صحافی سے
قوم کی بہتری کا چھوڑ خیال فکر تعمیر ملک دل سے نکال تیرا پرچم ہے تیرا دست سوال بے ضمیری کا اور کیا ہو مآل اب قلم سے ازار بند ہی ڈال تنگ کر دے غریب پر یہ زمیں خم ہی رکھ آستان زر پہ جبیں عیب کا دور ہے ہنر کا نہیں آج حسن کمال کو ہے زوال اب قلم سے ازار بند ہی ڈال کیوں یہاں صبح نو کی بات ...