شاعری

ایک علامت

گھاس سے بچ کے چلو ریت کو گلزار کہو نرم کلیوں پہ چڑھا دو غم دوراں کے غلاف خود کو دل تھام کے مرغان گرفتار کہو رات کو اس کے تبسم سے لپٹ کر سو جاؤ صبح اٹھو تو اسے شاہد بازار کہو ذہن کیا چیز ہے جذبے کی حقیقت کیا ہے فرش پر بیٹھ کے تبلیغ کے اشعار کہو اسی رفتار سے چلتا ہے جہان گزراں انہی ...

مزید پڑھیے

روح کی موت

چمک سکے جو مری زیست کے اندھیرے میں وہ اک چراغ کسی سمت سے ابھر نہ سکا یہاں تمہاری نظر سے بھی دیپ جل نہ سکے یہاں تمہارا تبسم بھی کام کر نہ سکا لہو کے ناچتے دھارے کے سامنے اب تک دل و دماغ کی بے چارگی نہیں جاتی جنوں کی راہ میں سب کچھ گنوا دیا لیکن مرے شعور کی آوارگی نہیں جاتی نہ جانے ...

مزید پڑھیے

دوراہا

جاگ اے نرم نگاہی کے پر اسرار سکوت آج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے جو خود اپنے ہی سلاسل میں گرفتار رہے ان خداؤں سے مرے غم کی دوا کیا ہوگی سوچتے سوچتے تھک جائیں گے نیلے ساگر جاگتے جاگتے سو جائے گا مدھم آکاش اس چھلکتی ہوئی شبنم کا ذرا سا قطرہ کسی معصوم سے رخسار پہ جم جائے گا ایک تارا ...

مزید پڑھیے

اجالا

میری ہمدم، مرے خوابوں کی سنہری تعبیر مسکرا دے کہ مرے گھر میں اجالا ہو جائے آنکھ ملتے ہوئے اٹھ جائے کرن بستر سے صبح کا وقت ذرا اور سہانا ہو جائے میرے نکھرے ہوئے گیتوں میں ترا جادو ہے میں نے معیار تصور سے بنایا ہے تجھے میری پروین تخیل، مری نسرین نگاہ میں نے تقدیس کے پھولوں سے ...

مزید پڑھیے

جدائی

نگار شام غم میں تجھ سے رخصت ہونے آیا ہوں گلے مل لے کہ یوں ملنے کی نوبت پھر نہ آئے گی سر راہے جو ہم دونوں کہیں مل بھی گئے تو کیا یہ لمحے پھر نہ لوٹیں گے یہ ساعت پھر نہ آئے گی کہ میں اب صرف ان گزرے ہوئے لمحوں کا سایہ ہوں اسی بازار میں بارہ برس ہونے کو آئے ہیں کہ میں نے فاسٹس کی طرح اپنی ...

مزید پڑھیے

وصال

وہ نہیں تھی تو دل اک شہر وفا تھا جس میں اس کے ہونٹوں کے تصور سے تپش آتی تھی اس کے انکار پہ بھی پھول کھلے رہتے تھے اس کے انفاس سے بھی شمع جلی جاتی تھی دن اس امید پہ کٹتا تھا کہ دن ڈھلتے ہی اس نے کچھ دیر کو مل لینے کی مہلت دی ہے انگلیاں برق زدہ رہتی تھیں جیسے اس نے اپنے رخساروں کو ...

مزید پڑھیے

دور کی آواز

میرے محبوب دیس کی گلیو تم کو اور اپنے دوستوں کو سلام اپنے زخمی شباب کو تسلیم اپنے بچپن کے قہقہوں کو سلام عمر بھر کے لیے تمہارے پاس رہ گئی ہے شگفتگی میری آخری رات کے اداس دیو یاد ہے تم کو بے بسی میری یاد ہے تم کو جب بھلائے تھے عمر بھر کے کیے ہوئے وعدے رسم و مذہب کی اک پجارن نے ایک ...

مزید پڑھیے

انتہا

پھر آج یاس کی تاریکیوں میں ڈوب گئی! وہ اک نوا جو ستاروں کو چوم سکتی تھی سکوت شب کے تسلسل میں کھو گئی چپ چاپ جو یاد وقت کے محور پہ گھوم سکتی تھی ابھی ابھی مری تنہائیوں نے مجھ سے کہا کوئی سنبھال لے مجھ کو، کوئی کہے مجھ سے ابھی ابھی کہ میں یوں ڈھونڈھتا تھا راہ فرار پتہ چلا کہ مرے ...

مزید پڑھیے

ایک شام

یوں تو لمحوں کے اس تسلسل میں اب سے پہلے بھی عمر کٹتی تھی موم بتی کی روشنی میں نظر حافظے کے ورق الٹتی تھی ریت کے سوگوار ٹیلوں پر چاندنی رات بھر بھٹکتی تھی آج لیکن تھکے ہوئے دل پر جسم کا تار تار بھاری ہے شام کی دم بخود ہواؤں پر صبح کا انتظار بھاری ہے مقبروں سے اٹھی ہوئی ...

مزید پڑھیے

رات سنسان ہے

میز چپ چاپ گھڑی بند کتابیں خاموش اپنے کمرے کی اداسی پہ ترس آتا ہے میرا کمرہ جو مرے دل کی ہر اک دھڑکن کو سالہا سال سے چپ چاپ گنے جاتا ہے جہد ہستی کی کڑی دھوپ میں تھک جانے پر جس کی آغوش نے بخشا ہے مجھے ماں کا خلوص جس کی خاموش عنایت کی سہانی یادیں لوریاں بن کے مرے دل میں سما جاتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 395 سے 960