شاعری

ویرانہ

رائیگاں وقت کے ویرانے میں کہ جہاں درد ہراساں ہے بگولوں کی طرح مضطرب فکر سے زخمی طائر کب سے ہیں خاک نشیں زرد لمحات کے ملبے میں دبے جذبہ و احساس کے کچلے ہوئے جسم اور تا حد نظر کاوش پیہم کے کھنڈر کہ جہاں یاس کے بھوتوں نے لگا رکھا ہے ڈیرا اپنا کہنہ الفاظ کی زنجیر میں جکڑے ہوئے معنی کے ...

مزید پڑھیے

سنگ جاں

آب خفتہ میں اک سنگ پھینکا تو ہے دائرے سطح ساکت پہ ابھرے ہیں پھینکیں گے مٹ جائیں گے اور وہ سنگ جاں اپنی یہ داستاں زیر بار جمود گراں ایک سنگ ملامت کی مانند دہرائے گا وہ جس کا انتظار تھا وہ جس کا انتظار تھا شفق کو بادلوں کو رہ گزر کو آبشار کو خزاں کی پتیوں کو چاندنی کو دھوپ کو بہار ...

مزید پڑھیے

جذبۂ بیکرانہ

لٹا دو لٹا دو یہ افکار و انوار کا نیم خفتہ خزانہ امڈتے سمٹتے تلاطم سے ڈھالو کوئی درد آگیں فسانہ مکاں لا مکاں ہے زماں بے کراں ہے نہاں ہے اسی محور آرزو میں تمہارے خد و خال کا عکس موہوم پرواز کا جذبۂ بیکرانہ گھنی اور بے نور راہوں میں بناؤ گی کیا آشیانہ لٹا دو لنڈھا دو بچی ہے جو اب ...

مزید پڑھیے

موت

افق زیست سے اک اور ستارہ ٹوٹا اک کرن اور ہوئی رات کی ظلمت میں اسیر پھر کسی نغمۂ بیتاب کی لے ساز سے آزاد ہوئی ایک تابندہ حقیقت کہ جو تھی راز ہوئی سرد پیمان وفا سرد ہوئی آتش شوق سرد جذبات کا طوفان خموش سرد تابندہ نگاہوں کے شرار سرد بر کیفیت غم کی سلگتی ہوئی آگ جام پر شور سے گر جانے ...

مزید پڑھیے

وہ جس کا انتظار تھا

وہ جس کا انتظار تھا شفق کو بادلوں کو رہ گزر کو آبشار کو خزاں کی پتیوں کو چاندنی کو دھوپ کو بہار کو وہ جس کی آرزو تھی ساعتوں کو خامشی کو ذہن کو خیال کو تصور محال کو کھنکتی پیالیوں کو کرسیوں کو جام مے کو شمع ناتمام کو دوپہر کو شام کو وہ جس کی آہٹیں سماعتوں کے کنج میں نہاں تھیں جس کا ...

مزید پڑھیے

بند کمرہ

دیکھو پردوں کو اچھی طرح کھینچ دور اور سب کھڑکیاں بند کر دو اور اس بند کمرے سے باہر نکلو اس میں بوسیدہ صوفوں پہ اک موٹا کپڑا چڑھا کر تم نے ان کو اس انداز سے رکھ دیا ہے کہ اب دائیں کونے میں اکھڑی سفیدی پہ سیلن کے دھبے کم و بیش نظروں سے پوشیدہ ہیں اور بائیں طرف ٹوٹے ڈبوں پرانے ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

میں نے ڈھونڈا تمہیں لمحوں کے سیہ خانے میں سرمگیں رات کا لرزیدہ ستارہ جیسے عمر جس کی ہو بس اک شب کی پریشاں نظری تم نے دیکھا مجھے ایام کے چٹخے ہوئے آئینے میں شمع خود سوختہ کی طرح پگھلتے ہوئے لمحہ لمحہ برق پا وقت کی ہر موج ہے خاشاک ہیں یہ شام و سحر یہ مہ و سال کوئی لرزیدہ ...

مزید پڑھیے

دن کا کرب

اور پھر صبح نے لپیٹے دبیز خوابوں کے نرم بستر دن کی دکھتی رگوں میں اترے شدید مایوسیوں کے نشتر سمٹ کے بیٹھے الم کی ٹہنی پہ پر بریدہ شکستہ پا آرزو کے طائر وفا کے آنگن میں ناتواں خستہ حال امیدوں کی سانس اکھڑی اور دیوار و در پہ منڈلائے کینہ خو نفرتوں کے دل چر شکستہ لمحوں کے ...

مزید پڑھیے

سنگ جاں

آب خفتہ میں اک سنگ پھینکا تو ہے دائرے سطح ساکت پہ ابھرے ہیں پھیلیں گے مٹ جائیں گے اور وہ سنگ جاں اپنی یہ داستاں زیر بار جمود گراں ایک سنگ ملامت کی مانند دہرائے گا

مزید پڑھیے

زخمی خوابوں کی تیسری دنیا

صدر مملکت نے اپنی دولت کو ضرب لگائی اور پرائے ملک میں ایک قبر کرائے پر لے لی تاکہ اس کی لاش محفوظ رہے روشنی نے دنیا کا سفر کیا مگر کسی عدالت میں انصاف نہ ملا کہ اندھے ترازو نے تو کبھی آنکھیں ہی نہیں کھولیں دیواریں تمام رات جاگتی رہیں سامان پڑا رہا لیکن گھروں سے لڑکیاں چرا لی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 44 سے 960