شاعری

لمحۂ رخصت

کچھ سننے کی خواہش کانوں کو کچھ کہنے کا ارماں آنکھوں میں گردن میں حمائل ہونے کی بیتاب تمنا بانہوں میں مشتاق نگاہوں کی زد سے نظروں کا حیا سے جھک جانا اک شوق ہم آغوشی پنہاں ان نیچی بھیگی پلکوں میں شانے پہ پریشاں ہونے کو بے چین سیہ کاکل کی گھٹا وارفتہ نگاہوں سے پیدا ہے ایک ادائے ...

مزید پڑھیے

بھاگ متی

پیار سے آنکھ بھر آتی ہے کنول کھلتے ہیں جب کبھی لب پہ ترا نام وفا آتا ہے دشت کی رات میں بارات یہیں سے نکلی راگ کی رنگ کی برسات یہیں سے نکلی انقلابات کی ہر بات یہیں سے نکلی گنگناتی ہوئی ہر رات یہیں سے نکلی دھن کی گھنگھور گھٹائیں ہیں نہ ہن کے بادل سونے چاندی کے گلی کوچے نہ ہیروں کے ...

مزید پڑھیے

رات کے بارہ بجے

رات کے کوئی بارہ بجے ہوں گے گرمی ہے سڑکوں پہ کوئی نہیں بوڑھا درویش بھی جا چکا ہے اس جذامی بھکارن کی گاڑی بھی نظروں سے اوجھل ہے راستہ صاف ہے ہوٹلوں سے نکلتی ہوئی لڑکیاں ہیں نہ لڑکوں کے جھرمٹ منڈیروں پر دل میں نہ دل کا دھڑکنا نہ بھوکی نگاہیں نہ سیٹی قمقمے گردنیں تانے چشم بر براہ ...

مزید پڑھیے

جوانی

بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں پڑنے لگیں عالم کی اسی سمت نگاہیں خوابیدہ تھے جذبات بدلنے لگے کروٹ روئے شرر طور سے ہٹنے لگا گھونگٹ بھرنے لگے بازو تو ہوئے بند قبا تنگ چڑھنے لگا طفلی پہ جوانی کا نیا رنگ ساغر کی کھنک بن گئی اس شوخ کی آواز بربط کی ہوئی گدگدی یا جاگ اٹھے ساز اعضا میں ...

مزید پڑھیے

جز تری آنکھوں کے

جز تری آنکھوں کے کن آنکھوں نے لطف کا ہاتھ رکھا درد کی پیشانی پر پیار کی آنکھوں سے آنسو پوچھے نرمیاں لمحۂ وصل کی مانند دل و جاں میں اترتی ہی چلی جاتی ہیں ہجر کی شام ہے ڈھل جائے گی وصل کا لمحہ گریزاں ہے پگھل جائے گا تیرے رخسار کی دہکی ہوئی رنگین شفق اور بھی سرخ ہوئی تیرے سلگے ہوئے ...

مزید پڑھیے

طور

یہیں کی تھی محبت کے سبق کی ابتدا میں نے یہیں کی جرأت اظہار حرف مدعا میں نے یہیں دیکھے تھے عشوۂ ناز و انداز حیا میں نے یہیں پہلے سنی تھی دل دھڑکنے کی صدا میں نے یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی دلوں میں اژدہام آرزو لب بند رہتے تھے نظر سے گفتگو ہوتی تھی دم الفت کا بھرتے ...

مزید پڑھیے

چارہ گر

اک چنبیلی کے منڈوے تلے مے کدے سے ذرا دور اس موڑ پر دو بدن پیار کی آگ میں جل گئے پیار حرف وفا پیار ان کا خدا پیار ان کی چتا دو بدن اوس میں بھیگتے چاندنی میں نہاتے ہوئے جیسے دو تازہ رو تازہ دم پھول پچھلے پہر ٹھنڈی ٹھنڈی سبک رو چمن کی ہوا صرف ماتم ہوئی کالی کالی لٹوں سے لپٹ گرم رخسار ...

مزید پڑھیے

ملاقات

میں آفتاب پی گیا ہوں سانس اور بڑھ گئی ہے تشنگی ہی تشنگی تو سرزمین عطر و نور سے اتر کے آفتاب بن کے آ گئی بلور کا جہاز ابر سے پرے رواں رواں ادھر اندھیری رات ہے شفق کی تیغ سرخ اس طرف تمام آسماں شہاب ہی شہاب ہے گلال ہی گلال ہے ستارہ ہم نشیں ہے ماہ ہم نفس ہے ساز جاں نواز ساتھ ہے گریز پا ...

مزید پڑھیے

نیا سال

کروڑوں برس کی پرانی کہن سال دنیا یہ دنیا بھی کیا مسخری ہے نئے سال کی شال اوڑھے بہ صد طنز ہم سب سے یہ کہہ رہی ہے کہ میں تو ''نئی'' ہوں ہنسی آ رہی ہے

مزید پڑھیے

چپ نہ رہو

شب کی تاریکی میں اک اور ستارہ ٹوٹا طوق توڑے گئے ٹوٹی زنجیر جگمگانے لگا ترشے ہوے ہیرے کی طرح آدمیت کا ضمیر پھر اندھیرے میں کسی ہاتھ میں خنجر چمکا شب کے سناٹے میں پھر خون کے دریا چمکے صبح دم جب مرے دروازے سے گزری ہے صبا اپنے چہرے پہ ملے خون سحر گزری ہے خیر ہو مجلس اقوام کی سلطانی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 479 سے 960