شاعری

پذیرائی

ابھی میں نے دہلیز پر پاؤں رکھا ہی تھا کہ کسی نے مرے سر پہ پھولوں بھرا تھال الٹا دیا میرے بالوں پہ آنکھوں پہ پلکوں پہ، ہونٹوں پہ، ماتھے پہ، رخسار پر پھول ہی پھول تھے دو بہت مسکراتے ہوئے ہونٹ میرے بدن پر محبت کی گلنار مہروں کو یوں ثبت کرتے چلے جا رہے تھے کہ جیسے ابد تک مری ایک اک پور ...

مزید پڑھیے

آئینہ

لڑکی سر کو جھکائے بیٹھی کافی کے پیالے میں چمچہ ہلا رہی ہے لڑکا حیرت اور محبت کی شدت سے پاگل لانبی پلکوں کے لرزیدہ سایوں کو اپنی آنکھ سے چوم رہا ہے دونوں میری نظر بچا کر اک دوجے کو دیکھتے ہیں ہنس دیتے ہیں میں دونوں سے دور دریچے کے نزدیک اپنی ہتھیلی پر اپنا چہرہ رکھے کھڑکی سے باہر ...

مزید پڑھیے

امرتا پریتم

شدت درد و الم سے جب بھی گھبراتا ہوں میں تیرے نغموں کی گھنی چھاؤں میں آ جاتا ہوں میں زندگی کا آئنہ یہ ہے ترے فن کا کمال ہے ادھر حد فلک تک تیری پرواز خیال چل گیا سارے دلوں پر تیرا سحر سامری جاوداں اے امرتا پریتم ہے تیری شاعری شدت احساس ہو تو خود سنور جاتا ہے فن روشنی ہوتی ہے کل دنیا ...

مزید پڑھیے

زندگی

زندگی راحت جاں درد دل زار بھی ہے بانجھ کھیتی بھی ہے اور کشت گہر بار بھی ہے زندگی ایک دھنک شوخ رنگوں سے بنی زندگی قرض بھی ہے فرض بھی ہے زندگی ایک سراب زندگی جام شراب زندگی حسن شباب زندگی بوئے گلاب زندگی کیوں ہو عذاب جس نے جس رنگ میں دیکھا یہ بنی ویسی ہی شاد ناشاد تو آباد ہیں برباد ...

مزید پڑھیے

حکایت دوراںؔ

دبلا پتلا نازک دوراںؔ شیشہ جیسا نازک دوراںؔ غم کی کالی رات کا مارا اپنے ہی جذبات کا مارا آٹھوں پہر یوں کھویا کھویا جیسے گہری سوچ میں ڈوبا کم ہنسنا عادت میں داخل خاموشی فطرت میں داخل شمع کی صورت بزم میں جلنا گاہ بھڑکنا گاہ پگھلنا ماتھے پر ہر وقت شکن سی چہرہ پر آزردہ تھکن سی چہرہ ...

مزید پڑھیے

بھوکی نسل کا ترانہ

میں بھوکی نسل ہوں میرے ملول و مضمحل چہرہ پہ ٹھنڈی چاندنی کا عکس مت ڈھونڈو مرا بے رنگ و بو چہرہ جمی ہے ان گنت فاقوں کی جس پر دھول برسوں سے زمیں کے چند فرعونوں کو اپنی خشمگیں نظروں سے تکتا ہے مرے اجداد بھی میری طرح بھوکے تھے لیکن مجھ میں اور ان میں زمین و آسماں کا فرق ہے شاید وہ اپنی ...

مزید پڑھیے

ایڈن گارڈن

یہ ایڈن گارڈن ہمدم نگاہ و دل کی جنت ہے یہاں حوا کی رنگیں بیٹیاں ہر شام آتی ہیں جواں مردوں کو اپنی جاذبیت سے لبھاتی ہیں دلوں کو شرمگیں نظروں سے پیہم گدگداتی ہیں سہاگن ہے تو اس کی مانگ میں جھومر چمکتا ہے کنواری ہے تو اس کے جسم سے خوشبو نکلتی ہے گلابی مدھ بھری آنکھوں سے اک مستی ...

مزید پڑھیے

پندرہ اگست

اے لیلیٔ جمہوریت اے دلبر ہندوستاں تجھ سے فروغ شمع شب محفل میں لو کی ابتدا اہل وفا کے دیس میں تاریخ نو کی ابتدا ظلمت بد اماں خاک پر سورج کی ضو کی ابتدا ہر لب پہ تیری داستاں زلفیں تری عنبر فشاں اے دلبر ہندوستاں تو اپنے دست ناز میں اک خوش نما پرچم لئے اپنے جلو میں نو بہ نو خوشیوں کا ...

مزید پڑھیے

اک بے وفا کے نام

تیرے بھی دل میں ہوک سی اٹھے خدا کرے تو بھی ہماری یاد میں تڑپے خدا کرے مجروح ہو بلا سے ترے حسن کا غرور پر تجھ کو چشم شوق نہ دیکھے خدا کرے کھو جائیں تیرے حسن کی رعنائیاں تمام تیری ادا کسی کو نہ بھائے خدا کرے میری ہی طرح کشتئ دل ہو تری تباہ طوفان اتنے زور کا اٹھے خدا کرے راہوں کے پیچ و ...

مزید پڑھیے

شعلۂ طرب

رونے کی عمر ہے نہ سسکنے کی عمر ہے جام نشاط بن کے چھلکنے کی عمر ہے شبنم کی بوند پی کے چٹکنے کی عمر ہے گلشن میں پھول بن کے مہکنے کی عمر ہے صد مرحبا یہ گمرہیٔ شوق چشم و دل ہاں راہ آرزو میں بھٹکنے کی عمر ہے اک جرم ہے خیال و تصور گناہ کا یہ عمر صرف پی کے بہکنے کی عمر ہے دیوانہ بن کے نجد کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 331 سے 960