تم جا چکی ہو
میرا دل دیر تک سوئے ہوئے منہ کی باس تھا جہاں تم خود رو پھول بن کر کھل اٹھی تھیں تمہارا منور وجود میری تاریک روح میں سرما کی دھوپ بنا تمہاری آنکھوں کی نمی سے کئی بہاروں نے خمار پیا جوتوں سے گری مٹی سے بنے میرے ہاتھ تمہاری تراشیدہ گولائیوں سے مل کر جنت کی جھیل بن گئے تمہارے سینے سے ...