شاعری

26 جنوری

آؤ کہ آج غور کریں اس سوال پر دیکھے تھے ہم نے جو وہ حسیں خواب کیا ہوئے دولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھا خوشحالئ عوام کے اسباب کیا ہوئے جو اپنے ساتھ ساتھ چلے کوئے دار تک وہ دوست وہ رفیق وہ احباب کیا ہوئے کیا مول لگ رہا ہے شہیدوں کے خون کا مرتے تھے جن پہ ہم وہ سزا یاب کیا ہوئے بے کس ...

مزید پڑھیے

کسی کو اداس دیکھ کر

تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سے نہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہو تم وہ شوخیاں وہ تبسم وہ قہقہے نہ رہے ہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھتی ہو تم چھپا چھپا کے خموشی میں اپنی بے چینی خود اپنے راز کی تشہیر بن گئی ہو تم میری امید اگر مٹ گئی تو مٹنے دو امید کیا ہے بس اک پیش و پس ہے کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

خون پھر خون ہے

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمے فرق انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے تیغ بیداد پہ یا لاشۂ بسمل پہ جمے خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں خون خود دیتا ہے جلادوں کے ...

مزید پڑھیے

آؤ کہ کوئی خواب بنیں

آؤ کہ کوئی خواب بنیں کل کے واسطے ورنہ یہ رات آج کے سنگین دور کی ڈس لے گی جان و دل کو کچھ ایسے کہ جان و دل تا عمر پھر نہ کوئی حسیں خواب بن سکیں گو ہم سے بھاگتی رہی یہ تیز گام عمر خوابوں کے آسرے پہ کٹی ہے تمام عمر زلفوں کے خواب ہونٹوں کے خواب اور بدن کے خواب معراج فن کے خواب کمال سخن ...

مزید پڑھیے

فرار

اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے اپنی بے کار تمناؤں پہ شرمندہ ہوں اپنی بے سود امیدوں پہ ندامت ہے مجھے میرے ماضی کو اندھیرے میں دبا رہنے دو میرا ماضی مری ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں میری امیدوں کا حاصل مری کاوش کا صلہ ایک بے نام اذیت کے سوا کچھ ...

مزید پڑھیے

میں پل دو پل کا شاعر ہوں

میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہے پل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہے مجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے اور آ کر چلے گئے کچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے کچھ نغمے گا کر چلے گئے وہ بھی اک پل کا قصہ تھے میں بھی اک پل کا قصہ ہوں کل تم سے جدا ہو جاؤں گا گو آج تمہارا حصہ ہوں پل دو پل میں ...

مزید پڑھیے

وہ صبح کبھی تو آئے گی

1 وہ صبح کبھی تو آئے گی ان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گا جب دکھ کے بادل پگھلیں گے جب سکھ کا ساگر چھلکے گا جب امبر جھوم کے ناچے گا جب دھرتی نغمے گائے گی وہ صبح کبھی تو آئے گی جس صبح کی خاطر جگ جگ سے ہم سب مر مر کر جیتے ہیں جس صبح کے امرت کی دھن میں ہم زہر کے پیالے پیتے ...

مزید پڑھیے

یکسوئی

عہد گم گشتہ کی تصویر دکھاتی کیوں ہو ایک آوارۂ منزل کو ستاتی کیوں ہو وہ حسیں عہد جو شرمندہ ایفا نہ ہوا اس حسیں عہد کا مفہوم جتاتی کیوں ہو زندگی شعلہ بے باک بنا لو اپنی خود کو خاکستر خاموش بناتی کیوں ہو میں تصوف کے مراحل کا نہیں ہوں قائل میری تصویر پہ تم پھول چڑھاتی کیوں ہو کون کہتا ...

مزید پڑھیے

جشن غالب

اکیس برس گزرے آزادئ کامل کو تب جا کے کہیں ہم کو غالبؔ کا خیال آیا تربت ہے کہاں اس کی مسکن تھا کہاں اس کا اب اپنے سخن پرور ذہنوں میں سوال آیا سو سال سے جو تربت چادر کو ترستی تھی اب اس پہ عقیدت کے پھولوں کی نمائش ہے اردو کے تعلق سے کچھ بھید نہیں کھلتا یہ جشن یہ ہنگامہ خدمت ہے کہ سازش ...

مزید پڑھیے

امید

وہ صبح کبھی تو آئے گی ان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گا جب دکھ کے بادل پگھلیں گے جب سکھ ساگر چھلکے گا جب میرا جھوم کے ناچے گا جب دھرتی نغمے گائے گی وہ صبح کبھی تو آئے گی جس صبح کی خاطر جگ جگ سے ہم سب مرمر کے جیتے ہیں جس صبح کے امرت کی دھن میں ہم زہر کے پیالے پیتے ہیں ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 232 سے 960