شاعری

تجزیہ

دوستو آج بے سمت چلتے ہیں لوگ تم بھی اس بھیڑ میں کھو کے رہ جاؤگے آؤ ماضی کی کھولیں کتاب عمل اک نظر سرسری ہی سہی ڈال کر دیکھ لیں اپنے سب کارناموں کا حشر تجزیہ اپنی ناکامیوں کا کریں اپنی محرومیوں پر ہنسیں خوب جی کھو کر اور سوچیں کہ کیوں شہر کے شور میں گم کراہوں کا نوحہ ہوا ہم پہ کیوں ...

مزید پڑھیے

خوابوں کے رشتے

وہ خواب جو میری زندگی تھے وہ کب کے ردی کی ٹوکری میں پڑے ہوئے ماندگی کے وقفے کے منتظر ہیں کہ میں کبھی کارزار ہستی کے شور و غل سے تھکوں تو بس ایک لمحہ رک کر انہیں اٹھا لوں

مزید پڑھیے

سایہ

دن بھر کے مصروف قدم جب لوٹ کے گھر کو آتے ہیں تو اپنے ساتھ تھکے شانوں پر شل ہاتھوں کا بار اٹھائے بوجھل آنکھوں کی مدھم بینائی لے کر آؤ آزر سننے کی اک ہلکی سی امید لیے گھر کی دہلیز پہ رک جاتے ہیں اور پرانا دروازہ جب کھلتا ہے تو سب مانوس دریچے بانہیں پھیلا کر ان قدموں کی آہٹ پر آنے ...

مزید پڑھیے

خود احتسابی

کبھی کبھی میں جب اپنے اندر سے جھانکتا ہوں تو میرے باہر کی ساری دنیا مرے مقابل کھڑا ہوا ظالموں کا لشکر دکھائی دیتی ہے اور میں خود کو اپنے باہر کے آدمی کو عجیب سی بے تعلقی سے اک اجنبی بن کے دیکھتا ہوں مگر وہ باہر کا میں اسی ظالموں کے لشکر سے ہے نبرد آزما مسلسل کبھی وہ ظالم پہ حملہ ...

مزید پڑھیے

شاید

میں تو ہر رات یہی سوچ کے سوتا ہوں کہ کل صبح شاید ترے دیدار کا سورج نکلے اور ہر روز ترے خواب لیے آنکھوں میں در بہ در گھومتا پھرتا ہوں کہ دن کٹ جائے اور پھر رات کو جب لوٹ کے آؤں گھر کو منتظر ہو ترا پیکر مرے دروازے پر یا تو پھر کل کی طرح رات گزر جائے مری اور جب صبح کو جاگوں تو تجھی کو ...

مزید پڑھیے

حدود کا دائرہ

شجر حجر ہوں کہ انساں ہوں یا ستارے ہوں سبھی حدود کے اک دائرے میں رہتے ہیں یہ کائنات زمان و مکاں کی قید میں ہے ہر ایک شے ہے عروج و زوال کی پابند ہر ایک منزل آخر ہے منزل اول جہاں سے اک نئی منزل کی جستجو میں سبھی حقیقتوں کو تخیل کا رنگ دیتے ہیں سفر میں رک نہیں سکتے قدم مسافر کے زمیں بھی ...

مزید پڑھیے

جھوٹ سچ

اگر یہ سچ ہے تو لوگ کیا صرف ایک ہی سچ کو مانتے ہیں یہ سچ اگر زاویہ نہیں ہے نگاہ کا تو بتاؤ کیا ہے کہ میں کھڑا ہوں جہاں وہاں سے تمہارے چہرے کا ایک ہی رخ عیاں ہے جیسے تم آدھے چہرے کے آدمی ہو اگر یہ سچ ہے تو پھر بتاؤ کہ جھوٹ کیا ہے

مزید پڑھیے

سلسلۂ زندگی

جب رگیں ٹوٹنے لگ جائیں لہو کی گردش جس گھڑی جسم میں تھم جائے تو اک لمحے کو وقت رک جائے گا جن جن کا جڑا ہے اس سے آب و دانہ وہ کبھی آج کے غم اور کبھی کل کے سفاک مسائل کے کسی حل کی خلش اور بے درد حقیقت کی گھٹن دل میں لیے کبھی روئیں گے کبھی فکر میں کھو جائیں گے کل پھر اک صبح نئے مسئلے لے ...

مزید پڑھیے

انکشاف

سر بزم کل مجھے دیکھ کر وہ اسی خیال سے ڈر گئی کہ میں اس کی اور ہواؤں میں کہیں اپنا بوسہ اڑا نہ دوں وہ سمٹ کے اور سنور گئی کچھ عجیب خوف سا دل میں تھا مجھے دیکھ کر وہ پلٹ گئی نہ تو بھول ہے نہ تو یاد ہے یہ سپردگی کا تضاد ہے وہ کھڑے کھڑے جیسے سو گئی وہ تصورات میں کھو گئی وہ تصورات بھی خوب ...

مزید پڑھیے

افق کے اس پار

وہ اک گھڑی بھی کبھی مری زندگی میں آئی تھی اتفاقاً کہ میں کسی کا نہیں تھا میرا کوئی نہیں تھا میں لوح محفوظ کی طرح تھا سمجھ رہا تھا کہ ساری فرداودی کی باتیں ہیں ذہن پر نقش جاوداں سی وہ سب حوادث جو آنے والے ہیں لوح دل پر لکھے ہوئے ہیں میں اب کسی کا نہیں ہوں کوئی مرا نہیں ہے اگر تم اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 277 سے 960