شاعری

وہ آنکھیں کنول بنیں

وہ آنکھیں کنول بنیں اور خشک ہوئیں اور کنول بنیں اور خشک ہوئیں کوئی دیکھنے آیا آنکھیں آن کی آن میں کنول بنیں اور خشک ہوئیں اور دلدل پھیلا سمٹ گیا اور رات کی چادر پھیل گئی کوئی دیکھنے آیا آن کی آن میں دلدل پھیلا سمٹ گیا اب ہاتھی دانت کے رسیا آئیں تو آئیں تم گھر کی میلی چادر لے کر ...

مزید پڑھیے

یہ گھر جل کر گرے گا

یہ گھر جل کر گرے گا تم نے لو دھیمی نہیں کی ہجرتی گھر چھوڑنے کے بھی کوئی آداب ہوتے ہیں چلو دو چار دن رہ لو کسی کے آنے جانے تک جہاں تک معصیت ہے ارتقا کا در کھلا ہے یہ گھر جل کر گرے گا ان پرندوں سے کہو دہلیز سے آگے نکل جائیں خداۓ خشک و تر کی سلطنت اک گھر نہیں ہے اور موسم ہیں حوادث ...

مزید پڑھیے

بند گھر کا راز

تم نے آنکھوں کو بوسہ دیا اور انہیں بند کر کے گئے اب یہ تم سے بھی کھل کر نہیں پوچھتیں تم نے آنکھوں کو بوسہ دیا اور انہیں بند کر کے گئے ایک ہی راز رہتا ہے ہر بند گھر میں کہ گھر بند رہتا نہیں

مزید پڑھیے

مانسٹر

دریچہ کھلا چھوڑ کر یوں نہ جانا کہ رستہ گزرتی کوئی اور لڑکی مجھے خواب بنتا ہوا دیکھ لے گی ٹھٹک جائے گی اور مجھ سے مرے خواب کا راستہ پوچھنے کی حماقت کرے گی

مزید پڑھیے

اور پھر چاند نکلتا ہے

اور پھر چاند نکلتا ہے اور پھر سارا شہر سمٹ کر تیرے گھر کا آنگن بن جاتا ہے اور شام سے پہلے سو جانے والے بچے جاگ اٹھتے ہیں اور میں تیرے ساتھ نہ جانے کس کس گھر میں جاتا ہوں کن کن لوگوں سے ملتا ہوں اور تو ساتھ نہیں ہوتا ہے اور میں تنہا ہی رہتا ہوں اور یوں پچھلی رات کا پیلا چاند مری ...

مزید پڑھیے

صلیب گر پڑی

صلیب گر پڑی مہندس نے درمیان شہر بر نشیب جو بنائی تھی صلیب گر پڑی ہجوم منتظر تھا شام سے کہ ایک سیاہ فام سے جوان ناتمام سے خبر ملی تمام رات کی تھکی ہوئی بدن کے بوجھ سے جھکی ہوئی نشیب سے اڑی ہوئی کھڑی تھی جو غریب گر پڑی ہجوم منتظر تھا شام سے نشیب پر کسی طرح قدم جمائے اک ہجوم منتظر تھا ...

مزید پڑھیے

جیوتشی دن مہینوں کا قصہ سنو

جیوتشی دن مہینوں کا قصہ سنو جب گھروں سے نکلتی ہوئی لڑکیاں اپنے گھر جائیں گی اپنے رستے کی ہو جائیں گی اور تہمینۂ بے خبر ہر گلی کی خبر ہر گلی اک نئے گھر پہ جا کر اچٹ جائے گی اے میری روح کے بادباں دکھ کھلے پانیوں کا سفر عمر بھر جیوتشی دن مہینوں کا قصہ سنو جیوتشی روز ہر روز سورج کھلے ...

مزید پڑھیے

برف باری میں

جہاں لکڑی کی میزوں اور ننگی کرسیوں میں شہ بلوطی گردنوں کا خم نظر آئے وہاں جھکنا عبادت ہے میں ننگے پاؤں باہر آ گیا تھا برف باری میں مری کھڑکی کے نیچے چاندنی سے بھی زیادہ چاندنی تھی جب ہوا پاگل ہوئی اور تم نے چہرہ موڑ کر سونے کی کوشش کی ہوا سنتی نہیں ہے ہوا جب بھی چلے گی کھڑکیوں پر ...

مزید پڑھیے

یہ آنکھیں

یہ آنکھیں ہر در و دیوار میں آنکھیں یہ آنکھیں ریستورانوں میں ایوانوں میں کلبوں میں ترے گھر کی اندھیری کوٹھری میں جسم میں روحوں میں سانسوں میں کلیسا کے دھواں دیتے ہوئے ہر طاق میں آنکھیں یہ آنکھیں منبر و محراب میں آنکھیں یہ آنکھیں جاگتے میں خواب میں آنکھیں یہ آنکھیں غول کی صورت ...

مزید پڑھیے

خرابی ہے محبت میں

خرابی ہے محبت میں محبت میں خرابی ہے یہ قبریں پانیوں میں گھل رہی ہیں سو ان کے استخواں دیکھو میں مجنوں کو لڑکپن میں بہت رویا بہت رویا میں مجنوں کو لڑکپن میں کہ پانی مٹیوں سے پھوٹتا تھا اور مٹی گھل رہی تھی پانیوں میں سو اس کے استخواں دیکھو محبت رات مجھ سے کہہ رہی تھی اس کے گھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 453 سے 960