شاعری

یاد

سہانی رات میں دل کش نظارے یاد آتے ہیں نہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ہیں اسی صورت سے دن ڈھلتا ہے سورج ڈوب جاتا ہے اسی صورت سے شبنم میں ہر اک ذرہ نہاتا ہے تڑپ جاتا ہوں میں جب دل ذرا تسکین پاتا ہے اسی انداز سے مجھ کو سہارے یاد آتے ہیں نہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ...

مزید پڑھیے

ایکتا

جو ایکتا کی لگن ہو دل میں تو بے قراری نہ پاس آئے کسی کا جادو کسی کا ٹونا ہمارے اوپر نہیں چلے گا اگر ہم اپنے کو خود سمجھ لیں اگر ہم اپنے کو آپ پرکھیں نہ کوئی آفت کہیں اٹھے گی نہ دل دکھے گا نہ گھر جلے گا ہر ایک بچہ ہے ایک بچہ نہ ہے کسی کا کبھی عدو وہ یہ بھید بھاؤ یہ فاصلہ سب خود اپنا ...

مزید پڑھیے

علم کا مقام

آؤ بچو تم کو بتائیں آنکھوں دیکھا حال سنائیں ہم نے اس دنیا میں رہ کر کیسا کیسا دیکھا منظر گرمی دیکھی سردی دیکھی تیزی دیکھی نرمی دیکھی بادل دیکھا پانی دیکھا دریا کی طغیانی دیکھا کیلا دیکھا آم بھی دیکھا پستہ اور بادام بھی دیکھا رنگ برنگے پھول بھی دیکھے ہرے گلابی نیلے پیلے عمر کی ...

مزید پڑھیے

محمود و ایاز

جہاں میں بار خدایا کوئی وکیل نہ ہو وکیل ہو تو وکالت میں بے عدیل نہ ہو جو بے عدیل بھی ہو جائے تو جمیل نہ ہو جمیل ہو تو سیاست میں کچھ دخیل نہ ہو یہ خوبیاں جو بیک وقت کوئی پاتا ہے دماغ اس کا یقیناً خراب جاتا ہے ہر اک کو دیکھنے لگتا ہے وہ حقارت سے کسی سے بات بھی کرتا ہے گر تو نخوت سے ہر ...

مزید پڑھیے

زندگی تیرے ناکام لوگوں نے

زندگی تیرے ناکام لوگوں نے تو مشکلوں سے ہمیشہ گزارا کیا ریگزاروں میں بیٹھے سلگتے ہوئے خواب بنتے رہے درد چنتے رہے دل کے پاگل سروں پر اداسی کے ہی گیت سنتے رہے سر کو دھنتے رہے گیت گاتے ہوئے زخم بنتے ہوئے خواب چنتے ہوئے دشت در دشت جیون کی گٹھری اٹھائے ہی چلتے رہے سانس کی دھونکنی یوں ...

مزید پڑھیے

اپنا ہر دکھ خود سے کہنا

خود ہی اپنی سکھی سہیلی دن بھر کی سب چھوٹی سے بھی چھوٹی باتیں دور کسی گنجان سڑک پہ چلتے چلتے جب پاؤں اک پتھر سے ٹکرایا تھا تو کیسے میں چھوئی موئی سی بیچ سڑک اس شام گری تھی میری چادر تیز ہوا سے دور تلک اڑتی ہی گئی تھی نوسر باز ہوا سے کیسے دھوکا کھایا اچھی بری نظریں دنیا کی اپنی ہار ...

مزید پڑھیے

اردو زبان

چرچا ہر ایک آن ہے اردو زبان کا گرویدہ کل جہان ہے اردو زبان کا اس لشکری زبان کی عظمت نہ پوچھیے عظمت تو خود نشان ہے اردو زبان کا گمنامیوں کی دھوپ میں جلتا نہیں کبھی جس سر پہ سائبان ہے اردو زبان کا مشرق کا گلستاں ہو کہ مغرب کا آشیاں ویران کب مکان ہے اردو زبان کا سوداؔ و میرؔ و ...

مزید پڑھیے

کسی تانگے میں پھر سامان رکھا جا رہا ہے

کسی کی آنسوؤں سے تر بتر داڑھی کے کچھ ٹوٹے ہوئے بال آج بھی ممکن ہے مل جائیں بڑے صندوق میں رکھے مرے بد رنگ سے اک سویٹر پر اسی دن کا کوئی ہم شکل دن ہے کسی تانگے میں پھر سامان رکھا جا رہا ہے وہی دہلیز ہے لیکن مرے داڑھی نہیں ہے مرا لڑکا گلے سے لگ کے میرے تھپک کر پیٹھ میری بزرگوں کی طرح ...

مزید پڑھیے

فقط حصے کی خاطر

فقط حصے کی خاطر کٹ گئی یہ زندگی میلاد سننے میں بلا جانے کہ حصہ ہے تو کیسا اور کتنا یہ سب آساں نہیں تھا گلاب اور عطر سے بھاری فضا میں سانس لینا دیر تک آساں نہیں تھا نہ آساں تھا سمجھنے کی اداکاری بھی کرنا اس زباں کو جس سے میں نا آشنا تھا اور وو بھی با ادب رہ کر بہت بھاری تھا بیلے کا وہ ...

مزید پڑھیے

چھٹی کا دن

یہ میری موت پر چھٹی کا دن ہے کلنڈر پر چھپی یہ آج کی تاریخ میری موت ہی سے لال ہو سکتی تھی شاید سویرے تک جو کالی روشنائی سے لکھی تھی مزہ ہی کچھ الگ ہے ایسی چھٹی کا اچانک جو ملی ہو یہ میرا آخری تحفہ ہے اپنے ساتھیوں کو وگرنہ پیر کا دن کتنا سر دردی بھرا ہوتا ہے دفتر کا یہ دنیا جانتی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 132 سے 960