شاعری

پسپائی

مجھ کو بھی غصہ آتا ہے جب کوئی سائیکل والا اگلے پہیے سے کیچڑ کی اک چھاپ میری پتلون پہ دے دیتا ہے جب کوئی موٹر والا میرے منہ پر مڑ کے کے گڈھوں کے گندے پانی کے چھینٹے دے دیتا ہے جب کوئی کھلے ہوئے چھاتے کی کمائی سے سر میں ٹھوکا دیتا ہے جب فٹ پاتھ پہ میرے مقابل چلنے والا اونچے محلوں کے ...

مزید پڑھیے

وصل شیریں کے لیے

دور تکذیب کا فرہاد ہوں میری خاطر حق کی آواز صداقت کی اور شیریں ہے میرا منصب ہے حصول شیریں وصل شیریں کے لیے تیشہ اٹھاتا ہوں میں تیشۂ عزم و یقیں جو ابھی کند نہیں سینۂ سنگ ابھی خشک نہیں ہر رگ سنگ میں اک جوئے رواں پنہاں ہے میں کہ فرہاد ہوں رگ رگ میں مری شعلۂ قطرۂ خوں جولاں ہے میری گردن ...

مزید پڑھیے

حصول کل اور ایک منظر

وہ سال خوردہ چٹانیں جو آسماں کو چھوتے ہوئے بگولوں کی زد میں ثابت رہی ہیں اب ریگ زار میں منتقل ہوئی ہیں ہوا کے نازک خفیف جھونکے پہ مشتعل ہیں اڑی جو گرد تا قدم بھی تو ابر بن کے فلک پہ چھائی مگر جو سورج نے آنکھ مل کے اسے کریدا تو خاک ہو کر وہیں گری ہے ہوا کے رفتار کب رکی ہے بہاؤ دریا ...

مزید پڑھیے

اور نیچے نہ اتار و مرے سامع مجھ کو

آؤ آ جاؤ قریب آؤ کہ کچھ بات بنے اتنی دوری ہے کہ آواز پہنچتی ہی نہیں میں کسی غیر زباں کے الفاظ اپنے اشعار میں شامل تو نہیں کرتا ہوں دکھ تو اس بات کا ہے تم یہ سمجھتے ہی نہیں میرے سینے میں مچلتا ہے تمہارا دکھ بھی میرے الفاظ میں شامل ہے تمہاری آواز میرے جذبات میں خفتہ ہیں تمہارے ...

مزید پڑھیے

ماں کبھی مرتی نہیں ہے

کلام حیدری کی نذر ماں کبھی مرتی نہیں ہے خون ہے وہ جسم کی رگ رگ میں ہر دم موجزن ہے روشنی اس کے لبوں کی اس کے بیٹوں اور پھر بیٹوں کے بیٹیوں کے شگفتہ عارض و لب سے ہمیشہ پھوٹتی ہے روشنی کا یہ سفر رکتا نہیں ہے بھائی میرے اس قدر جل تھل نہ ہو تو قبر کی نمناک مٹی سے ابھرتی ایک بھر آئی ہوئی ...

مزید پڑھیے

اپنے آپ سے

میں نے لوگوں سے بھلا کیا سیکھا یہی الفاظ میں جھوٹی سچی بات سے بات ملانا دل کی بے یقینی کو چھپانا سر کو ہر غبی کند ذہن شخص کی خدمت میں جھکانا ہنسنا مسکراتے ہوئے کہنا صاحب زندگی کرنے کا فن آپ سے بہتر تو یہاں کوئی نہیں جانتا ہے گفتگو کتنی بھی مجہول ہو ماتھا ہموار کان بیدار رہیں ...

مزید پڑھیے

تنہائی

یہ زمیں یہ آسماں یہ کائنات ایک لا محدود وسعت ایک بے معنی وجود آدمی اس ابتری کی روح ہے آدمی اس مادے کا ذہن ہے ابتری لا انتہا مادہ لا انتہا آدمی محدود ہے آدمی کا ذہن بھی محدود ہے روح بھی محدود ہے یہ زمیں یہ آسماں یہ کائنات جبر کا اک سلسلہ کس طرح سمجھوں اسے کرب ہے اور روح کی ...

مزید پڑھیے

نظم

میں ستاروں اور درختوں کی خاموشی کو سمجھ سکتا ہوں میں انسانوں کی باتیں سمجھنے سے قاصر ہوں میں انسانوں سے نفرت نہیں کرتا میں ایک عورت سے محبت کرتا ہوں میں دنیا کے راستوں پر چلنے سے معذور ہوں میں اکیلا ہوں میں لوگوں میں شامل ہونا نہیں چاہتا میں آزاد رہنا چاہتا ہوں میں خوش رہنا ...

مزید پڑھیے

نظم

ایک تو خواب ڈراتے ہیں مجھے دھوپ میں زرد درختوں پہ کھلے کالے پھول پہلے پانی تھا جہاں دھول وہاں اڑتی ہے میں نے عورت کو نہیں دیکھا تھا اس کا پیغام ملا بارش میں وہ مرے پاس جب آئی تھی تو میں تنہا تھا اور اس پہلی ملاقات کی حیرانی میں آج بھی غرق ہوں میں لوگ جس وہم میں ہیں میں بھی ہوں ہے ...

مزید پڑھیے

بیمار لڑکا

رحم مادر سے نکلنا مرا بے سود ہوا آج بھی قید ہوں میں حکم مادر کو میں تبدیل کروں ماں کی نفرت بھری آنکھوں سے کہیں دور چلا جاؤں میں بے نیازی سے پھروں پاپ کے کانٹے چن کر روح ناپاک کروں گیت شہوت کے ہوس کے سن کر ذہن بے باک کروں ایسے جیون کی ہے حسرت اب تک پیار ...سب کہتے ہیں وہ پیار مجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 48 سے 960