شاعری

یہ سرائے ہے

یہ سرائے ہے یہاں کس کا ٹھکانا ڈھونڈو یاں تو آتے ہیں مسافر سو چلے جاتے ہیں ہاں یہی نام تھا کچھ ایسا ہی چہرہ مہرہ یاد پڑتا ہے کہ آیا تھا مسافر کوئی سونے آنگن میں پھرا کرتا تھا تنہا تنہا کتنی گہری تھی نگاہوں کی اداسی اس کی لوگ کہتے تھے کہ ہوگا کوئی آسیب زدہ ہم نے ایسی بھی کوئی بات ...

مزید پڑھیے

سائبان

میں خزاں میں گرفتار ہوں دیکھو خوابیدہ موجوں خریدار روحوں امڈتے سمٹتے زمانوں سے ارض و سما کی سیاہی کا دامن نچوڑا ہے لیکن ہواؤں کے وہم و گماں میں نہیں کون سی خاک سے قطرۂ آب تابندہ موتی کی آغوش لیتا ہے خواہش سے باہر نہ آؤں مری ابتدا انتہا آج سمندر کی سلوٹ میں تابندگی ہے سمندر کو ...

مزید پڑھیے

دھند

روشن روشن روشن آنکھیں یوں مرکوز ہوئی ہیں جیسے میں ہی میں ہوں مجھ میں لا تعداد فسانے اور معانی ہیں میں صد ہا اسرار چھپائے پھرتا ہوں میں خوش قسمت ہوں میرے ساتھ جہان رنگ و رعنائی ہے اور دریچہ بند نہاں خانوں سے روح یزداں کی خوشبو اٹھتی ہے میرا سر و مشام معطر کرتی ہے اور مری تقدیر ...

مزید پڑھیے

چومتا پانی، پانی پانی

پھٹتے ارادے یقین مصیبت پاؤں دھلائے چشمہ کہ ہونٹ شبیہ لعاب میسر رات انوکھا سانحہ ہو جائے گا میلے کنول کے پھول ڈبوتا لپٹ لپٹ کر چومتا پانی، پانی پانی ندامت سے مغلوب خرابی: مد و جزر موجود طبیعت کا تخریب تماشہ مراجعت آنکھوں سے اوجھل چھوتی بہاتی بے ترتیب عذاب ہے ہری بھری بے چارگی ...

مزید پڑھیے

نظم

میرے ان کاکل برہم کی حکایت مت پوچھ آہ اس نالۂ پیہم کی حقیقت مت پوچھ دیکھ لے چشم بصیرت سے زمانے کا نظام مجھ سے اے دوست مرے غم کی صداقت مت پوچھ لب رنگیں کا وہ اعجاز کہاں سے لاؤں ساز خاموش میں آواز کہاں سے لاؤں داستان دل برباد سناؤں کیسے مجھ پہ گزری ہے جو افتاد سناؤں کیسے آتش غم سے ...

مزید پڑھیے

آج کا اخبار

دروازے پہ کھٹ سے ہوئی اک آواز اور میں چونک گئی ضرور ہوگا آج کا اخبار دروازہ کھول کر دیکھا میرا اندازہ سہی نہیں تھا وہاں اخبار پڑا نہیں تھا وہاں تھا آگ کا ایک گولا اس میں لپٹی تھیں چند مسلی ہوئی معصوم کلیاں کچھ گندی تنگ گلیاں بھوک کا سوز اور کچھ ذخیرہ‌ اندوز بے روزگاری کا ...

مزید پڑھیے

پہنائی

چھ ہزار برسوں سے اہل دین و دانش نے بار بار کوشش کی بار بار کوشش کی تاکہ سامنے والی اس خموش کھائی پر کوئی پل بنا سکتے کوئی پل بنا سکتے اس خموش کھائی پر جس کی ایک جانب کو روز آفرینش سے حیرت اور دہشت میں دم بخود ہیں استادہ کچھ شعور کے ٹیلے ہر انا کے ٹیلے سے لا انا کی اک ڈھلوان اک ...

مزید پڑھیے

ٹیپو سلطان

نظر سے آج جو گزری ہیں چند تصویریں وہ دل پہ نقش ہیں جیسے لہو کی تحریریں بسی ہے جنگ سرنگا پٹام آنکھوں میں کسی شہید پہ سایہ کئے ہیں شمشیریں غلام قوم تجھے کچھ حیا بھی آتی ہے ہیں تیرے چاند یہ خاک افگنی کی تدبیریں ترا چراغ سر شام بجھ گیا لیکن سحر کے بھیس میں پھیلیں گی اس کی ...

مزید پڑھیے

تلاطم

دل آج بہت گھبراتا ہے دل آج بہت گھبراتا ہے طوفان و تلاطم کے پالے گرداب سنبھالے ہیں مجھ کو اک راحت جاں ہمدم کی طرح کچھ خواب سنبھالے ہیں مجھ کو یوں میرے غموں کے سنجیدہ آداب سنبھالے ہیں مجھ کو اور میری تباہی پر خنداں احباب سنبھالے ہیں مجھ کو ہر زخم جگر سمجھاتا ہے دل آج بہت گھبراتا ...

مزید پڑھیے

ایک مختلف کہانی

جولی کتنی بھولی تھی جب اس نے اظہار کیا تھا اپنے اندر کی خواہش کا اس چھوٹے سے شہر کے سارے لوگوں نے اس پر تھوکا تھا چرچ کے فادر نے اس کو انجیل مقدس کے ورقوں سے پڑھ کے سنایا عورت نسل انسانی کی خاطر دنیا میں آئی ہے اس کے اندر کی خواہش تو ایک گنہ ہے یہ تو کافی سال پرانا قصہ ہے اب جولی تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 600 سے 960