شاعری

ورثہ

یہ وطن تیری مری نسل کی جاگیر نہیں سینکڑوں نسلوں کی محنت نے سنوارا ہے اسے کتنے ذہنوں کا لہو کتنی نگاہوں کا عرق کتنے چہروں کی حیا کتنی جبینوں کی شفق خاک کی نذر ہوئی تب یہ نظارے بکھرے پتھروں سے یہ تراشے ہوئے اصنام جواں یہ صداؤں کے خم و پیچ یہ رنگوں کی زباں چمنیوں سے یہ نکلتا ہوا ...

مزید پڑھیے

ایک تصویر رنگ

میں نے جس وقت تجھے پہلے پہل دیکھا تھا تو جوانی کا کوئی خواب نظر آئی تھی حسن کا نغمۂ جاوید ہوئی تھی معلوم عشق کا جذبۂ بے تاب نظر آئی تھی اے طرب زار جوانی کی پریشاں تتلی تو بھی اک بوئے گرفتار ہے معلوم نہ تھا تیرے جلووں میں بہاریں نظر آتی تھیں مجھے تو ستم خوردۂ ادبار ہے معلوم نہ ...

مزید پڑھیے

دھرتی کی سلگتی چھاتی سے بے چین شرارے پوچھتے ہیں

دھرتی کی سلگتی چھاتی سے بے چین شرارے پوچھتے ہیں تم لوگ جنہیں اپنا نہ سکے وہ خون کے دھارے پوچھتے ہیں سڑکوں کی زباں چلاتی ہے ساگر کے کنارے پوچھتے ہیں یہ کس کا لہو ہے کون مرا اے رہبر ملک و قوم بتا یہ جلتے ہوئے گھر کس کے ہیں یہ کٹتے ہوئے تن کس کے ہیں تقسیم کے اندر طوفاں میں لٹتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

مایوس تو ہوں وعدے سے ترے

مایوس تو ہوں وعدے سے ترے کچھ آس نہیں کچھ آس بھی ہے میں اپنے خیالوں کے صدقے تو پاس نہیں اور پاس بھی ہے ہم نے تو خوشی مانگی تھی مگر جو تو نے دیا اچھا ہی دیا جس غم کا تعلق ہو تجھ سے وہ راس نہیں اور راس بھی ہے پلکوں پہ لرزتے اشکوں میں تصویر جھلکتی ہے تیری دیدار کی پیاسی آنکھوں ...

مزید پڑھیے

دل ابھی

زندگی سے انس ہے حسن سے لگاؤ ہے دھڑکنوں میں آج بھی عشق کا الاؤ ہے دل ابھی بجھا نہیں رنگ بھر رہا ہوں میں خاکۂ حیات میں آج بھی ہوں منہمک فکر کائنات میں غم ابھی لٹا نہیں حرف حق عزیز ہے ظلم ناگوار ہے عہد نو سے آج بھی عہد استوار ہے میں ابھی مرا نہیں

مزید پڑھیے

کوئی دل کی چاہت سے مجبور ہے

کوئی دل کی چاہت سے مجبور ہے جو بھی ہے وہ ضرورت سے مجبور ہے کوئی مانے نہ مانے مگر جان من کچھ تمہیں چاہیے کچھ ہمیں چاہیے چھپ کے تکتے ہو کیوں سامنے آؤ جی ہم تمہارے ہیں ہم سے نہ شرماؤ جی یہ نہ سمجھو کہ ہم کو خبر کچھ نہیں سب ادھر ہی ادھر ہے ادھر کچھ نہیں تم بھی بے چین ہو ہم بھی بیتاب ...

مزید پڑھیے

تیری آواز

رات سنسان تھی بوجھل تھیں فضا کی سانسیں روح پر چھائے تھے بے نام غموں کے سائے دل کو یہ ضد تھی کہ تو آئے تسلی دینے میری کوشش تھی کہ کمبخت کو نیند آ جائے دیر تک آنکھوں میں چبھتی رہی تاروں کی چمک دیر تک ذہن سلگتا رہا تنہائی میں اپنے ٹھکرائے ہوئے دوست کی پرسش کے لیے تو نہ آئی مگر اس رات ...

مزید پڑھیے

اہل دل اور بھی ہیں

کیا ہوا گر مرے یاروں کی زبانیں چپ ہیں میرے شاہد مرے یاروں کے سوا اور بھی ہیں اہل دل اور بھی ہیں اہل وفا اور بھی ہیں ایک ہم ہی نہیں دنیا سے خفا اور بھی ہیں ہم پہ ہی ختم نہیں مسلک شوریدہ سری چاک دل اور بھی ہیں چاک قبا اور بھی ہیں سر سلامت ہے تو کیا سنگ ملامت کی کمی جان باقی ہے تو ...

مزید پڑھیے

مگر ظلم کے خلاف

ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی ظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میں قاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہے ہم سر بکف اٹھے ہیں کہ حق فتح یاب ہو کہہ دو اسے جو لشکر باطل کے ساتھ ہے اس ڈھنگ پر ہے زور تو یہ ڈھنگ ہی سہی ظالم کی کوئی ذات نہ مذہب نہ کوئی ...

مزید پڑھیے

خودکشی سے پہلے

اف یہ بے درد سیاہی یہ ہوا کے جھونکے کس کو معلوم ہے اس شب کی سحر ہو کہ نہ ہو اک نظر تیرے دریچے کی طرف دیکھ تو لوں ڈوبتی آنکھوں میں پھر تاب نظر ہو کہ نہ ہو ابھی روشن ہیں ترے گرم شبستاں کے دیے نیلگوں پردوں سے چھنتی ہیں شعاعیں اب تک اجنبی بانہوں کے حلقے میں لچکتی ہوں گی تیرے مہکے ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 231 سے 960