شاعری

والد

ابا تم مجھ کو یاد آتے ہو تم مجھے ہر گھڑی رلاتے ہو تم گئے ہو اکیلا کر کے مجھے کر دیا زندہ تم نے مر کے مجھے بانہوں والی وہ کھٹیا خالی ہے رات کیا زندگی ہی کالی ہے زندگی خالی خالی لگتی ہے بس یہی سوچ دل میں پلتی ہے صرف تنہائی دیکھتا ہوں اب جانے کیا کیا میں سوچتا ہوں اب کون اب حوصلہ ...

مزید پڑھیے

بچپن

وہ گلیوں میں بارش وہ گل نار چہرے تمناؤں کے وہ بھنور گہرے گہرے بھری دھوپ میں وہ پتنگیں پکڑنا ''وہ باتوں ہی باتوں میں لڑنا جھگڑنا'' کوئی کاش مجھ پر یہ احسان کر دے کی بچپن کے کچھ پل میرے نام کر دے میں اب اس پرانے محلے میں جا کر خدا سے یہ فریاد کرنے لگا ہوں میں بچپن تجھے یاد کرنے لگا ...

مزید پڑھیے

پرچھائیاں

کاش اک شب کوئی چاند ایسا اگے عادتاً تو مجھے یوں تو جس میں دکھے ہاں اگر عکس ہو وہ ترا آخری درد کا ہو یہ منظر مرا آخری اس سحر میں کھلے آنکھ میری کی جب یوں لگے جیسے تو ہے نہیں تھا نہیں وہ جو لمحے گزر کر گیا تھا کبھی یوں لگے وہ کبھی جیسے گزرا نہیں پر خیالات تو پھر خیالات ہیں کچھ نہیں ...

مزید پڑھیے

ننھی فرحتؔ

ننھی منی پیاری فرحتؔ ہے ماں باپ کے دل کی راحت شوق سے مکتب جاتی ہے وہ جی پڑھنے میں لگاتی ہے وہ استانی جی کی ہے وہ پیاری ماں کی ہے وہ راج دلاری خوب سبق فرفر ہے سناتی مکتب سے انعام ہے پاتی ماں جو سبق سنتی ہے گھر پر پیار سے کرتی خوش ہو ہو کر باپ ہے لاتا واسطے اس کے چیزی کپڑے گڑیاں ...

مزید پڑھیے

دیانت دار لڑکی

غریب آدمی ایک قصبے میں تھا بہت دل میں رکھتا تھا خوف خدا غریبی میں ایمان داری میں بھی نہ قصبے میں تھا اس سے بڑھ کر کوئی اکیلا نہ تھا بیوی بچے بھی تھے جو تھے سب کے سب نیک خصلت بڑے سہانا سماں دن تھا اتوار کا کہ اک چھوٹی لڑکی سے ماں نے کہا اٹھو لاؤ آٹا کہ روٹی پکاؤں بلکتے ہیں بچے انہیں ...

مزید پڑھیے

نیا چاند

ارے بھائی اختر تو کیا دیکھتا ہے سر شام کوٹھے پہ کیوں چڑھ گیا ہے قمر بھائی آؤ ادھر آؤ تم بھی کہ دیکھوں تمہاری نظر کی بھی تیزی ذرا سامنے دیکھو سرخی سے اوپر وہ بادل کے ٹکڑے سے تھوڑا سا ہٹ کر نظر آ گیا مجھ کو ہاں میں نے دیکھا ا ہا ہا نیا چاند نکلا ا ہا ہا نیا چاند بھی واہ کیا خوش نما ...

مزید پڑھیے

پہلی کرن

کوئی مجھ کو دور زمان و مکاں سے نکلنے کی صورت بتا دو کوئی یہ سجھا دو کہ حاصل ہے کیا ہستئ رائیگاں سے کہ غیروں کی تہذیب کی استواری کی خاطر عبث بن رہا ہے ہمارا لہو مومیائی میں اس قوم کا فرد ہوں جس کے حصے میں محنت ہی محنت ہے نان شبینہ نہیں ہے اور اس پر بھی یہ قوم دل شاد ہے شوکت باستاں ...

مزید پڑھیے

اتفاقات

آج، اس ساعت دزدیدہ و نایاب میں بھی، جسم ہے خواب سے لذت کش خمیازہ ترا تیرے مژگاں کے تلے نیند کی شبنم کا نزول جس سے ڈھل جانے کو ہے غازہ ترا زندگی تیرے لیے رس بھرے خوابوں کا ہجوم زندگی میرے لیے کاوش بیداری ہے: اتفاقات کو دیکھ اس حسیں رات کو دیکھ توڑ دے وہم کے جال چھوڑ دے اپنے شبستانوں ...

مزید پڑھیے

ریگ دیروز

ہم محبت کے خرابوں کے مکیں وقت کے طول المناک کے پروردہ ہیں ایک تاریک ازل نور ابد سے خالی ہم جو صدیوں سے چلے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ساحل پایا اپنی تہذیب کی پاکوبی کا حاصل پایا ہم محبت کے نہاں خانوں میں بسنے والے اپنی پامالی کے افسانوں پہ ہنسنے والے ہم سمجھتے ہیں نشان سر منزل پایا ہم ...

مزید پڑھیے

مکافات

رہی ہے حضرت یزداں سے دوستی میری رہا ہے زہد سے یارانہ استوار مرا گزر گئی ہے تقدس میں زندگی میری دل اہرمن سے رہا ہے ستیزہ کار مرا کسی پہ روح نمایاں نہ ہو سکی میری رہا ہے اپنی امنگوں پہ اختیار مرا دبائے رکھا ہے سینے میں اپنی آہوں کو وہیں دیا ہے شب و روز پیچ و تاب انہیں زبان شوق بنایا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 340 سے 960