نئی صبح
یہ صحت بخش تڑکا یہ سحر کی جلوہ سامانی افق سارا بنا جاتا ہے دامان چمن جیسے چھلکتی روشنی تاریکیوں پہ چھائی جاتی ہے اڑائے نازیت کی لاش پر کوئی کفن جیسے ابلتی سرخیوں کی زد پہ ہیں حلقے سیاہی کے پڑی ہو آگ میں بکھری غلامی کی رسن جیسے شفق کی چادریں رنگیں فضا میں تھرتھراتی ہیں اڑائے لال ...