شاعری

یہ خلا پر نہ ہوا

ذہن خالی ہے خلا نور سے یا نغمے سے یا نکہت گم راہ سے بھی پر نہ ہوا ذہن خالی ہی رہا یہ خلا حرف تسلی سے تبسم سے کسی آہ سے پر نہ ہوا اک نفی لرزش پیہم میں سہی جہد بے کار کے ماتم میں سہی ہم جو نارس بھی ہیں غم دیدہ بھی ہیں اس خلا کو (اسی دہلیز پہ سوئے ہوئے سرمست گدا کے مانند) کسی مینار کی ...

مزید پڑھیے

زمانہ خدا ہے

''زمانہ خدا ہے، اسے تم برا مت کہو'' مگر تم نہیں دیکھتے زمانہ فقط ریسمان خیال سبک مایہ، نازک، طویل جدائی کی ارزاں سبیل! وہ صبحیں جو لاکھوں برس پیشتر تھیں، وہ شامیں جو لاکھوں برس بعد ہوں گی، انہیں تم نہیں دیکھتے، دیکھ سکتے نہیں کہ موجود ہیں اب بھی، موجود ہیں وہ کہیں مگر یہ نگاہوں کے ...

مزید پڑھیے

میر ہو مرزا ہو میرا جی ہو

میر ہو مرزا ہو میرا جی ہو نارسا ہاتھ کی نمناکی ہے ایک ہی چیخ ہے فرقت کے بیابانوں میں ایک ہی طول الم ناکی ہے ایک ہی روح جو بے حال ہے زندانوں میں ایک ہی قید تمنا کی ہے عہد رفتہ کے بہت خواب تمنا میں ہیں اور کچھ واہمے آئندہ کے پھر بھی اندیشہ وہ آئینہ ہے جس میں گویا میر ہو مرزا ہو میرا ...

مزید پڑھیے

تصوف

ہم تصوف کے خرابوں کے مکیں وقت کے طول المناک کے پروردہ ہیں، ایک تاریک ازل، نور ابد سے خالی! ہم جو صدیوں سے چلے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ساحل پایا اپنی دن رات کی پا کوبی کا حاصل پایا ہم تصوف کے نہاں خانوں میں بسنے والے اپنی پامالی کے افسانوں پہ ہنسنے والے ہم سمجھتے ہیں نشان سر منزل ...

مزید پڑھیے

چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سے

چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سے کئی لذتوں کا ستم لیے جو سمندروں کے فسوں میں ہیں مرا ذہن ہے وہ صنم لیے وہی ریگ زار ہے سامنے وہی ریگ زار کہ جس میں عشق کے آئنے کسی دست غیب سے ٹوٹ کر رہ تار جاں میں بکھر گئے! ابھی آ رہا ہوں سمندروں کی مہک لیے وہ تھپک لیے جو سمندروں کی نسیم میں ہے ہزار رنگ ...

مزید پڑھیے

(حسن کوزہ گر (4

جہاں زاد کیسے ہزاروں برس بعد اک شہر مدفون کی ہر گلی میں مرے جام و مینا و گل داں کے ریزے ملے ہیں کہ جیسے وہ اس شہر برباد کا حافظہ ہوں حسن نام کا اک جواں کوزہ گر اک نئے شہر میں اپنے کوزے بناتا ہوا عشق کرتا ہوا اپنے ماضی کے تاروں میں ہم سے پرویا گیا ہے ہمیں میں کہ جیسے ہمیں ہوں سمویا ...

مزید پڑھیے

گماں کا ممکن۔ جو تو ہے میں ہوں

کریم سورج جو ٹھنڈے پتھر کو اپنی گولائی دے رہا ہے جو اپنی ہمواری دے رہا ہے (وہ ٹھنڈا پتھر جو میرے مانند بھورے سبزوں میں دور ریگ و ہوا کی یادوں میں لوٹتا ہے) جو بہتے پانی کو اپنی دریا دلی کی سرشاری دے رہا ہے وہی مجھے جانتا نہیں مگر مجھی کو یہ وہم شاید کہ آپ اپنا ثبوت اپنا جواب ہوں ...

مزید پڑھیے

تعارف

اجل، ان سے مل، کہ یہ سادہ دل نہ اہل صلوٰۃ اور نہ اہل شراب، نہ اہل ادب اور نہ اہل حساب، نا اہل کتاب نہ اہل کتاب اور نہ اہل مشین نہ اہل خلا اور نہ اہل زمین فقط بے یقین اجل، ان سے مت کر حجاب اجل، ان سے مل! بڑھو، تم بھی آگے بڑھو اجل سے ملو، بڑھو، نو تونگر گداؤ نہ کشکول دریوزہ گردی ...

مزید پڑھیے

افسانۂ شہر

شہر کے شہر کا افسانہ وہ خوش فہم مگر سادہ مسافر کہ جنہیں عشق کی للکار کے رہزن نے کہا: آؤ! دکھلائیں تمہیں ایک در بستہ کے اسرار کا خواب شہر کے شہر کا افسانہ وہ دل جن کے بیاباں میں کسی قطرۂ گم گشتہ کے ناگاہ لرزنے کی صدا نے یہ کہا: ''آؤ دکھلائیں تمہیں صبح کے ہونٹوں پہ تبسم کا سراب!'' شہر ...

مزید پڑھیے

ستارے

نکل کر جوئے نغمہ خلد زار ماہ و انجم سے فضا کی وسعتوں میں ہے رواں آہستہ آہستہ بہ سوئے نوحہ آباد جہاں آہستہ آہستہ نکل کر آ رہی ہے اک گلستان ترنم سے ستارے اپنے میٹھے مدھ بھرے ہلکے تبسم سے کیے جاتے ہیں فطرت کو جواں آہستہ آہستہ سناتے ہیں اسے اک داستاں آہستہ آہستہ دیار زندگی مدہوش ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 342 سے 960