شاعری

نئی صبح

یہ صحت بخش تڑکا یہ سحر کی جلوہ سامانی افق سارا بنا جاتا ہے دامان چمن جیسے چھلکتی روشنی تاریکیوں پہ چھائی جاتی ہے اڑائے نازیت کی لاش پر کوئی کفن جیسے ابلتی سرخیوں کی زد پہ ہیں حلقے سیاہی کے پڑی ہو آگ میں بکھری غلامی کی رسن جیسے شفق کی چادریں رنگیں فضا میں تھرتھراتی ہیں اڑائے لال ...

مزید پڑھیے

بیوہ کی خود کشی

یہ اندھیری رات یہ ساری فضا سوئی ہوئی پتی پتی منظر خاموش میں کھوئی ہوئی موجزن ہے بحر ظلمت تیرگی کا جوش ہے شام ہی سے آج قندیل فلک خاموش ہے چند تارے ہیں بھی تو بے نور پتھرائے ہوئے جیسے باسی ہار میں ہوں پھول کمہلائے ہوئے کھپ گیا ہے یوں گھٹا میں چاندنی کا صاف رنگ جس طرح مایوسیوں میں دب ...

مزید پڑھیے

ایک لمحہ

جب بھی چوم لیتا ہوں ان حسین آنکھوں کو سو چراغ اندھیرے میں جھلملانے لگتے ہیں خشک خشک ہونٹوں میں جیسے دل کھنچ آتا ہے دل میں کتنے آئینے تھرتھرانے لگتے ہیں پھول کیا شگوفے کیا چاند کیا ستارے کیا سب رقیب قدموں پر سر جھکانے لگتے ہیں ذہن جاگ اٹھتا ہے روح جاگ اٹھتی ہے نقش آدمیت کے ...

مزید پڑھیے

انتشار

کبھی جمود کبھی صرف انتشار سا ہے جہاں کو اپنی تباہی کا انتظار سا ہے منو کی مچھلی نہ کشتئ نوح اور یہ فضا کہ قطرے قطرے میں طوفان بے قرار سا ہے میں کس کو اپنے گریباں کا چاک دکھلاؤں کہ آج دامن یزداں بھی تار تار سا ہے سجا سنوار کے جس کو ہزار ناز کیے اسی پہ خالق کونین شرمسار سا ہے تمام جسم ...

مزید پڑھیے

نہرو

میں نے تنہا کبھی اس کو دیکھا نہیں پھر بھی جب اس کو دیکھا وہ تنہا ملا جیسے صحرا میں چشمہ کہیں یا سمندر میں مینار نور یا کوئی فکر اوہام میں فکر صدیوں اکیلی اکیلی رہی ذہن صدیوں اکیلا اکیلا ملا اور اکیلا اکیلا بھٹکتا رہا ہر نئے ہر پرانے زمانے میں وہ بے زباں تیرگی میں کبھی اور کبھی ...

مزید پڑھیے

دوشیزہ مالن

لو پو پھٹی وہ چھپ گئی تاروں کی انجمن لو جام مہر سے وہ چھلکنے لگی کرن کھچنے لگا نگاہ میں فطرت کا بانکپن جلوے زمیں پہ برسے زمیں بن گئی دلہن گونجے ترانے صبح کا اک شور ہو گیا عالم مئے بقا میں شرابور ہو گیا پھولی شفق فضا میں حنا تلملا گئی اک موج رنگ کانپ کے عالم پہ چھا گئی کل چاندنی ...

مزید پڑھیے

ایک دعا

اب اور کیا ترا بیمار باپ دے گا تجھے بس اک دعا کہ خدا تجھ کو کامیاب کرے وہ ٹانک دے ترے آنچل میں چاند اور تارے تو اپنے واسطے جس کو بھی انتخاب کرے

مزید پڑھیے

نذرانہ

تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا اسی کوچے میں جہاں چاند اگا کرتے ہیں شب تاریک گزاروں گا، چلا جاؤں گا راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری کوئی لایا ہے کہ خود آیا ہوں معلوم نہیں کہتے ہیں حسن کی نظریں بھی حسیں ہوتی ہیں میں بھی کچھ لایا ہوں، کیا لایا ...

مزید پڑھیے

تم

شگفتگی کا لطافت کا شاہکار ہو تم فقط بہار نہیں حاصل بہار ہو تم جو ایک پھول میں ہے قید وہ گلستاں ہو جو اک کلی میں ہے پنہاں وہ لالہ زار ہو تم حلاوتوں کی تمنا، ملاحتوں کی مراد غرور کلیوں کا، پھولوں کا انکسار ہو تم جسے ترنگ میں فطرت نے گنگنایا ہے وہ بھیرویں ہو، وہ دیپک ہو وہ ملہار ہو ...

مزید پڑھیے

بہروپنی

ایک گردن پہ سیکڑوں چہرے اور ہر چہرے پر ہزاروں داغ اور ہر داغ بند دروازہ روشنی ان سے آ نہیں سکتی روشنی ان سے جا نہیں سکتی تنگ سینہ ہے حوض مسجد کا دل وہ دونا پجاریوں کے بعد چاٹتے رہتے ہیں جسے کتے کتے دونا جو چاٹ لیتے ہیں دیوتاؤں کو کاٹ لیتے ہیں جانے کس کوکھ نے جنا اس کو جانے کس صحن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 548 سے 960