شاعری

سوری جنٹلمین

روشنی میرا مسئلہ ہے تاریکی تمہارا مسئلہ ہے غربت میرا ورثہ ہے دولت تمہارا ترکہ ہے تم بہت سی چیزیں خرید سکتے ہو میں کچھ چیزیں فروخت نہیں کر سکتا میں بول سکتا ہوں تم سن نہیں سکتے تم محبت نہیں کر سکتے میں نفرت نہیں کر سکتا تم رو نہیں سکتے میں ہنس نہیں سکتا اوہ تم تو دیکھ بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

قبرستان میں خود کلامی

مرے پاس موت کے بہت سے آپشنز ہیں میں کسی بھی وقت کہیں بھی مارا جا سکتا ہوں موبائل چھیننے والا نوجوان مجھے ٹخنے پر گولی مار سکتا ہے پولس کے ناکے پر نہ رکنے کی پاداش میں مجھے تھانے کے اندر مارا جا سکتا ہے رات کے پچھلے پہر گھر میں گھسنے والا ڈاکو کالی جیب ہونے کے جرم میں مجھے بندوق کے ...

مزید پڑھیے

منفی شعور کا اک ورق

کیا اس نظام کو جاگیر دار بدلے گا؟ جو میرے ووٹ سے منتخب ہوتا ہے اور میرے خوابوں پر ٹیکس لگاتا ہے کیا اس نظام کو سرمایہ دار بدلے گا؟ جو مجھ سے بارہ گھنٹے کی بیگار لیتا ہے مگر آٹھ گھنٹے کی اجرت دینے پر بھی تیار نہیں! کیا دانشور اس نظام کو بدل سکتا ہے؟ مگر وہ تو ایک پلاٹ یا غیر ملکی ...

مزید پڑھیے

انفارمیشن ٹیکنالوجی

نظام بدل رہا ہے نئے سکے رائج ہو چکے ہیں نئے رجسٹروں پر پرانے ہندسے مکھیوں کی طرح بھنبھنانے لگے ہیں کی بورڈ سے زنجیر کیے گئے ہاتھ سات آسمانوں پر دستک دینے کی مشق کر رہے ہیں نیوئن سائن سے باہر آتی ہوئی لڑکی خالی جیبوں کی طرف اشارہ کر کے مسکراتی ہے اور نوجوانی شیح نیک ٹائیاں ...

مزید پڑھیے

نشر مکرر

وہ شام جب سڑکیں گل سرخ سے بھری ہوئیں تھیں ایوان انصاف پر اندھیرا اتر رہا تھا میں نے گردن اور کانوں کو کوٹ کے لمبے کالر میں چھپا لیا تاکہ باقی ماندہ لہو کی گردش چہرے تک نہ آ سکے ابابیلیں اپنے مسکنوں سے دیوانہ وار نکل آئیں اور گنبدوں میں بولنے والے کبوتروں نے چپ چاپ اپنی ...

مزید پڑھیے

مکڑی کی ذہانت

سناؤں تمہیں آج اک ماجرا کہ اک لڑکا مکڑی کے پیچھے پڑا پھر اس نے بڑا ایک ڈنڈا لیا پکڑ کر سرے پر اسے رکھ دیا وہاں پاس تھا ایک دریا بڑا وہ ڈنڈے پہ مکڑی کو لے کے بڑھا بہت دور پانی میں گاڑا اسے کہ اس وقت پانی تھا بپھرا ہوا کنارے وہ چپ چاپ بیٹھا رہا کہ دیکھیں تماشہ اب ہوتا ہے کیا نکلتی ہے ...

مزید پڑھیے

آدھے راستے میں

مجھے گھر جانے دو میں چھت کو جانے والی سیڑھی پر بیٹھ کر رنگ برنگی پتنگوں اور اڑتے ہوئے سفید کبوتروں کو دیکھنا چاہتا ہوں مجھے گھر جانے دو میرے گھر کی پچھلی گلی میں سرسراتی ٹھنڈی ہوا ایک دھانی آنچل اور کھڑکیوں میں سجے پھول میرے منتظر ہیں میں شیشم کے تنے پر کھدا ہوا آدھا دن چھوٹے ...

مزید پڑھیے

حکایت گریزاں

میں کہ لا انتہا وقت کی رہ گزر پر صرف اک لمحۂ مختصر میں کہ احساس و افکار کے بحر ذخار میں صرف اک قطرہ مضطرب میں کہ صحرائے ہستی کی تپتی ہوئی ریت پر صرف اک ذرہ سرنگوں میں کہ اک وسعت کائنات حسیں میں صرف اک نقطۂ بے سکوں میں وہ قطرہ کہ جس میں سمندر کی بیتابیاں موجزن ہیں وہ لمحہ جو ...

مزید پڑھیے

یہ خوابوں کے سائے

یہ خوابوں کے سائے مری نیند کی شانت وادی میں کس طرح آئے کسی اور دنیا کے موہوم پیکر کسی اور جنگل کی شاخوں کے سائے پر اسرار جذبوں کی بارش میں بھیگے نہائے گریزاں کئی ساعتوں کو اٹھائے مرے پاس آئے مگر میں بڑھی جب بھی ان دھندلے خاکوں کو مٹھی میں بھرنے وہ غائب ہوئے پیچ کھاتے ہوئے اک گھنی ...

مزید پڑھیے

وہ حرف و صوت و صدا

وہ حرف جو فضائے نیل گوں کی وسعتوں میں قید تھا وہ صوت جو حصار خامشی میں جلوہ ریز تھی صدا جو کوہسار کی بلندیوں پہ محو خواب تھی ردائے برف سے ڈھکی وہ لفظ جو فضا کے نیلے آنچلوں سے چھن کے جذب ہو رہا تھا ریگ زار وقت میں جو ذرہ ذرہ منتشر تھا دھندلی دھندلی ساعتوں کی گرد میں وہ معنیٔ گریز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 43 سے 960