شاعری

فرہاد

اس سے ملنا تو اس طرح کہنا تجھ سے پہلے مری نگاہوں میں کوئی روپ اس طرح نہ اترا تھا تجھ سے آباد ہے خرابۂ دل ورنہ میں کس قدر اکیلا تھا تیرے ہونٹوں پہ کوہسار کی اوس تیرے چہرے پہ دھوپ کا جادو تیری سانسوں کی تھرتھراہٹ میں کونپلوں کے کنوار کی خوشبو وہ کہے گی کہ ان خطابوں سے اور کس کس پہ ...

مزید پڑھیے

آدمی

مجھ کو محصور کیا ہے مری آگاہی نے میں نہ آفاق کا پابند نہ دیواروں کا میں نہ شبنم کا پرستار نہ انگاروں کا نہ خلاؤں کا طلب گار نہ سیاروں کا زندگی دھوپ کا میدان بنی بیٹھی ہے اپنا سایہ بھی گریزاں، ترا داماں بھی خفا رات کا روپ بھی بے زار، چراغاں بھی خفا صبح حیراں بھی خفا، شام حریفاں ...

مزید پڑھیے

تعمیر

اپنے سینے میں دبائے ہوئے لاکھوں شعلے شبنم و برف کے نغمات سنائے میں نے زیست کے نوحۂ پیہم سے چرا کر آنکھیں گیت جو گا نہ سکے کوئی وہ گائے میں نے آج تشبیہ و کنایات کا دل ٹوٹ گیا آج میں جو بھی کہوں گا وہ حقیقت ہوگی آنچ لہرائے گی ہر بوند سے پیمانے کی میرے سائے کو مری شکل سے وحشت ...

مزید پڑھیے

رہ و رسم آشنائی

زمیں نئی تھی، فلک نا شناس تھا جب ہم تری گلی سے نکل کر سوئے زمانہ چلے نظر جھکا کے بہ انداز مجرمانہ چلے چلے بہ جیب دریدہ، بہ دامن صد چاک کہ جیسے جنس دل و جاں گنوا کے آئے ہیں تمام نقد سیادت لٹا کے آئے ہیں جہاں اک عمر کٹی تھی، اسی قلمرو میں شناخت کے لئے ہر شاہراہ نے ٹوکا ہر اک نگاہ کے ...

مزید پڑھیے

دیدنی

میری پلکوں کو مت دیکھو ان کا اٹھنا ان کا جھپکنا جسم کا نا محسوس عمل ہے میری آنکھوں کو مت دیکھو ان کی اوٹ میں شام غریباں ان کی آڑ میں دشت ازل ہے میرے چہرے کو مت دیکھو اس میں کوئی وعدۂ فردا اس میں کوئی آج نہ کل ہے اب اس دریا تک مت آؤ جس کی لہریں ٹوٹ چکی ہیں اس سینے سے لو نہ لگاؤ جس کی ...

مزید پڑھیے

دوری

اے بہار تجھ کو اس کی کیا خبر اے نگار تجھ کو کیا پتا دل کے فاصلے کبھی نہ مٹ سکے انتہائے قرب سے بھی کیا سب کی اپنی اپنی شخصیت الگ سب کا اپنا اپنا زاویہ وہ بھی پھول تھے جو ہار بن گئے وہ بھی پھول تھا جو جل گیا

مزید پڑھیے

آواز کے سائے

خبر نہیں تم کہاں ہو یارو ہماری افتاد روز و شب کی تمہیں خبر مل سکی، کہ تم بھی رہین دست خزاں ہو یارو دنوں میں تفریق مٹ چکی ہے کہ وقت سے خوش گماں ہو یارو ابھی لڑکپن کے حوصلے ہیں کہ بے سر و سائباں ہو یارو ہماری افتاد روز و شب میں نہ جانے کتنی ہی بار اب تک دھنک بنی اور بکھر چکی ہے عروس ...

مزید پڑھیے

آخری بار ملو

آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دل راکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریں چاک وعدہ نہ سلے زخم تمنا نہ کھلے سانس ہموار رہے شمع کی لو تک نہ ہلے باتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آ کر گن جائیں آنکھ اٹھائے کوئی امید تو آنکھیں چھن جائیں اس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیں جس سے اک اور ملاقات کی ...

مزید پڑھیے

آؤ چلو اسکول چلیں ہم

رات نے باندھا اپنا پرچم اب وہ کہاں ظلمت کے دم خم حسن مجسم صبح کا عالم بچوں میں ہے شور یہ پیہم آؤ چلو اسکول چلیں ہم رات گئی لے کر اندھیارا اب ہے چاروں اور اجالا بچوں نے بستوں کو سنبھالا سب نے مل کر گیت یہ گایا آؤ چلو اسکول چلیں ہم امن کی ہم پہچان بنیں گے گوتم کا نروان بنیں گے بھارت ...

مزید پڑھیے

شاعر

جو باتیں یہ لوگ کرتے ہیں کوئی اور انہیں بیان نہیں کر سکتا ان کے اندر ایک دنیا آباد ہے جہاں ہونے والی ہر بات ہر واقعہ مکمل جزئیات کے ساتھ وہ ہمیں تحریری طور پر پیش کر دیتے ہیں شاعر اپنے اندر کی ریاست کے غدار ہوتے ہیں وہ ایک مخبر سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتے

مزید پڑھیے
صفحہ 396 سے 960