دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا
دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا جوں اشک پھر زمیں سے اٹھایا نہ جائے گا رخصت ہے باغباں کہ تنک دیکھ لیں چمن جاتے ہیں واں جہاں سے پھر آیا نہ جائے گا آنے سے فوج خط کے نہ ہو دل کو مخلصی بندھوا ہے زلف کا یہ چھٹایا نہ جائے گا پہنچیں گے اس چمن میں نہ ہم داد کو کبھو جوں گل یہ چاک جیب ...