شاعری

آ لگی ہے ریت

آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ سارے دروازوں کے ساتھ سرخ اینٹوں کی چھتوں پر رینگتی ہے نیلی نیلی کھڑکیوں سے جھانکتی ہے ریت ریت رک جا کھیل طے کر لیں سنہرے تاش کے پتوں سے درزوں روزنوں کو بند کر لیں ریت رک جا سست برساتیں کہ جن پر دوڑ پڑنا جن کو دانتوں میں چبا لینا کوئی مشکل نہ تھا تو نے ...

مزید پڑھیے

اندھا کباڑی

شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ہوئے پا شکستہ سر بریدہ خواب جن سے شہر والے بے خبر! گھومتا ہوں شہر کے گوشوں میں روز و شب کہ ان کو جمع کر لوں دل کی بھٹی میں تپاؤں جس سے چھٹ جائے پرانا میل ان کے دست و پا پھر سے ابھر آئیں چمک اٹھیں لب و رخسار و گردن جیسے نو آراستہ دولہوں کے دل کی حسرتیں پھر سے ...

مزید پڑھیے

ابو لہب کی شادی

شب زفاف ابو لہب تھی مگر خدایا وہ کیسی شب تھی ابو لہب کی دلہن جب آئی تو سر پہ ایندھن گلے میں سانپوں کے ہار لائی نہ اس کو مشاطگی سے مطلب نہ مانگ غازہ نہ رنگ روغن گلے میں سانپوں کے ہار اس کے تو سر پہ ایندھن خدایا کیسی شب زفاف ابو لہب تھی یہ دیکھتے ہی ہجوم بپھرا بھڑک اٹھے یوں غضب کہ ...

مزید پڑھیے

سبا ویراں

سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراں سبا ویراں، سبا آسیب کا مسکن سبا آلام کا انبار بے پایاں! گیاہ و سبزہ و گل سے جہاں خالی ہوائیں تشنۂ باراں، طیور اس دشت کے منقار زیر پر تو سرمہ ور گلو انساں سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراں! سلیماں سر بہ زانو ترش رو، غمگیں، پریشاں مو جہانگیری، ...

مزید پڑھیے

کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟

لب بیاباں، بوسے بے جاں کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟ جسم کی یہ کار گاہیں جن کا ہیزم آپ بن جاتے ہیں ہم! نیم شب اور شہر خواب آلودہ، ہمسائے کہ جیسے دزد شب گرداں کوئی! شام سے تھے حسرتوں کے بندۂ بے دام ہم پی رہے تھے جام پر ہر جام ہم یہ سمجھ کر جرعۂ پنہاں کوئی شاید آخر ابتدائے راز کا ...

مزید پڑھیے

بادل

چھائے ہوئے ہیں چار طرف پارہ ہائے ابر آغوش میں لیے ہوئے دنیائے آب و رنگ میرے لیے ہے ان کی گرج میں سرود و چنگ پیغام انبساط ہے مجھ کو صدائے ابر اٹھی ہے ہلکے ہلکے سروں میں نوائے ابر اور قطر ہائے آب بجاتے ہیں جل ترنگ گہرائیوں میں روح کی جاگی ہے ہر امنگ دل میں اتر رہے ہیں مرے نغم ہائے ...

مزید پڑھیے

(1) حسن کوزہ گر

جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگے یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں! تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسف کی دکان پر میں نے دیکھا تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں جہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں! یہ وہ دور تھا جس میں میں نے کبھی ...

مزید پڑھیے

بے کراں رات کے سناٹے میں

تیرے بستر پہ مری جان کبھی بے کراں رات کے سناٹے میں جذبۂ شوق سے ہو جاتے ہیں اعضا مدہوش اور لذت کی گراں باری سے ذہن بن جاتا ہے دلدل کسی ویرانے کی اور کہیں اس کے قریب نیند، آغاز زمستاں کے پرندے کی طرح خوف دل میں کسی موہوم شکاری کا لیے اپنے پر تولتی ہے، چیختی ہے بے کراں رات کے سناٹے ...

مزید پڑھیے

دوری

مجھے موت آئے گی، مر جاؤں گا میں، تجھے موت آئے گی، مر جائے گی تو، وہ پہلی شب مہ شب ماہ دونیم بن جائے گی جس طرح ساز کہنہ کے تار شکستہ کے دونوں سرے دور افق کے کناروں کے مانند بس دور ہی دور سے تھرتھراتے ہیں اور پاس آتے نہیں ہیں نہ وہ راز کی بات ہونٹوں پہ لاتے ہیں جس نے مغنی کو دور زماں و ...

مزید پڑھیے

دل مرے صحرا نورد پیر دل

نغمہ در جاں رقص برپا خندہ بر لب دل تمناؤں کے بے پایاں الاؤ کے قریب دل مرے صحرا نورد پیر دل ریگ کے دل شاد شہری ریگ تو اور ریگ ہی تیری طلب ریگ کی نکہت ترے پیکر میں تیری جاں میں ہے ریگ صبح عید کے مانند زرتاب و جلیل ریگ صدیوں کا جمال جشن آدم پر بچھڑ کر ملنے والوں کا وصال شوق کے لمحات کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 343 سے 960