شاعری

برہنہ

فرنگی جریدوں کے اوراق رنگین ہنستی، لچکتی، دھڑکتی، لکیریں کٹیلے بدن تیغ کی دھار جیسے! لہو رس میں گوندھے ہوئے جسم، ریشم کے انبار جیسے! نگہ جن پہ پھسلے، وہ شانے وہ باہیں مدور اٹھانیں، منور ڈھلانیں، ہر اک نقش میں زیست کی تازگی ہے ہر اک رنگ سے کھولتی آرزوؤں کی آنچ آ رہی ہے! خطوط برہنہ ...

مزید پڑھیے

بول انمول

اب یہ مسافت کیسے طے ہو اے دل تو ہی بتا کٹتی عمر اور گھٹتے فاصلے پھر بھی وہی صحرا چیت آیا چیتاونی بھیجی اپنا وچن نبھا پت جھڑ آئی پتر لکھے آ جیون بیت چلا خوشیوں کا مکھ چوم کے دیکھا دنیا مان بھری دکھ وہ سجن کٹھور کہ جس کو روح کرے سجدہ اپنا پیکر اپنا سایہ کالے کوس کٹھن دوری کی جب ...

مزید پڑھیے

توسیع شہر

بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار جھومتے کھیتوں کی سرحد پر بانکے پہرے دار گھنے سہانے چھاؤں چھڑکتے بور لدے چھتنار بیس ہزار میں بک گئے سارے ہرے بھرے اشجار جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم قاتل تیشے چیر گئے ان ساونتوں کے جسم گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی ...

مزید پڑھیے

نژاد نو

برہنہ سر ہیں برہنہ تن ہیں برہنہ پا ہیں شریر روحیں ضمیر ہستی کی آرزوئیں چٹکتی کلیاں کہ جن سے بوڑھی اداس گلیاں مہک رہی ہیں غریب بچے کہ جو شعاع سحر گہی ہیں ہماری قبروں پہ گرتے اشکوں کا سلسلہ ہیں وہ منزلیں جن کی جھلکیوں کو ہماری راہیں ترس رہی ہیں انہی کے قدموں میں بس رہی ہیں حسین ...

مزید پڑھیے

دستک

کس نے دروازہ کھٹکھٹایا ہے جا کے دیکھوں تو کون آیا ہے کون آیا ہے میرے دوارے پر رات آئی کہاں بچارے پر میرے چھپر سے ٹیک کر کاندھا کون استادہ ہے تھکا ماندہ میری کٹیا میں آؤ سستا لو یہ مرا ساغر شکستہ لو میری چھاگل سے گھونٹ پانی پیو اک نئے عزم کی جوانی پیو ٹمٹماتے دیے کی جھلمل میں جوت ...

مزید پڑھیے

بلاوا

ذرا ٹھہرو کدھر ہم جا رہے ہیں ادھر اس چار دیواری کے پیچھے وہ بوڑھا گورکن چلا رہا ہے ''ادھر آؤ قدم جلدی بڑھاؤ یہاں اس چار دیواری کے اندر جنم دن سے تمہاری منتظر ہیں وہ قبریں جن کی پیشانی پہ اب تک کسی کے نام کا کتبہ نہیں ہے''

مزید پڑھیے

لفظوں کا المیہ

نئے نئے لفظ شور کرتے بڑھے چلے آ رہے ہیں فکر و خیال کی رہ گزر آباد ہو رہی ہے زباں بہت سی پرانی حد بندیوں سے آزاد ہو رہی ہے کئی فسانے جو ان کہے تھے کئی تصور جو بے زباں تھے ہزار عالم نشاط و غم کے جو پہلے نا قابل بیاں تھے وہ دھڑکنیں خامشی ہی جن کے خروش پنہاں کی ترجماں تھی وہ نغمگی جو ...

مزید پڑھیے

ایک پرانا شہر

مہر بہ لب ویران دریچے دروازے سنسان دور پہاڑوں کی چوٹی پر شاہی گورستان نیم کی شاخوں میں الجھی ہے کنکوے کی کانپ دیواروں پر رینگ رہا ہے شکستگی کا سانپ سڑکیں رہگیروں پر ڈالیں ٹھنڈی سرد نگاہ شرم عریانی سے چپ ہے بوڑھی شہر پناہ وقت کے قدموں کی آہٹ دیتی ہے سنائی ایسے سناٹے میں بھٹک رہی ...

مزید پڑھیے

نئی ڈش شہدالو

بم بم بم بم بھولے بھالو سیب نہیں تو کھا لو آلو آلو میں بھی جان بہت ہے اس کا بھی سمان بہت ہے سبزی بھجیا چپس کرارے آئٹمس اور بہت ہیں سارے کھاؤ جو آلو کے پکوڑے سچ ہے ہو جاؤ گے چوڑے آلو میں تم شہد ملا لو ایک نئی ڈش آج بنا لو چنکوؔ کو بھی پاس بلا لو اس کی بھی دعوت کر ڈالو پوچھے جب ...

مزید پڑھیے

بھوکے پیٹ

رکتی سانسیں ہیں اور سینا موت کے پاؤں تلے ہے جینا اوگھٹ گھاٹ بھنور کے چکر ڈگ مگ ہے جیون کا سفینہ غم اور آنسو آنسو اور غم غم کھانا اور آنسو پینا برکھا رت ویرانوں کی ہے چاندنی قبرستانوں کی ہے من میں لہر کبھی اٹھتی تھی بات یہ اب افسانوں کی ہے جیسے سائے رینگ رہے ہوں حالت یہ انسانوں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 489 سے 960