شاعری

میرا غصہ کہاں ہے؟

میں آسمان کے ساتھ پھیلی شام کی نارنجی روشنی ہوں یا سورج کی آنکھ میں رینگتی سرخ دھار؟ کیا ہے میرا وجود؟ یوم عید قربان ہوتی بھیڑوں کا صبر یا ہیروں کے تعاقب میں کوئلہ کوئلہ پھرتی خواہش؟ میں سرما میں ابابیلوں کی مرجھائی روح ہوں یا سرمست درختوں کی چوٹیوں میں مدہوش ہوا؟ ہاں۔۔۔۔۔ میں ...

مزید پڑھیے

میرا کوئی دوست نہیں

چیخیں مجھے کبھی رہا نہیں کرتیں مجھے معلوم ہے ہر منظر میں ایک چیخ چھپی ہے میں جہاں بھی جاتا ہوں کوئی نہ کوئی چیخ مجھے پہچان لیتی ہے میں اپنی خاموشی کی مخالف سمت خوف زدہ ہو کر بھاگنے لگتا ہوں اسی بوکھلاہٹ میں چیخوں کے کئی جھنڈ مجھے بھڑوں کی طرح گھیر لیتے ہیں بھاگتے ہوئے میں ...

مزید پڑھیے

وقت کے نام ایک خط

زندگی بہت مصروف ہو گئی ہے جو خواب مجھے آج دیکھنا تھا وہ اگلی پیدائش تک ملتوی کرنا پڑا ہے بچپن میں لگے زخم پر مرہم رکھنے کے لیے ڈاکٹر نے ابھی صرف وعدہ کیا ہے کل کے لیے سانسیں کماتے ہاتھ صبح تک چائے نہیں پی سکتے لیکن گھبراؤ نہیں سب کی یہی حالت ہے وہ بتا رہی تھی اس نے اپنی سہاگ رات تب ...

مزید پڑھیے

اظہار کا متروک راستہ

اظہار محبت کے لیے لازمی نہیں کہ پھول خریدے جائیں کسی ہوٹل میں کمرہ لیا جائے یا پرندے آزاد کیے جائیں اظہار محبت کے لیے تم اپنے بوسے کاغذ میں لپیٹ کر بھیج سکتی ہو جس طرح میں نے اپنے جذبے تمہیں پوسٹ کر دیے ہیں

مزید پڑھیے

ایک ہی راستہ

مرے یار تیرا مرا ایک ہی راستہ ہے کہ پلکوں سے صحرا بہ صحرا چمکدار ذرات چن کر شرابور مٹھی میں محفوظ کرتے رہیں اور سر شام پھیلا کے ان کو ہتھیلی پہ دیکھیں کہ آیا کوئی ریزۂ زر بھی حاصل ہوا یا نہیں کتاب مقدر بھی نقش اضافہ نہ اترے تو بطن تفکر کو امید کے نان شیریں سے بھر کر شگفتہ شعاعوں ...

مزید پڑھیے

نیا سال

نیا سال آیا کوئی بھی نہ تحفہ ہمارے لئے حسب معمول لایا خدا جانے کب تک ہم ان دشت ہاتھوں میں کشکول امید تھامے بشارت کی خیرات پانے کی خاطر صف صبر میں ایستادہ رہیں گے

مزید پڑھیے

کائناتی گرد میں برسات کی ایک شام

ویسے تو پہاڑ زمین کا سکڑا ہوا لباس ہیں لیکن جب بارش ہوتی ہے ان کی سلوٹوں پر اجلاہٹ اگ آتی ہے سانپ کی دم سی سڑک پر چلتے ہوئے موسم مجھے اپنی کنڈلی میں قید کر لیتا ہے لہر در لہر منقسم پہاڑوں کا حسن رنگوں کی اس دھندلاہٹ میں پوشیدہ ہے جسے ہماری بیمار آنکھیں کبھی منعکس نہیں کر ...

مزید پڑھیے

ڈال سے کوئل اڑ جاتی ہے

پتلے پتلے ہونٹوں پر ہیں آنکھوں جیسی موٹی باتیں ایسی باتیں کیوں کرتے ہو زلفیں سپنے پھول اور جذبے اچھا ہاں اک بات بتاؤ کل تم اتنے چپ چپ کیوں تھے خاموشی سے یوں لگتا تھا جیسے سپنے ٹوٹ رہے ہوں مجھے خبر ہے میری خاطر تم نے کیا کیا کوکتے کوکتے ڈال سے کوئل اڑ جاتی ہے من کا مندر ریزہ ریزہ ...

مزید پڑھیے

سرحد

سرحد کے اس پار جو کل کچھ خون کہ چھینٹیں آئی تھیں سرحد کے اس پار کہ تھیں یا سرحد کے اس پار کہ تھیں سرحد کے اس پار جو کل ایک خاموشی چھائی تھی سرحد کے اس پار ہی تھی یا سرحد کے اس پار بھی تھی سرحد کے اس پار جو کل کچھ ذہن زخمی زخمی تھے سرحد کے اس پار ہی تھے یا سرحد کے اس پار بھی تھے کل ...

مزید پڑھیے

عصا بدست اب نہیں ہے کوئی

اسرائیل مصر جنگ میں کرنل ناصر کے نعرے ہم بیٹے فرعون کے سے متأثر ہو کر یہی وہ کہسار ہیں جہاں مشت خاک نور آشنا ہوئی تھی یہی وہ ذرات ریگ ہیں جو کسی کے بیتاب والہانہ قدم کی ٹھوکر سے کہکشاں کہکشاں ہوئے تھے یہی وہ پتھریلی وادیاں ہیں کہ جن کی آغوش خشک میں دو دھڑکتے معصوم دل ملے تھے اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 46 سے 960