شاعری

مفلسی

جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسی کس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسی پیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسی بھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسی یہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسی کہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاں تعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاں مفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاں عیسیٰ بھی ہو تو ...

مزید پڑھیے

فنا

دنیا میں کوئی شاد کوئی درد ناک ہے یا خوش ہے یا الم کے سبب سینہ چاک ہے ہر ایک دم سے جان کا ہر دم تپاک ہے ناپاک تن پلید نجس یا کہ پاک ہے جو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے ہے آدمی کی ذات کا اس جا بڑا ظہور لے عرش تا بہ فرش چمکتا ہے جس کا نور گزرے ہے ان کی قبر پہ جب وحش اور طیور رو رو یہی کہے ...

مزید پڑھیے

گرو نانک

ہیں کہتے نانک شاہ جنہیں وہ پورے ہیں آگاہ گرو وہ کامل رہبر جگ میں ہیں یوں روشن جیسے ناہ گرو مقصود مراد امید سبھی بر لاتے ہیں دل خواہ گرو نت لطف و کرم سے کرتے ہیں ہم لوگوں کا نرباہ گرو اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو ہر آن دلوں وچ ...

مزید پڑھیے

روٹیاں

جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاں پھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاں آنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاں سینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاں جتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں روٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھرا کرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جا دیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل ...

مزید پڑھیے

ہولی

ملنے کا ترے رکھتے ہیں ہم دھیان ادھر دیکھ بھاتی ہے بہت ہم کو تری آن ادھر دیکھ ہم چاہنے والے ہیں ترے جان ادھر دیکھ ہولی ہے صنم ہنس کے تو اک آن ادھر دیکھ اے رنگ بھرے نو گل خنداں ادھر دیکھ ہم دیکھنے تیرا یہ جمال اس گھڑی اے جاں آئے ہیں یہی کرکے خیال اس گھڑی اے جاں تو دل میں نہ رکھ ہم سے ...

مزید پڑھیے

ہولی

جدا نہ ہم سے ہو اے خوش جمال ہولی میں کہ یار پھرتے ہیں یاروں کے تال ہولی میں ہر ایک عیش سے ہے گا بحال ہولی میں بہار اور کچھ اب کے ہے سال ہولی میں مزا ہے سیر ہے ہر سو کمال ہولی میں سبھوں کے عیش کو پھاگن کا یہ مہینہ ہے سفید و زرد میں لیکن کمال کینا ہے طلا کا زرد کنے سربسر خزینہ ہے سفید ...

مزید پڑھیے

دارالمکافات

ہے دنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہے جو مہنگوں کو یہ مہنگی ہے اور سستوں کو یہ سستی ہے یاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہے گر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہے کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے جو ...

مزید پڑھیے

بنجارہ نامہ

ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے مارا قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارا کیا بدھیا بھینسا بیل شتر کیا گو میں پلا سر بھارا کیا گیہوں چانول موٹھ مٹر کیا آگ دھواں اور انگارا سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا گر تو ہے لکھی بنجارا اور کھیپ بھی تیری بھاری ہے اے ...

مزید پڑھیے

ہولی

قاتل جو میرا اوڑھے اک سرخ شال آیا کھا کھا کے پان ظالم کر ہونٹھ لال آیا گویا نکل شفق سے بدر کمال آیا جب منہ سے وہ پری رو مل کر گلال آیا اک دم تو دیکھ اس کو ہولی کو حال آیا عیش و طرب کا سامان ہے آج سب گھر اس کے اب تو نہیں ہے کوئی دنیا میں ہمسر اس کے از ماہ تاب ماہی بندے ہیں بے زر اس ...

مزید پڑھیے

آدمی نامہ

دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی ٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی ابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئے منکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرے کیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیے حتٰی کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 360 سے 960