شاعری

ابن مریم

تم خدا ہو خدا کے بیٹے ہو یا فقط امن کے پیمبر ہو یا کسی کا حسیں تخیل ہو جو بھی ہو مجھ کو اچھے لگتے ہو مجھ کو سچے لگتے ہو اس ستارے میں جس میں صدیوں کے جھوٹ اور کذب کا اندھیرا ہے اس ستارے میں جس کو ہر رخ سے رینگتی سرحدوں نے گھیرا ہے اس ستارے میں جس کی آبادی امن بوتی ہے جنگ کاٹتی ہے رات ...

مزید پڑھیے

شام

مست گھٹا منڈلائی ہوئی ہے باغ پہ مستی چھائی ہوئی ہے جھوم رہی ہیں آم کی شاخیں نیند سی جیسے آئی ہوئی ہے بولتا ہے رہ رہ کے پپیہا برق سی اک لہرائی ہوئی ہے لہکے ہوئے ہیں پھول شفق کے آتش تر چھلکائی ہوئی ہے شعر مرے بن بن کے ہویدا قوس کی ہر انگڑائی ہوئی ہے رینگتے ہیں خاموش ترانے موج ہوا بل ...

مزید پڑھیے

دائرہ

روز بڑھتا ہوں جہاں سے آگے پھر وہیں لوٹ کے آ جاتا ہوں بارہا توڑ چکا ہوں جن کو انہیں دیواروں سے ٹکراتا ہوں روز بستے ہیں کئی شہر نئے روز دھرتی میں سما جاتے ہیں زلزلوں میں تھی ذرا سی گرمی وہ بھی اب روز ہی آ جاتے ہیں جسم سے روح تلک ریت ہی ریت نہ کہیں دھوپ نہ سایہ نہ سراب کتنے ارمان ہیں ...

مزید پڑھیے

مکان

آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گی سب اٹھو، میں بھی اٹھوں تم بھی اٹھو، تم بھی اٹھو کوئی کھڑکی اسی دیوار میں کھل جائے گی یہ زمیں تب بھی نگل لینے پہ آمادہ تھی پاؤں جب ٹوٹتی شاخوں سے اتارے ہم نے ان مکانوں کو خبر ہے نہ مکینوں کو خبر ان دنوں کی جو گپھاؤں ...

مزید پڑھیے

پشیمانی

میں یہ سوچ کر اس کے در سے اٹھا تھا کہ وہ روک لے گی منا لے گی مجھ کو ہواؤں میں لہراتا آتا تھا دامن کہ دامن پکڑ کر بٹھا لے گی مجھ کو قدم ایسے انداز سے اٹھ رہے تھے کہ آواز دے کر بلا لے گی مجھ کو مگر اس نے روکا نہ مجھ کو منایا نہ دامن ہی پکڑا نہ مجھ کو بٹھایا نہ آواز ہی دی نہ مجھ کو ...

مزید پڑھیے

زندگی

آج اندھیرا مری نس نس میں اتر جائے گا آنکھیں بجھ جائیں گی بجھ جائیں گے احساس و شعور اور یہ صدیوں سے جلتا سا سلگتا سا وجود اس سے پہلے کہ سحر ماتھے پہ شبنم چھڑکے اس سے پہلے کہ مری بیٹی کے وہ پھول سے ہاتھ گرم رخسار کو ٹھنڈک بخشیں اس سے پہلے کہ مرے بیٹے کا مضبوط بدن تن مفلوج میں شکتی بھر ...

مزید پڑھیے

تصور

یہ کس طرح یاد آ رہی ہو یہ خواب کیسا دکھا رہی ہو کہ جیسے سچ مچ نگاہ کے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہو یہ جسم نازک، یہ نرم باہیں، حسین گردن، سڈول بازو شگفتہ چہرہ، سلونی رنگت، گھنیرا جوڑا، سیاہ گیسو نشیلی آنکھیں، رسیلی چتون، دراز پلکیں، مہین ابرو تمام شوخی، تمام بجلی، تمام مستی، تمام ...

مزید پڑھیے

اندیشے

روح بے چین ہے اک دل کی اذیت کیا ہے دل ہی شعلہ ہے تو یہ سوز محبت کیا ہے وہ مجھے بھول گئی اس کی شکایت کیا ہے رنج تو یہ ہے کہ رو رو کے بھلایا ہوگا وہ کہاں اور کہاں کاہش غم، سوزش جاں اس کی رنگین نظر اور نقوش حرماں اس کا احساس لطیف اور شکست ارماں طعنہ زن ایک زمانہ نظر آیا ہوگا جھک گئی ...

مزید پڑھیے

دوسرا بن باس

رام بن باس سے جب لوٹ کے گھر میں آئے یاد جنگل بہت آیا جو نگر میں آئے رقص دیوانگی آنگن میں جو دیکھا ہوگا چھ دسمبر کو شری رام نے سوچا ہوگا اتنے دیوانے کہاں سے مرے گھر میں آئے جگمگاتے تھے جہاں رام کے قدموں کے نشاں پیار کی کاہکشاں لیتی تھی انگڑائی جہاں موڑ نفرت کے اسی راہ گزر میں ...

مزید پڑھیے

نیا حسن

کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیا کتنا سرشار ہے ذوق چمن آرائی آج اس سلیقے سے سجائی گئی بزم گیتی تو بھی دیوار اجنتا سے اتر آئی آج رونمائی کی یہ ساعت یہ تہی دستیٔ شوق نہ چرا سکتا ہوں آنکھیں نہ ملا سکتا ہوں پیار سوغات، وفا نذر، محبت تحفہ یہی دولت ترے قدموں پہ لٹا سکتا ہوں کب سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 549 سے 960