صورتیں یہ گیت صدائیں کہاں ...

مزید پڑھیے

ممتاز

قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو اپنے ہونٹوں کی خوشبو لٹانے چلو گیت گانے چلو ورنہ تھانے چلو منتظر ہیں تمہارے شکاری وہاں کیف کا ہے سماں اپنے جلووں سے محفل سجانے چلو مسکرانے چلو ورنہ تھانے چلو حاکموں کو بہت تم پسند آئی ہو ذہن پر چھائی ہو جسم کی لو سے شمعیں ...

مزید پڑھیے

ریفرنڈم

شہر میں ہو کا عالم تھا جن تھا یا ریفرنڈم تھا قید تھے دیواروں میں لوگ باہر شور بہت کم تھا کچھ با ریش سے چہرے تھے اور ایمان کا ماتم تھا مرحومین شریک ہوئے سچائی کا چہلم تھا دن انیس دسمبر کا بے معنی بے ہنگم تھا یا وعدہ تھا حاکم کا یا اخباری کالم تھا

مزید پڑھیے

حسب فرمائش

میں تجھے پھول کہوں اور کہوں بھنوروں سے آؤ اس پھول کا رس چوس کے ناچو‌‌ جھومو میں تجھے شمع کہوں اور کہوں پروانو آؤ اس شمع کے ہونٹوں کو خوشی سے چومو میں تری آنکھ کو تشبیہ دوں میخانے سے اور خود زہر جدائی کا طلب گار رہوں غیر سوئے تری زلفوں کی گھنی چھاؤں میں اور میں چاندنی راتوں میں ...

مزید پڑھیے

میری بچی

میری بچی میں آؤں نہ آؤں آنے والا زمانہ ہے تیرا تیرے ننھے سے دل کو دکھوں نے میں نے مانا کہ ہے آج گھیرا آنے والا زمانہ ہے تیرا تیری آشا کی بگیا کھلے گی چاند کی تجھ کو گڑیا ملے گی تیری آنکھوں میں آنسو نہ ہوں گے ختم ہوگا ستم کا اندھیرا آنے والا زمانہ ہے تیرا درد کی رات ہے کوئی دم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 625 سے 960