شاعری

درخت زرد

نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگی وہ کن خوابوں سے جانے آشنا نا آشنا ہوگی تمہارے دل کے اس دنیا سے کیسے سلسلے ہوں گے تمہیں کیسے گماں ہوں گے تمہیں کیسے گلے ہوں گے تمہاری صبح جانے کن خیالوں سے نہاتی ہو تمہاری شام جانے کن ملالوں سے نبھاتی ہو نہ جانے کون دوشیزہ تمہاری زندگی ...

مزید پڑھیے

بس ایک اندازہ

برس گزرے تمہیں سوئے ہوئے اٹھ جاؤ سنتی ہو اب اٹھ جاؤ میں آیا ہوں میں اندازے سے سمجھا ہوں یہاں سوئی ہوئی ہو تم یہاں روئے زمیں کے اس مقام آسمانی تر کی حد میں باد ہائے تند نے میرے لیے بس ایک اندازہ ہی چھوڑا ہے!

مزید پڑھیے

سفر کے وقت

تمہاری یاد مرے دل کا داغ ہے لیکن سفر کے وقت تو بے طرح یاد آتی ہو برس برس کی ہو عادت کا جب حساب تو پھر بہت ستاتی ہو جانم بہت ستاتی ہو میں بھول جاؤں مگر کیسے بھول جاؤں بھلا عذاب جاں کی حقیقت کا اپنی افسانہ مرے سفر کے وہ لمحے تمہاری پر حالی وہ بات بات مجھے بار بار سمجھانا یہ پانچ ...

مزید پڑھیے

رمز

تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھے میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن مژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتا زندگی میں کبھی آرام ...

مزید پڑھیے

تعاقب

مجھ سے پہلے کے دن اب بہت یاد آنے لگے ہیں تمہیں خواب و تعبیر کے گم شدہ سلسلے بار بار اب ستانے لگے ہیں تمہیں دکھ جو پہنچے تھے تم سے کسی کو کبھی دیر تک اب جگانے لگے ہیں تمہیں اب بہت یاد آنے لگے ہیں تمہیں اپنے وہ عہد و پیماں جو مجھ سے نہ تھے کیا تمہیں مجھ سے اب کچھ بھی کہنا نہیں

مزید پڑھیے

بولتا کیوں نہیں

تو نے کیوں اپنے گالوں پہ سرسوں ملی تو نے کیوں اپنی آنکھوں میں چونا بھرا تیری گویائی کس دشت کے بھیڑیے لے گئے بولتا کیوں نہیں بولتا کیوں نہیں طفل معصوم تو کب سے بیمار ہے کیسا آزار ہے جس نے تیری شبوں سے تری نیند تیرے دنوں سے کھلونے چرائے تو سویا نہیں ہے مگر جاگتا کیوں نہیں دیکھتا ...

مزید پڑھیے

ایک غیر علامتی نظم

ادھوری لڑکیو تم اپنے کمروں میں پرانے سال کے بوسیدہ کلینڈر سجا کر سوچتی ہو یہ بدن عمروں کی سازش میں نہ آئیں گے تمہیں کس نے بتایا ہے گھڑی کی سوئیوں کو روکنے سے دوڑتا اور ہانپتا سورج مثال نقش پا افلاک پر جم جائے گا تمہیں معلوم ہے عریانیوں کو ڈھانپ کر تم اور عریاں ہو رہی ہو روز ان ...

مزید پڑھیے

ہم کہ ہیرو نہیں

ہم خزاں کی غدود سے چل کر خود دسمبر کی کوکھ تک آئے ہم کو فٹ پاتھ پر حیات ملی ہم پتنگوں پہ لیٹ کر روئے سورجوں نے ہمارے ہونٹوں پر اپنے ہونٹوں کا شہد ٹپکایا اور ہماری شکم تسلی کو جون کی چھاتیوں میں دودھ آیا برف بستر بنی ہمارے لیے اور دوزخ کے سرخ ریشم سے ہم نے اپنے لیے لحاف بنے زرد ...

مزید پڑھیے

تم کہو تو کہوں

حرف کے تار میں جتنے آنسو پروئے گئے درد ان سے فزوں تھا سنو تو کہوں تم کہو تو کہوں ظرف کی داستاں کھیتیوں کو گلہ بادلوں سے نہیں سورجوں سے بھی تھا بازووں سے بھی تھا ہل پکڑنے سے پہلے ہی جو تھک گئے کشت زرخیز پر آب نمکین جم سا گیا رقص تھم سا گیا ایڑیاں گھومتے گھومتے رک گئیں اشک رخسار کی ...

مزید پڑھیے

برف کے شہر کی ویران گذر گاہوں پر

برف کے شہر کی ویران گزر گاہوں پر میرے ہی نقش قدم میرے سپاہی ہیں مرا حوصلہ ہیں زندگیاں اپنے گناہوں کی پنہ گاہوں میں ہیں رقص کناں روشنیاں بند دروازوں کی درزوں سے ٹپکتی ہوئی قطرہ قطرہ شب کی دہلیز پہ گرتی ہیں کبھی کوئی مدہوش سی لے جامہ مے اوڑھ کے آتی ہے گزر جاتی ہے رات کچھ اور بپھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 560 سے 960