شاعری

دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا

دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا جوں اشک پھر زمیں سے اٹھایا نہ جائے گا رخصت ہے باغباں کہ تنک دیکھ لیں چمن جاتے ہیں واں جہاں سے پھر آیا نہ جائے گا آنے سے فوج خط کے نہ ہو دل کو مخلصی بندھوا ہے زلف کا یہ چھٹایا نہ جائے گا پہنچیں گے اس چمن میں نہ ہم داد کو کبھو جوں گل یہ چاک جیب ...

مزید پڑھیے

گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں

گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں ہم اپنا ہی دم اور قدم دیکھتے ہیں نہ دیکھا جو کچھ جام میں جم نے اپنے سو یک قطرۂ مے میں ہم دیکھتے ہیں یہ رنجش میں ہم کو ہے بے اختیاری تجھے تیری کھا کر قسم دیکھتے ہیں غرض کفر سے کچھ نہ دیں سے ہے مطلب تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں حباب لب جو ہیں اے باغباں ...

مزید پڑھیے

ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو

ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو دل یار سے پھٹے تو کسی سے رفو نہ ہو اس دل کو دے کے لوں دو جہاں یہ کبھو نہ ہو سودا تو ہووے تب یہ کہ جب اس میں تو نہ ہو آئینۂ وجود عدم میں اگر ترا وہ درمیاں نہ ہو تو کہیں ہم کو رو نہ ہو جھگڑا تو حسن و عشق کا چکتا ہے پل کے بیچ گر محکمے میں قاضی کے تو ...

مزید پڑھیے

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں آیا تھا کیوں عدم میں کیا کر چلا جہاں میں یہ مرگ و زیست تجھ بن آپس میں ہنستیاں ہیں کیونکر نہ ہو مشبک شیشہ سا دل ہمارا اس شوخ کی نگاہیں پتھر میں دھنستیاں ہیں برسات کا تو موسم کب کا نکل گیا پر مژگاں کی یہ ...

مزید پڑھیے

کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاث

کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاث یک بار تیرے دل میں نہیں کار الغیاث تیری نگہ کو دیکھ کے گردش میں آسمان کرتا پھرے ہے شعبدہ دوار الغیاث مغرور حسن کا ہے تجھے یہ کہاں خبر یعنی کہ کون ہے پس دیوار الغیاث سوداؔ میں کہتا ہوں کہ یہ پرہیز عشق سے رسوا ہے کیوں تو کوچہ و بازار الغیاث

مزید پڑھیے

کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا

کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا تیغا سا کچھ نظر میں ہماری سڑک گیا میں کیا کروں ادائے غضب ناک کا بیاں بجلی سا میرے سامنے آ کر کڑک گیا نالے سے میرے گل تو ہوا چاک پیرہن بلبل ترا جگر نہ یہ سن کر تڑک گیا کوئی گیا نہ خوف سے قاتل کے سامنے میں ہی تھا اس کے رو بہ رو جو بے دھڑک گیا مشکل ...

مزید پڑھیے

جس دم وہ صنم سوار ہووے

جس دم وہ صنم سوار ہووے تا صید حرم شکار ہووے جو اٹھ نہ سکے تری گلی سے رہنے دے کہ تا غبار ہووے محکم تو رزاق بن سکے ہے گو عمر کہ پائیدار ہووے وہ قصر تو چاہتا نہیں میں جس میں گل و گلعذار ہووے وسعت مرے سینے بیچ اے دہر ٹک دل کو شگفتہ وار ہووے سوزن کی نہ جیب کیجو منت یوں پھٹیو کہ تار ...

مزید پڑھیے

باطل ہے ہم سے دعویٰ شاعر کو ہم سری کا

باطل ہے ہم سے دعویٰ شاعر کو ہم سری کا دیوان ہے ہمارا کیسہ جواہری کا چہرہ ترا سا کب ہے سلطان خاوری کا چیرہ ہزار باندھے سر پر جو وہ زری کا منہ پر یہ گوشوارہ موتی کا جلوہ گر ہے جیسے قران باہم ہو ماہ و مشتری کا آئینہ خانے میں وہ جس وقت آن بیٹھے پھر جس طرف کو دیکھو جلوہ ہے واں پری ...

مزید پڑھیے

آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص

آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص آسودہ زیر خاک نہیں آشنائے حرص ممکن نہیں ہے یہ کہ بھرے کاسۂ طمع دن میں کروڑ گھر جو پھرا دے گدائے حرص انساں نہ ہوں ذلیل زمانے کے ہاتھ سے ذلت کسی کو کوئی نہ دیوے سوائے حرص کر منہ کو ٹک بسوے قناعت یہ حرف مان رہتی ہے لاکھ طرح کی آفت قفائے ...

مزید پڑھیے

بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا

بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا ہم نے اسے ہر خار بیابان میں دیکھا روشن ہے وہ ہر ایک ستارے میں زلیخا جس نور کو تو نے سر کنعان میں دیکھا برہم کرے جمعیت کونین جو پل میں لٹکا وہ تری زلف پریشان میں دیکھا واعظ تو سنے بولے ہے جس روز کی باتیں اس روز کو ہم نے شب ہجران میں دیکھا اے زخم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 900 سے 4657