تنہائی
یاد کی کرنیں پریاں بن کر اپنی باہوں میں لپٹا کر تیرا چاند سا سندر مکھڑا سوچوں کے بے نور کھنڈر میں در آتی ہیں اور میں سوچ کے تپتے تھل میں تیرے ساتھ گزاری شامیں ایک اک کر کے گنتا ہوں جب میں تنہا ہوتا ہوں
یاد کی کرنیں پریاں بن کر اپنی باہوں میں لپٹا کر تیرا چاند سا سندر مکھڑا سوچوں کے بے نور کھنڈر میں در آتی ہیں اور میں سوچ کے تپتے تھل میں تیرے ساتھ گزاری شامیں ایک اک کر کے گنتا ہوں جب میں تنہا ہوتا ہوں
مت پوچھ یہ مجھ سے دوست مرے کیوں شام ڈھلے ان آنکھوں میں بے نام سی ایک اداسی کی گھنگھور گھٹائیں رہتی ہیں کیوں بے خود ہو کر اس لمحے ڈھلتا ہوا سورج تکتا ہوں آنکھوں میں کسی کا عکس لیے کیوں بدن کتابیں تکتا ہوں مت پوچھ یہ وقت ہی ایسا ہے مجھے دل پر زور نہیں رہتا میں لاکھ چھپاتا ہوں ...
ڈھلتے ہوئے سورج کی اب آخری ہچکی ہے پت جھڑ کی اداسی میں بے برگ درختوں کی ہر اجڑی ہوئی ٹہنی سورج کے جنازے کو کاندھوں پہ اٹھائے ہے اس وقت مرا دل بھی بالکل ہے فلک جیسا ٹھہرے ہوئے اک پل میں ڈھلتا ہوا سورج ہے اس وقت محبت کا ہر نقش ادھورا ہے
قدم رکھنے سے پہلے جان لو کہ بے آباد جگہ آسیب زدہ بھی ہو سکتی ہے بستی بسانے سے پہلے جن کی خوش نودی لازم آتی ہے بسے رہنے کا معاوضہ کلابتونی پہنا دے زرق چڑھاوے مرصع کندنی پرنیاں ہیں اشرفی بوٹی والے کمخواب کا سربار بھی ادا کرنا ہوتا ہے ورنہ ان کے اسلوب حیات سے انحراف العقارب ...
وقت کی تند و تیز موجیں میرے چاروں جانب بہتی رہیں اور میں بہ رغبت و رضا اس کی ہر جگر پاش چوٹ سہتی رہی ایک مبہم سی آس کے سہارے کہ شاید کبھی بے مہر ساحل میرا ہم نوا ہو جائے
تناور پیڑ کھجور سے وارفتگی یوں کہ جیسے اس کی توانائی تیری قوت کی ضامن ہو بے ساختہ بالیں ہوتی یوں کہ محفوظ ہوتی موسموں کی جولانیوں سے تودا سوخت نہ سہی مگر تیری فرو ماندگی لرزاں و جھلسی تازگی بزبان خود مستفتی ہوئی یوں کہ فضیلت کفالت کو ہے محض تونگری کو نہیں بالادستی فرضیت کی بجا ...
بے داغ وسعتوں کی آہوئے بے باک تیرے ایک ہی مشک بیز جھونکے نے یادوں کے دریچے کھول دیے ہیں جھلستی دوپہروں میں گھنے پیپل کی چھاؤں میں جھولا جھولتی ہم جولیاں خوش گلو چاڑھے کی آواز میں ریگ زاروں کے گیت کن رس ہوئے جاتے ہیں برسات کی آبنوسی رات کا منظر کھلے آسمان تلے بان کی ٹھنڈی چارپائی ...
در دیوار اور دریچے ایک معاہدہ ہیں عدم مداخلت کا مشروط معاہدہ دو مہذب انسانوں کے درمیاں دو متمدن خاندانوں کے درمیاں دیوار تہذیب کی ترجمان تمدن کی پہچان اور بقائے باہمی کی آئینہ دار حیلہ حقوق کی ضمانت بقائے تحیت کی علامت حیط اور احاطہ ذہنی و جسمانی آسودگی اور سکھ چین کے لیے ...
گاڑی کھینچنا اور چلاتے رکھنا دو مختلف رو میں باہم ربط و راہ کے نشیب و فراز رفتار کو متأثر کرتے ہیں مزاحمت کی صورت میں بریک لگانے میں ہی عافیت ہے کیونکہ مد مقابل کو اپنی رفتار پر قابو نہیں اگرچہ آپ کو تو اپنی جان عزیز ہے رفتار پر کنٹرول کا رویہ زندگی کو سہل اور آسان بناتا ہے اور ...
ان شاندار محلوں کو کیا کروں میں لے کر لگتا نہیں ہے میرا دل آہ ان میں دم بھر ان میں نہیں ہے میری دل بستگی کا منظر دل کش کہیں ہے اس سے اجڑا ہوا مرا گھر مل جائے کاش مجھ کو گھر آہ! میرا پیارا غربت میں مجھ کو رہنا دم بھر نہیں گوارا ہیں برکتیں اترتی جس گھر میں آسماں سے پیارا ہے آہ وہ گھر ...