شاعری

یہ اک دوہری اذیت ہے

یہ اک دوہری اذیت ہے اذیت بے سبب ہنسنے کی بے آرام راتوں کی کہانی شب‌ زدوں کے سامنے ہنس ہنس کے کہنے کی خداوند خدا کی مہربانی ہے دعائیں آپ کی ہیں آپ کی سرکار میں زندہ ہوں خوش ہوں بطور ناصحاں ملتا ہے کوئی برنگ مہرباں ملتا ہے کوئی بہ سعی رائے گاں ملتا ہے کوئی وہ کم آگاہ کم احساس کم ...

مزید پڑھیے

بے ارادہ زیست کیجے

اکیلا پن پرندے کا پرندے کا اکیلا پن سماعت گاہ ویرانی میں بلبل بولتی ہے اکیلا پن گڈریے کا کسی سادہ گڈریے کا اکیلا پن وہ اس شب بھیڑیوں کے درمیاں تنہا نہیں ہوگا اکیلا پن مسافر کا کسی بھولے مسافر کا اکیلا پن مسافر قوت پرواز سے مجبور ہے آگے نکل جاتا ہے ساحل پر پرندے گھاس پر ٹوٹے ہوئے ...

مزید پڑھیے

اگر تم دو قدم اوپر گئے

اگر تم دو قدم اوپر گئے بادل کو چھو لو گے کہیں بارش میں برسو گے کسی پتھر پہ روندے جاؤ گے چھت سے گروگے چھتریوں پر سوکھ جاؤ گے نکالیں گی تمہیں گھر والیاں گھر سے اٹھا کر ڈال دیں گی دھوپ میں ان گدڑیوں کے ساتھ جن کو چھوڑ کر تم دو قدم اوپر گئے تھے ایک دن جب حبس تھا اور لوگ باہر سو رہے تھے

مزید پڑھیے

سمندر کی مہربانی

یہ سمندر کی مہربانی تھی تم نے ساحل کو چھو کے دیکھ لیا اب ہوا تم سے کچھ نہیں کہتی موج در موج لوٹتے ہو تم دھوپ میں اختلاط کرتے ہو اور ہوا تم سے کچھ نہیں کہتی کوئی بھی تم سے کچھ نہیں کہتا سب سمندر کی مہربانی ہے جاؤ بارش کا اہتمام کرو ابر آوارہ سے پتنگ بناؤ اب تمہارے ہیں خیمہ و ...

مزید پڑھیے

اس سے کہہ دو

اس سے کہہ دو کہ وہ اپنے دکھتے ہوئے بازوؤں کو یوں ہی تہ رکھے راہداری کے پرلے سرے پر وہ کس سے ملے گی کوئی خواب راتوں کی بوجھل ہوا میں کسی پر سمیٹے پرندے کا خواب کوئی خواب بیمار بستر پہ بجھتے سمے رات کے نرم پاؤں گزرنے کا خواب بند کمرے میں دوپہر بھر صرف اک زیر جامہ میں سونے کا خواب یا ...

مزید پڑھیے

خانہ بدوشوں کا گیت

اب کس لیے جہان خرابی میں گھومنا وہ سو گئی تو اس نے نہ دیکھا کہ اس کے بعد کتنی بڑی قطار کھلے زاویوں کی تھی وقت آ گیا تھا وصل و مکافات وصل کا اونچی زمیں پہ ریل کی کھڑکی کے ساتھ ساتھ غاروں میں بستروں میں زمیں پر رضائی میں اب کس لیے جہان خرابی میں لوٹنا سو آشیاں کو مثل کبوتر ...

مزید پڑھیے

ابن زیاد کا فرمان

تمہاری ہڈیاں مڑتی نہیں ہیں رحم مادر سے نکلنے کے لیے بیتاب ہو سوتے رہو یہ گھر گرہستی کا زمانہ ہے مویشی اصطبل میں جائیں گے اور اونٹ خیمے میں فرس ابن زیادہ کے لیے عضو زیادہ ہے سواری واسطے مشکی ہرن زنجیر کرتے ہیں زمین شور سے شوریدہ سر عفریت سے بونے سمندر سے گلابی مچھلیاں مٹی سے سورج ...

مزید پڑھیے

جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا

یہ مصدر اسم ماضی کا نہیں ہے آپ کہیے تو بتا دیتے ہیں ہونے کو جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا وہ تم سے ابن ملجم کا پتا پوچھیں تو کہنا چار ہفتوں سے بہت مصروف ہے روٹی نہیں کھائی سروں کی فصل بار خشک سالی سے گراں ہے لوگ مسجد بھی نہیں جاتے میں اس کو مسجد ...

مزید پڑھیے

جی ڈرتا ہے

جی ڈرتا ہے بے غرض محبت کرنے والے اچھی نسل کے دوستوں سے انہیں دریا بیچ جواب ملا یہ کشتی چھ شہتیروں اور دس کیلوں سے یہیں دریا بیچ بنائی تھی سو اس میں آگ لگی جی ڈرتا ہے تمہیں لوٹ کے آنا اچھا لگا مجھے چھت کی بیلیں ہری ملیں انہیں دھوپ نہ دینا جاڑوں میں یہ بستر میرے گھر کے نہیں تمہیں ...

مزید پڑھیے

مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں

مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں کسی اور کے پاؤں کی مٹی ہے دروازہ کھلا اور ماہ زوال در آیا بند مکاں کے روزن در سے آگے سات دلہن کی قبر ہے نیچے کوزہ گروں کی بستی ہے کوزہ گروں کی بستی میں مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں بڑے قصے ہیں بڑے قصے ہیں دل صبر و سوال کے سننے کے بڑی باتیں سیف و کتاب پہ لکھنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 452 سے 960