شاعری

وہ ساحل شب پہ سو گئی تھی

نیلے سایوں کی رات تھی وہ وہ ساحل شب پہ سو گئی تھی وہ نیلے سائے ہوا کے چہرے پہ اور بدن پہ اور اس کی آنکھوں میں سو رہے تھے اور اس کے ہونٹوں پہ سرخ خوشبو کی دھوپ اس شب چمک رہی تھی وہ ساحل شب وہ نیلے پانی وہ آسمانوں سے سرخ پتوں کی تیز بارش وہ تیز بارش بدن پہ اس کے گلاب موسم کے ان دنوں ...

مزید پڑھیے

اس روز تم کہاں تھے

جس روز دھوپ نکلی اور لوگ اپنے اپنے ٹھنڈے گھروں سے باہر ہاتھوں میں ڈالے سورج کی سمت نکلے اس روز تم کہاں تھے جس روز دھوپ نکلی اور پھول بھی کھلے تھے تھے سبز باغ روشن اشجار خوش ہوئے تھے پتوں کی سبز خوشبو جب سب گھروں میں آئی اس روز تم کہاں تھے جس روز آسماں پر منظر چمک رہے تھے سورج کی ...

مزید پڑھیے

والد صاحب کے نام

عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جاں سے یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے وہ ماں کے کہنے پہ کچھ رعب مجھ پہ رکھتا ہے یہی ہے وجہ مجھے چومتے جھجھکتا ہے وہ آشنا مرے ہر کرب سے رہے ہر دم جو کھل کے رو نہیں پاتا مگر سسکتا ہے جڑی ہے اس کی ہر اک ہاں فقط مری ہاں سے یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں ...

مزید پڑھیے

خواہشیں اور خون

میں نے آشاؤں کی آنکھیں چہرے ہونٹ اور نیلے بازو نوچ لیے ہیں ان کے گرم لہو سے میں نے اپنے ہاتھ بھگو ڈالے ہیں دوپہروں کی تپتی دھوپ میں خواہشیں اپنے جسم اٹھا کر چوبی کھڑکی کے شیشوں سے اکثر جھانکتی رہتی ہیں آنکھیں ہونٹ اور زخمی بازو جانے کیا کچھ مجھ سے کہتے رہتے ہیں جانے کیا کچھ ان سے ...

مزید پڑھیے

انفلوینزا سے کرونا تک

کتنا عرصہ لگا ناامیدی کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئے ایک بپھری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئے ناخداؤں میں اب پیچھے کتنے بچے ہیں روشنی اور اندھیرے کی تفریق میں کتنے لوگوں نے آنکھیں گنوا دیں کتنی صدیاں سفر میں گزاریں مگر آج پھر اس جگہ ہیں جہاں سے ہمیں اپنی ماؤں نے رخصت کیا تھا اپنے سب سے ...

مزید پڑھیے

حرف

وہ حرف آخر کہاں گیا ہے وہ حرف جس کی تہوں میں اپنی محبتوں کی جو اک کہانی چھپی ہوئی تھی وہ اک کہانی کہ جس کی رو سے ہی عمر بھر کا قرار پاتے بہار پاتے محبتوں میں سرور دل کا سراغ پاتے وہ حرف آخر کہاں گیا ہے وہ حرف جو اک شجر کی صورت ہمارے گلشن نما مکاں میں بہت اذیت بھری فضا میں خزاں کے ...

مزید پڑھیے

قصۂ شب

سرخ آنکھیں گھماتے ہوئے بھیڑیے رات کا حسن ہیں سرسراتے ہوئے شاخچوں میں چھپے ماندہ پنچھی مصلے پہ بیٹھے ہوئے ریش دار اہل باطن پنگھوڑے میں کلکارتے نور چہرے یہ بستر بدلتی ہوئی لڑکیاں زہر اگلتے ہوئے سانپ دیوار پر جست کرتے ہوئے سائے لڑتی ہوئی بلیاں رات کا حسن ہیں اپنے سر پر یہ صدیوں سے ...

مزید پڑھیے

بالجبر

ہر طرف کترنیں ہیں وہ گڑیا یہیں تھی مگر اب دکھائی نہیں دے رہی اور یہ دھاگے، یقیناً وہ گیسو ہیں جن کے لیے میری راتیں کٹیں روئی دھنکی ہوئی ہے کہیں خون کا کوئی دھبہ نہیں اک طرف اس کی پوشاک ادھڑی پڑی ہے ادھر اس کی آنکھیں، کٹے ابروؤں سے الگ، خوف و دہشت میں لتھڑی ہوئی ہر طرف کترنیں ...

مزید پڑھیے

بے گھری

خواب کی سلطنت سے ادھر اک جہاں ہے جسے آنکھ آباد کر لے تو کر لے وہاں سائے ہی سائے ہیں اکثر و بیشتر دھوپ میں رقص کرتے ہوئے ریز گاری کی آواز پر دھڑکنیں تال دیتی ہیں تو جھلملاتے ہیں آنکھوں میں خواب (اپنا گھر اس کے دار الخلافے میں ہے) صبح سے شام تک نوٹ گنتی ہوئی انگلیاں یوں تھرکتی ...

مزید پڑھیے

Dimensions

وہی بہار و خزاں ہے مجھ میں بھی مجھ سے باہر بھی (آدمی سے الگ نہیں ہوں) شگوفے پھوٹیں تو خون میں گیت بولتے ہیں کبھی کبھی خار کی کھٹک ٹیس بن کے ہونٹوں سے جھانکتی ہے نجانے کتنے ہی گیت تھے جو بہار سے پہلے شاخ کی رگ میں جی رہے تھے جڑوں کا بخل ان کو کھا گیا ہے یہ خار، سوتیلے بیٹے شاخوں کے ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 103 سے 960