یہ سرائے ہے
یہ سرائے ہے یہاں کس کا ٹھکانا ڈھونڈو یاں تو آتے ہیں مسافر سو چلے جاتے ہیں ہاں یہی نام تھا کچھ ایسا ہی چہرہ مہرہ یاد پڑتا ہے کہ آیا تھا مسافر کوئی سونے آنگن میں پھرا کرتا تھا تنہا تنہا کتنی گہری تھی نگاہوں کی اداسی اس کی لوگ کہتے تھے کہ ہوگا کوئی آسیب زدہ ہم نے ایسی بھی کوئی بات ...