شاعری

تیرے جوبن کے موسم میں

او مٹیالی! تیرے جسم کی سوندھی خوشبو روئیں روئیں میں سانولی رت بیدار کرے دل کی اور سے گہری گھور گھٹائیں امڈیں اور میرے یہ پیاسے ہونٹ تیرے سینے کے پیالوں میں تیرتے انگوروں کے رس کے لمس میں بھیگیں تیری ہری بھری سانسوں کی مشک نچوڑیں او مٹیالی تیرے جوبن کے موسم میں دل کے اندر غیبی ...

مزید پڑھیے

محبوبہ کے لئے آخری نظم

پہلے جتنی باتیں تھیں وہ تم سے تھیں تیرے ہی نام کی ایک ردیف سے سارے قافیے بنتے اور بگڑتے تھے میں اپنے اندھے ہاتھوں سے تیرے جسم کے پراسرار زمانوں کی تحریریں پڑھ لیتا تھا اور پھر اچھی اچھی نظمیں گھڑ لیتا تھا تو بھی تو کاغذ کے پھولوں کی مانند ہر موسم میں کھل جاتی تھی اور میں ہجر و ...

مزید پڑھیے

ہاں میری محبوبہ

تو نہ تو کوئی بھید ہے اور نہ ہی بھید بھری تھیلی کا چھٹا ہوا کوئی عین محبوبہ ہاں میری محبوبہ تیرا نام پتہ اور شجرۂ نسب تو جانتے ہیں ہم اندر باہر ظاہر باطن دونوں سمت ہی آنے جانے والے ہیں ہم تیرے گھر کے بھیدی ہیں او بھیدن باری کبھی حقیقی کبھی مجازی طرح طرح سے تیرے عام سے جسم کی لذت ...

مزید پڑھیے

پل بھر کا بہشت

ایک وہ پل جو شہر کی خفیہ مٹھی میں جگنو بن کر دھڑک رہا ہے اس کی خاطر ہم عمروں کی نیندیں کاٹتے رہتے ہیں یہ وہ پل ہے جس کو چھو کر تم دنیا کی سب سے دل کش لذت سے لبریز اک عورت بن جاتی ہو اور میں ایک بہادر مرد ہم دونوں آدم اور حوا پل کے بہشت میں رہتے ہیں اور پھر تم وہی ڈری ڈری سی بسوں پہ ...

مزید پڑھیے

میری تاریخ کا لنڈا بازار

ساری دکانیں اک اک کر کے گھوم آیا ہوں لیکن اب تک ننگا ہوں سارے سورما شاید میرے قد سے بہت بڑے تھے ان کے کپڑے میرے جسم پہ جانے کیسے فٹ آئیں گے ایسی ایسی ہیبت ناک ذرہ بکتر میں چھپ کر میں شاید گم ہو جاؤں اس تاریخ کے میلوں پھیلے بازاروں میں میرے ناپ کا کوئی کوٹ نہیں ہے شاید میرے قد کا ...

مزید پڑھیے

ایک وجودی دوست کے نام

تم نے جتنے بھی بدلے تھے اپنے آپ سے اور پھر اپنے جیسوں سے اک اک کر کے پورے دل سے چکا بھی لیے ہیں اپنے آپ سے گتھم گتھا ہونے میں ہی سب جنگوں کی لذت ہے لذت، جس کا شاید کچھ بھی خرچ نہیں ہے اور یہ جنگ کہ جس میں کچھ ایسی نظموں کا مال غنیمت مل جاتا ہے جس پر اچھی خاصی عمر گزر جاتی ہے لیکن ...

مزید پڑھیے

نوشتۂ پس دیوار

یہ رنگ و بو یہ نظارے یہ بزم آرائی نیاز و ناز و ادا حسن عشق رعنائی شباب نظم و غزل در پئے شکیبائی مجھے یہ ساعت گذراں کہاں پہ لے آئی قرار دیکھ لیا اضطرار دیکھ لیا غم حبیب غم روزگار دیکھ لیا اداس چہروں پہ اڑتا غبار دیکھ لیا نوائے شوق کو بے اختیار دیکھ لیا خزاں گزیدہ سا رنگ بہار دیکھ ...

مزید پڑھیے

آج کی تازہ خبر

آج کی تازہ خبر آج کی تازہ خبر آج کی تازہ خبر کوئی بے پر کی نہیں کوئی بے سر کی نہیں ہے یہ پر تازہ خبر آج اک تازہ خبر آئی ہے انبالے سے لاش اک ہاتھی کی نکلی ہے کسی نالے سے ڈاکٹر دیکھ کے بولا یہ اسے آلے سے یہ مرا زہر سے نا قتل ہوا بھالے سے مر گیا بھوک میں یہ کھا کے کہیں کچی مٹر آج کی تازہ ...

مزید پڑھیے

عریضے کی ڈالی

تری نرم لہروں پہ رکھے دیے اپنے باقی کے ہم راہ گم ہو چکے ہیں دعاؤں، تمناؤں، خوابوں کا موسم اذیت کے کیچڑ میں لتھڑا پڑا ہے خطوں کے لفافے حروف و معنی کے رنگوں سے خالی پڑے ہیں کناروں سے ڈالی گئی درخت کی سرخ رو سازشی پتیاں راستوں کے نشان کھو چکی ہیں مگر۔۔۔ اگلے دن کے حسیں خواب۔۔۔ عریضے ...

مزید پڑھیے

ارتقا

آگہی چند سمجھوتوں کا لا متناہی سلسلہ ہے جو مجھے میرے شعور کے انعام میں دیا جا رہا ہے زندگی!! صرف ایک طویل ہجر کا ذائقہ ہے جو مجھے عشق کے الزام میں دیا جا رہا ہے شاعری جذبوں کو لفظ سے گانٹھ کر مار دینے کا حوصلہ ہے جو مجھے بندگی کے نام پر دیا جا رہا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 191 سے 960