ہمہ اوست
خیابان سعدی میں روسی کتابوں کی دکان پر ہم کھڑے تھے مجھے روس کے چیدہ صنعت گروں کے نئے کارناموں کی اک عمر سے تشنگی تھی! مجھے روسیوں کے سیاسی ''ہمہ اوست'' سے کوئی رغبت نہیں ہے مگر ذرے ذرے میں انساں کے جوہر کی تابندگی دیکھنے کی تمنا ہمیشہ رہی ہے! اور اس شام تو مرسدہ کی عروسی تھی اس شوخ ...