اے مرے سوچ نگر کی رانی
تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیے وقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہے اے مرے سوچ نگر کی رانی اے مرے خلد خیال کی حور اتنے دنوں جو میں گھلتا رہا ہوں تیرے بنا یونہی دور ہی دور سوچ تو کیا پھل مجھ کو ملا میں من سے گیا پھر تن سے گیا شہر وطن میں اجنبی ٹھہرا آخر شہر ...