شاعری

نسب نامہ

میں اور آدم وہاں پرانے پیڑ کے نیچے روز اکٹھا ہوتے تھے وہ لکڑی سے پہیے اور شہتیر بنایا کرتا تھا میں پیڑوں اور پھولوں سے رنگ کشید کیا کرتی تھی پھر ہم دونوں نے مل کر اک پیشہ ایجاد کیا اور ایک قبیلہ جنم دیا جب سے اب تک ہم کو ایک نسب نامے کی ضرورت ہے

مزید پڑھیے

محبت کی بات

چلو محبت کی بات کریں اب میلے جسموں سے اوپر اٹھ کر بھولتے ہوئے کہ کبھی گھٹنے ٹیک چکے ہیں ہم اور دیکھ چکے ہیں اپنی روح کو تار تار ہوتے جھوٹے فخر کے ساتھ چلو محبت کی بات کریں زندگی کے پیروں تلے بے رحمی سے روندے جانے کے بعد مرہم لگائیں زخمی وجود پر جو شرم سے آنکھیں جھکا کر بیٹھا ہے ...

مزید پڑھیے

سوکھے ہونٹ

سوکھے ہونٹ جب پیاس کی زبان میں بات کرتے ہیں تو امید کی شاخ پر آتی ہے پہلی پتی ہوتا ہے پہلی بار محبت سننے جیسا احساس سوکھے ہوئے ہونٹ مسکراہٹ میں بادل کی طرح پھٹ جاتے ہیں تہس نہس ہو جاتا ہے لفظوں کا شہر نہیں سنائی دیتی جسم کی پکار اپنا سا کوئی پھیل جاتا ہے آسمان سے زمین تک چھونے کی ...

مزید پڑھیے

چراغ

نہ دوستی نہ دشمنی میرا کام تو ہے روشنی میں راستے کا چراغ ہوں کہو سرپھری ہواؤں سے نہ چلیں ٹھمک‌ اداؤں سے کبھی پھر کروں گا محبتیں ابھی سامنے ہیں ظلمتیں یہ اندھیرا پہلے نوچ لوں کوئی چال اگلی سوچ لوں میں گم ہوں اپنے خیال میں یہ جان لو کہ اس لمحے میں دل نہیں دماغ ہوں میں راستے کا چراغ ...

مزید پڑھیے

ایک مہینہ نظموں کا

الفاظوں کا ایک خزانہ میرے پاس اور خوابوں کی ایک پٹاری تیرے پاس میں تیرے خوابوں کا کوئی نام دھروں تم میرے لفظوں میں خواب پرو دینا تاکہ ہم اس لین دین میں بھول سکیں تنہائی میں چپکے چپکے رو دینا میں نے تیرے ایک خواب کو بچپن لکھا جس میں تم نے خود کو بڑھیا پایا تھا اور کوئی تم سے بھی اک ...

مزید پڑھیے

ہوگا یوں ہی

میں تمہیں ایک خط لکھوں گا مگر اسے ڈاک میں نہیں ڈالوں گا میں بناؤں گا اس کی ایک ناؤ جس پہ سوار کر کے اپنی سوچ ٹھیل دوں گا برسات کے پانی میں تمہاری اور تم بھی ایک خط لکھنا جوابی مگر اسے ڈاک میں مت ڈال دینا ناؤ پہنچنے سے پہلے ہی جب ڈوب جائے گی تم تک نہیں پہنچ پائے گی میری سوچ تم ...

مزید پڑھیے

لبیک

سناٹوں کا شب خوں ہے ہوا کے نٹکھٹ تاروں پر دور کہیں کچھ آوازوں کی سرگوشی ہے یہ نافہم صدائیں کبھی مدھر سا رے گا ما پا دھا نی سا ہیں کبھی پگھلتا سیسہ ہیں چاروں جانب سیل ہوا ہے مگر خلا ہے خوشبو رنگ نہ تارے میں تشنہ گوش عدم سماعت کے مارے ہیں دھندلے خواب دیکھنے کی چاہت میں ہارے ...

مزید پڑھیے

مرگ گل سے پیشتر

سب دریچے بند ہیں تم کچھ کہو تم سمجھتے ہو گریباں چاک ہوں میں تو اندوہ سماعت کے جراثیموں سے بالکل پاک ہوں نالۂ بیباک ہوں سب دریچے بند ہیں تم کچھ کہو تم سمجھتے ہو کہ بینائی گئی بجھ گیا ہر روزن دیوار چپ ہے روشنی نیم وا ہے تیرگی یہ شگفت غنچہ لب کی صدا وہ حسیں قوس قزح رنگیں قبا دھڑکنوں ...

مزید پڑھیے

رواں ہوں میں

رواں ہوں میں اور اس روانی میں عہد در عہد کی جراحت نما بصارت کی خاک کا وہ بھنور ہے جس میں مرے شب و روز کا غبار سیہ مرے سنگ گھومتا ہے رواں ہوں میں اور خود پہ اور سب پہ ہنس رہا ہوں کہ میری مانند ہم سبھی وقت کی کھڑی سائیکل کا گردش پذیر پہیہ ہیں نا مسافت نو رو گرداں کہ نارسائی کے خشت ...

مزید پڑھیے

مزاحمتوں کے عہد‌ نگار

ان سے کہنا کہ وہ اپنی اس جنگ میں اب اکیلے نہیں آج کی جنگ سب کی ہے اور سارے وقتوں کی ہے اپنے اپنے محاذوں کی دہلیز پر ہم بھی مورچہ بند اور صف بہ صف ان کے ہم دوش ہیں ہم کہ خاموش ہیں ہم کہ خاموش ہیں کیتلی کا تلاطم نہیں چیخنے کے ہنر شناسا نہیں بے محل حلق بازوں اندھیرے کے عف عف زنوں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 589 سے 960