تجزیہ
دوستو آج بے سمت چلتے ہیں لوگ تم بھی اس بھیڑ میں کھو کے رہ جاؤگے آؤ ماضی کی کھولیں کتاب عمل اک نظر سرسری ہی سہی ڈال کر دیکھ لیں اپنے سب کارناموں کا حشر تجزیہ اپنی ناکامیوں کا کریں اپنی محرومیوں پر ہنسیں خوب جی کھو کر اور سوچیں کہ کیوں شہر کے شور میں گم کراہوں کا نوحہ ہوا ہم پہ کیوں ...