ورثہ
یہ وطن تیری مری نسل کی جاگیر نہیں سینکڑوں نسلوں کی محنت نے سنوارا ہے اسے کتنے ذہنوں کا لہو کتنی نگاہوں کا عرق کتنے چہروں کی حیا کتنی جبینوں کی شفق خاک کی نذر ہوئی تب یہ نظارے بکھرے پتھروں سے یہ تراشے ہوئے اصنام جواں یہ صداؤں کے خم و پیچ یہ رنگوں کی زباں چمنیوں سے یہ نکلتا ہوا ...