شاعری

نظم

زاہد خشک ہوں دنیا میں نہ پوچھو مجھ کو دیکھنا ہو تو کسی پگ پہ کسی پیڑ کے نیچے جس کی ایک بھی شاخ نہ پتوں سے ہری ہو دیکھو یا کسی ناؤ میں جو پار جاتی ہوئی روحوں سے بھری ہو دیکھو پار جانا ہے مجھے بہتے پانی سے ادھر دور جہاں ایک وادی ہے جو ویران بھی خاموش بھی ہے ایک دیوی نے وہاں گھاس اگا ...

مزید پڑھیے

ایک ویران گاؤں میں

انہی سوکھے ہوئے میدانوں میں اب جہاں دھوپ کی لہروں کے سوا کچھ بھی نہیں سبز لہراتے ہوئے کھیت ہوا کرتے تھے لوگ آباد تھے پیڑوں کی گھنی چھاؤں میں محفلیں جمتی تھیں افسانے سنے جاتے تھے آج ویران مکانوں میں ہوا چیختی ہے دھول میں اڑتے کتابوں کے ورق کس کی یادوں کے ورق کس کے خیالوں کے ...

مزید پڑھیے

اس شہر میں

خوبصورت ہے زمیں دھوپ میں چمکے ہوئے اس شہر میں زندگی دلچسپ ہے عقل کی باتیں جہنم کی دھدکتی آگ ہیں ان سے ہم واقف نہیں امن ہے اور نیند ہے اور خواب ہیں اپنی ہی لذت میں گم جسم ہیں دوستوں سے دور ہنگاموں میں میں کھویا ہوا پر سکون آہ کتنی خوبصورت ہے زمین دھوپ میں چمکے ہوئے اس شہر میں زندگی ...

مزید پڑھیے

فقط موت مجھے بھاتی ہے

ایسے لگتا ہے کہ صحرا ہے کوئی دور تک پھیلی ہوئی ریت کو جب دیکھتا ہوں میری آنکھوں میں وہی پیاس چھلک آتی ہے روح کی پیاس چھلک آتی ہے پھر ہوا وقت کے ہاتھوں میں ہے تلوار کی مانند رواں پھر سلگتا ہوں فقط موت مجھے بھاتی ہے دل مرا آج بھی افسردہ اداس دل بدلتا ہی نہیں راستے روز بدل لیتے ہیں ...

مزید پڑھیے

ایک دعا

اب بولو کہاں چھپے ہو اب کھولو بھی دروازہ اندر آنے دو مجھ کو یا خود ہی باہر آؤ پیاسے کو مت ترساؤ بس پانی کا اک قطرہ ان آنکھوں کو کافی ہے یہ پیاسی آنکھیں میری تم پانی کا ساگر ہو اب بولو کہاں چھپے ہو اب کھولو بھی دروازہ

مزید پڑھیے

نظم

گونجتے گرجتے ہوئے راستے پر ایک عورت گھر کی قید سے بھاگی ہوئی عورت گرد سے اٹی ہوئی تھکی ہوئی اور ڈگمگاتی ہوئی اداس اور پریشان دنیا کے اجنبی اور بے رحم راستے پر ایک عورت ماضی سے نالاں اور بیزار مستقبل سے بے خبر حال کے جنگل میں اکیلی ایک عورت ہر طرف لوگوں کے ہجوم ہر طرف شور ہی ...

مزید پڑھیے

نئے شہر

گہرے شہروں میں رہنے سے وسعت کا احساس مٹا لا محدود خلاؤں کی خاموشی کا خوف مٹا اب آرام ہے جنگل کا جادو اور ہواؤں کا سنگیت نہیں تو کیا ہے اب آرام کہ اب اگیان کے پیدا کردہ ہاتھ نہیں ظالم ہاتھ کہ جن ہاتھوں میں ہاتھ دیے مذہب کے ویرانوں میں میں مارا مارا پھرتا تھا اب آرام سمندر کی آواز ...

مزید پڑھیے

نظم

زندگی ایک خواب ہے میرے لیے محبت کا طویل اور اذیت ناک خواب میں دنیا کے ہنگاموں سے غافل ہوں انسانوں کا شور میری ذات کی سرحدوں پر رک جاتا ہے اندر آنا منع ہے میرے دل کا دروازہ بند ہے میرا کوئی گھر نہیں میں اپنے پاگل پن کے ریگستان میں بھٹک رہا ہوں میں اپنے اندر سفر کر رہا ہوں میں باہر ...

مزید پڑھیے

زوال کا دن

جس دن میرے دیس کی مٹی کومل مٹی پتھر بن کر محلوں اور قلعوں کے روپ میں ڈھل جائے گی اس دن گندم جل جائے گی جس دن میرے دیس کے دریاؤں کا پانی ٹھنڈا پانی بجلی بن کر شہروں کی کالی راتوں کی زینت کا سامان بنے گا اس دن چاند پگھل جائے گا جس دن میرے دیس کی ہلکی تیز ہوائیں انسانوں کے خون سے بھر ...

مزید پڑھیے

نظم

میرے خیال میں وہ عورت دنیا کی لذیذ ترین عورت ہے میں اس کے اندر غرق ہو جاؤں گا وہ مجھے دور دور سے اپنا آپ دکھاتی ہے میرے اندر بھوک اور پیاس کو بیدار کرتی ہے اور جب میں خواہش کی آگ میں جلنے لگتا ہوں وہ اطمینان سے ہنسنے لگتی ہے میرا جی چاہتا ہے کہ میں اس کو کھا جاؤں میں اس کو پورے کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 49 سے 960