شاعری

پنواڑی

بوڑھا پنواڑی اس کے بالوں میں مانگ ہے نیاری آنکھوں میں جیون کی بجھتی اگنی کی چنگاری نام کی اک ہٹی کے اندر بوسیدہ الماری آگے پیتل کے تختے پر اس کی دنیا ساری پان کتھا سگریٹ تمباکو چونا لونگ سپاری عمر اس بوڑھے پنواڑی کی پان لگاتے گزری چونا گھولتے چھالیاں کاٹتے کتھ پگھلاتے ...

مزید پڑھیے

ہر جانب ہیں

ہر جانب ہیں دلوں ضمیروں میں کالے طوفانوں والے لفظ ہزاروں گھنی بھوؤں کے نیچے گھات میں اب تو میرے لبوں تک آ بھی حرف زندہ ہر جانب گلیوں کے دلدلی تالابوں میں بے ستر ہراساں کھڑی ہیں روحیں قدم کھبے ہیں نیلے کیچڑ میں اور ان کی ڈوبتی نظروں میں اک بار ذرا تیری تھی ان کی زندگی ابھی ابھی اک ...

مزید پڑھیے

ریوڑ

شام کی راکھ میں لتھڑی ہوئی ڈھلوانوں پر ایک ریوڑ کے تھکے قدموں کا مدھم آہنگ جس کی ہر لہر دھندلکوں میں لڑھک جاتی ہے مست چرواہا چراگاہ کی اک چوٹی سے جب اترتا ہے تو زیتون کی لانبی سونٹی کسی جلتی ہوئی بدلی میں اٹک جاتی ہے بکریاں دشت کی مہکار میں گوندھا ہوا دودھ چھاگلوں میں لیے جب ...

مزید پڑھیے

راتوں کو

آنکھوں میں کوئی بس جاتا ہے میٹھی سی ہنسی ہنس جاتا ہے احساس کی لہریں ان تاریک جزیروں سے ٹکراتی ہیں جہاں نغمے پنکھ سنوارتے ہیں سنگین فصیلوں کے گنبد سے پہرے دار پکارتے ہیں کیا کرتا ہے دل ڈرتا ہے دل ڈرتا ہے ان کالی اکیلی راتوں سے دل ڈرتا ہے ان سونی تنہا راتوں میں دل ڈوب کے گزری ...

مزید پڑھیے

ریڈنگ روم

میز پر اخبار کے پھیلے ورق بکھرے بکھرے تیرہ تیرہ چاک چاک ڈھل گئی ہے قالب الفاظ میں سینۂ ہستی کی آہ دردناک پاس ہی دیوار کو ٹیکے ہوئے ریڈیو گرم سخن محو بیاں چیختی ہیں جامۂ آواز میں خون کے چھینٹے لہو کی بوندیاں شام ریڈنگ روم کی مغموم شام چند کان اعلانچی کی بات پر چند آنکھیں سوچ میں ...

مزید پڑھیے

نگاہ باز گشت

آج تھی میرے مقدر میں عجب ساعت دید آج جب میری نگاہوں نے پکارا تجھ کو میری تشنہ نگاہوں کی صدا کوئی بھی سن نہ سکا صرف اک تیرے ہی دل تک یہ صدا جاگتی دنیا کے کہرام سے چپ چاپ گزر کر پہنچی صرف اک تو نے پلٹ کر مری جانب دیکھا مجھے تو نے تجھے میں نے دیکھا آج تھی میری نگاہوں کے مقدر میں عجب ...

مزید پڑھیے

پہاڑوں کے بیٹے

مرے دیس کی ان زمینوں کے بیٹے جہاں صرف بے برگ پتھر ہیں صدیوں سے تنہا جہاں صرف بے مہر موسم ہیں اور ایک دردوں کا سیلاب ہے عمر پیما پہاڑوں کے بیٹے چنبیلی کی نکھری ہوئی پنکھڑیاں سنگ خارا کے ریزے سجل دودھیا نرم جسم اور کڑے کھردرے سانولے دل شعاعوں ہواؤں کے زخمی چٹانوں سے گر کر خود اپنے ...

مزید پڑھیے

منٹو

میں نے اس کو دیکھا ہے اجلی اجلی سڑکوں پر اک گرد بھری حیرانی میں پھیلتی بھیڑ کے اوندھے اوندھے کٹوروں کی طغیانی میں جب وہ خالی بوتل پھینک کے کہتا ہے ''دنیا! تیرا حسن، یہی بد صورتی ہے'' دنیا اس کو گھورتی ہے شور سلاسل بن کر گونجنے لگتا ہے انگاروں بھری آنکھوں میں یہ تند سوال کون ہے یہ ...

مزید پڑھیے

آٹوگراف

کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے کتابچے لیے ہوئے کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاں مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھے ابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے پر ہراس قافلے گرے بڑھے مڑے بھنور ہجوم کے کھڑی ہیں یہ بھی راستے پہ اک طرف بیاض آرزو ...

مزید پڑھیے

فرد

اتنے بڑے نظام میں صرف اک میری ہی نیکی سے کیا ہوتا ہے میں تو اس سے زیادہ کر ہی کیا سکتا ہوں میز پر اپنی ساری دنیا کاغذ اور قلم اور ٹوٹی پھوٹی نظمیں ساری چیزیں بڑے قرینے سے رکھ دی ہیں دل میں بھری ہوئی ہیں اتنی اچھی اچھی باتیں ان باتوں کا دھیان آتا ہے تو یہ سانس بڑی ہی بیش بہا لگتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 487 سے 960