درخت زرد
نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگی وہ کن خوابوں سے جانے آشنا نا آشنا ہوگی تمہارے دل کے اس دنیا سے کیسے سلسلے ہوں گے تمہیں کیسے گماں ہوں گے تمہیں کیسے گلے ہوں گے تمہاری صبح جانے کن خیالوں سے نہاتی ہو تمہاری شام جانے کن ملالوں سے نبھاتی ہو نہ جانے کون دوشیزہ تمہاری زندگی ...