شاعری

جھلسی سی اک بستی میں

ہاں دیکھا کل ہم نے اس کو دیکھنے کا جسے ارماں تھا وہ جو اپنے شہر سے آگے قریۂ باغ و بہاراں تھا سوچ رہا ہوں جنگ سے پہلے، جھلسی سی اس بستی میں کیسا کیسا گھر کا مالک، کیسا کیسا مہماں تھا سب گلیوں میں ترنجن تھے اور ہر ترنجن میں سکھیاں تھیں سب کے جی میں آنے والی کل کا شوق فراواں ...

مزید پڑھیے

اس بستی کے اک کوچے میں

اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا اک نار پہ جان کو ہار گیا مشہور ہے اس کا افسانا اس نار میں ایسا روپ نہ تھا جس روپ سے دن کی دھوپ دبے اس شہر میں کیا کیا گوری ہے مہتاب رخے گلنار لبے کچھ بات تھی اس کی باتوں میں کچھ بھید تھے اس کی چتون میں وہی بھید کہ جوت جگاتے ہیں کسی چاہنے ...

مزید پڑھیے

سب مایا ہے

سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے جو تم نے کہا ہے، فیضؔ نے جو فرمایا ہے سب مایا ہے ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے سب مایا ہے اک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیں جب دیکھ ...

مزید پڑھیے

چاند کے تمنائی

شہر دل کی گلیوں میں شام سے بھٹکتے ہیں چاند کے تمنائی بے قرار سودائی دل گداز تاریکی جاں گداز تنہائی روح و جاں کو ڈستی ہے روح و جاں میں بستی ہے شہر دل کی گلیوں میں تاک شب کی بیلوں پر شبنمیں سرشکوں کی بے قرار لوگوں نے بے شمار لوگوں نے یادگار چھوڑی ہے اتنی بات تھوڑی ہے صد ہزار باتیں ...

مزید پڑھیے

کیا دھوکا دینے آؤگی

ہم بنجارے دل والے ہیں اور پینٹھ میں ڈیرے ڈالے ہیں تم دھوکا دینے والی ہو؟ ہم دھوکا کھانے والے ہیں اس میں تو نہیں شرماؤ گی؟ کیا دھوکا دینے آؤگی؟ سب مال نکالو، لے آؤ اے بستی والو لے آؤ یہ تن کا جھوٹا جادو بھی یہ من کی جھوٹی خوشبو بھی یہ تال بناتے آنسو بھی یہ جال بچھاتے گیسو بھی یہ ...

مزید پڑھیے

کچھ دے اسے رخصت کر

کچھ دے اسے رخصت کر کیوں آنکھ جھکا لی ہے ہاں در پہ ترے مولا! انشاؔ بھی سوالی ہے اس بات پہ کیوں اس کی اتنا بھی حجاب آئے فریاد سے بے بہرہ کشکول سے خالی ہے شاعر ہے تو ادنیٰ ہے، عاشق ہے تو رسوا ہے کس بات میں اچھا ہے کس وصف میں عالی ہے کس دین کا مرشد ہے، کس کیش کا موجد ہے کس شہر کا شحنہ ...

مزید پڑھیے

فرض کرو

فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈھے ہم نے بہانے ہوں فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے مے خانے ہوں فرض کرو یہ ...

مزید پڑھیے

ایک لڑکا

ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہوا جی مچلتا تھا ایک ایک شے پر جیب خالی تھی کچھ مول لے نہ سکا لوٹ آیا لیے حسرتیں سینکڑوں ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے آج میلہ لگا ہے اسی شان سے آج چاہوں تو اک اک دکاں مول لوں آج چاہوں تو ...

مزید پڑھیے

یہ سرائے ہے

یہ سرائے ہے یہاں کس کا ٹھکانا ڈھونڈو یاں تو آتے ہیں مسافر سو چلے جاتے ہیں ہاں یہی نام تھا کچھ ایسا ہی چہرا مہرا یاد پڑتا ہے کہ آیا تھا مسافر کوئی سونے آنگن میں پھرا کرتا تھا تنہا تنہا کتنی گہری تھی نگاہوں کی اداسی اس کی لوگ کہتے تھے کہ ہوگا کوئی آسیب زدہ ہم نے ایسی بھی کوئی بات نہ ...

مزید پڑھیے

ایک بار کہو تم میری ہو

ہم گھوم چکے بستی بن میں اک آس کی پھانس لیے من میں کوئی ساجن ہو کوئی پیارا ہو کوئی دیپک ہو، کوئی تارا ہو جب جیون رات اندھیری ہو اک بار کہو تم میری ہو جب ساون بادل چھائے ہوں جب پھاگن پھول کھلائے ہوں جب چندا روپ لٹاتا ہو جب سورج دھوپ نہاتا ہو یا شام نے بستی گھیری ہو اک بار کہو تم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 599 سے 960