شاعری

مجھے مت بتانا

مجھے مت بتانا کہ تم نے مجھے چھوڑنے کا ارادہ کیا تھا تو کیوں اور کس وجہ سے ابھی تو تمہارے بچھڑنے کا دکھ بھی نہیں کم ہوا ابھی تو میں باتوں کے وعدوں کے شہر طلسمات میں آنکھ پر خوش گمانی کی پٹی لیے تم کو پیڑوں کے پیچھے درختوں کے جھنڈ اور دیوار کی پشت پر ڈھونڈنے میں مگن ہوں کہیں پر ...

مزید پڑھیے

صرف ایک لڑکی

اپنے سرد کمرے میں میں اداس بیٹھی ہوں نیم وا دریچوں سے نم ہوائیں آتی ہیں میرے جسم کو چھو کر آگ سی لگاتی ہیں تیرا نام لے لے کر مجھ کو گدگداتی ہیں کاش میرے پر ہوتے تیرے پاس اڑ آتی کاش میں ہوا ہوتی تجھ کو چھو کے لوٹ آتی میں نہیں مگر کچھ بھی سنگ دل رواجوں کے آہنی حصاروں میں عمر قید کی ...

مزید پڑھیے

فبأیّ آلاء ربکما تکذبٰن

دل آزاری بھی اک فن ہے اور کچھ لوگ تو ساری زندگی اسی کی روٹی کھاتے ہیں چاہے ان کا برج کوئی ہو عقرب ہی لگتے ہیں تیسرے درجے کے پیلے اخباروں پر یہ اپنی یرقانی سوچوں سے اور بھی زردی ملتے رہتے ہیں مالا باری کیبن ہوں یا پانچ ستارہ ہوٹل کہیں بھی قے کرنے سے باز نہیں آتے اوپر سے اس عمل ...

مزید پڑھیے

ایک دوست کے نام

لڑکی! یہ لمحے بادل ہیں گزر گئے تو ہاتھ کبھی نہیں آئیں گے ان کے لمس کو پیتی جا قطرہ قطرہ بھیگتی جا بھیگتی جا تو جب تک ان میں نم ہے اور ترے اندر کی مٹی پیاسی ہے مجھ سے پوچھ کہ بارش کو واپس آنے کا رستہ کبھی نہ یاد ہوا بال سکھانے کے موسم ان پڑھ ہوتے ہیں!

مزید پڑھیے

اوتھیلو

اپنے فون پہ اپنا نمبر بار بار ڈائل کرتی ہوں سوچ رہی ہوں کب تک اس کا ٹیلیفون انگیج رہے گا دل کڑھتا ہے اتنی اتنی دیر تلک وہ کس سے باتیں کرتا ہے!

مزید پڑھیے

اعتراف

جانے کب تک تری تصویر نگاہوں میں رہی ہو گئی رات ترے عکس کو تکتے تکتے میں نے پھر تیرے تصور کے کسی لمحے میں تیری تصویر پہ لب رکھ دیے آہستہ سے!

مزید پڑھیے

گئے جنم کی صدا

وہ ایک لڑکی کہ جس سے شاید میں ایک پل بھی نہیں ملی ہوں میں اس کے چہرے کو جانتی ہوں کہ اس کا چہرہ تمہاری نظموں تمہاری گیتوں کی چلمنوں سے ابھر رہا ہے یقین جانو مجھے یہ چہرہ تمہارے اپنے وجود سے بھی عزیز تر ہے کہ اس کی آنکھوں میں چاہتوں کے وہی سمندر چھپے ہیں جو میری اپنی آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

ایک منظر

کچا سا اک مکاں کہیں آبادیوں سے دور چھوٹا سا ایک حجرہ فراز مکان پر سبزے سے جھانکتی ہوئی کھپریل والی چھت دیوار چوب پر کوئی موسم کی سبز بیل اتری ہوئی پہاڑ پہ برسات کی وہ رات کمرے میں لالٹین کی ہلکی سی روشنی وادی میں گھومتا ہوا بارش کا جل ترنگ سانسوں میں گونجتا ہوا اک ان کہی کا ...

مزید پڑھیے

تقیہ

سو اب یہ شرط حیات ٹھہری کہ شہر کے سب نجیب افراد اپنے اپنے لہو کی حرمت سے منحرف ہو کے جینا سیکھیں وہ سب عقیدے کہ ان گھرانوں میں ان کی آنکھوں کے رنگتوں کی طرح تسلسل سے چل رہے تھے سنا ہے باطل قرار پائے وہ سب وفاداریاں کہ جن پر لہو کے وعدے حلف ہوئے تھے وہ آج سے مصلحت کی گھڑیاں شمار ہوں ...

مزید پڑھیے

ناٹک

رت بدلی تو بھنوروں نے تتلی سے کہا آج سے تم آزاد ہو پروازوں کی ساری سمتیں تمہارے نام ہوئیں جاؤ جنگل کی مغرور ہوا کے ساتھ اڑو بادل کے ہم راہ ستارے چھو آؤ خوشبو کے بازو تھامو اور رقص کرو رقص کرو کہ اس موسم کے سورج کی کرنوں کا تاج تمہارے سر ہے لہراؤ کہ ان راتوں کا چاند تمہاری پیشانی پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 329 سے 960