اسیر ذات روشنی
نہ لذتوں کا بحر تھا نہ خواہشوں کی وادیاں نہ دائرے عذاب کے نہ زاویے ثواب کے بس ایک روشنی اسیر ذات تھی محیط کائنات تھی ازل سے بے لباس تھی تو یوں ہوا کہ دفعتاً مرے بدن کے پیرہن میں چھپ گئی تو لذتوں کا بحر موج زن ہوا تو خواہشوں کی وادیاں سلگ گئیں تو دائرے عذاب کے پھسل گئے تو زاویے ثواب ...