ایک علامت
گھاس سے بچ کے چلو ریت کو گلزار کہو نرم کلیوں پہ چڑھا دو غم دوراں کے غلاف خود کو دل تھام کے مرغان گرفتار کہو رات کو اس کے تبسم سے لپٹ کر سو جاؤ صبح اٹھو تو اسے شاہد بازار کہو ذہن کیا چیز ہے جذبے کی حقیقت کیا ہے فرش پر بیٹھ کے تبلیغ کے اشعار کہو اسی رفتار سے چلتا ہے جہان گزراں انہی ...