شاعری

ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست

ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست پوجوں میں اس کسی کو جو ہو آشنا پرست اس دور میں گئی ہے مروت کی آنکھ پھوٹ معدوم ہے جہان سے چشم حیا پرست دیکھا ہے جب سے رنگ کفک تیرے پاؤں میں آتش کو چھوڑ گبر ہوئے ہیں حنا پرست چاہے کہ عکس دوست رہے تجھ میں جلوہ گر آئینہ دار دل کو رکھ اپنے صفا ...

مزید پڑھیے

غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے

غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے نرگس کو آنکھ مار کے بیمار کر چلے پھرتے ہو باغ سے تو پکارے ہے عندلیب صبح بہار گل پہ شب تار کر چلے اٹھتے ہوئے جو دیر سے لی مدرسے کی راہ تسبیح شیخ شہر کی زنار کر چلے آئے جو بزم میں تو اٹھا چہرے سے نقاب پروانے ہی کو شمع سے بیزار کر چلے آزاد کرتے تم ...

مزید پڑھیے

بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کی

بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کی شاید کہ ہوئی کارگر اب آہ کسو کی اس چشم کا غمزہ جو کرے قتل دو عالم گوشے کو نگہ کے نہیں پرواہ کسو کی زلفوں کی سیاہی میں کچھ اک دام تھے اپنے قسمت کہ ہوئی رات وہ تنخواہ کسو کی کیا مصرف بے جا سے فلک کو ہے سروکار وہ شے کسو کو دے جو ہو دل خواہ کسو ...

مزید پڑھیے

بے وجہ نئیں ہے آئنہ ہر بار دیکھنا

بے وجہ نئیں ہے آئنہ ہر بار دیکھنا کوئی دم کو پھولتا ہے یہ گل زار دیکھنا نرگس کی طرح خاک میری اگیں ہیں چشم ٹک آن کے یہ حسرت دیدار دیکھنا کھینچے تو تیغ ہے حرم دل کے صید پر اے عشق پر بھلا تو مجھے مار دیکھنا ہے نقص جان دید ترا پر یہی ہے دھن جی جاؤ یار ہو مجھے یک بار دیکھنا اے طفل اشک ...

مزید پڑھیے

عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں

عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں دو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں قرباں ہوں مجھے جس دم یاد آتی ہیں وہ باتیں کیا دن وہ مبارک تھے کیا خوب تھیں وہ راتیں اوروں سے چھٹے دل بر دل دار ہووے میرا برحق ہیں اگر پیرو کچھ تم میں کراماتیں کل لڑ گئیں کوچے میں آنکھوں سے مری آنکھیاں کچھ ...

مزید پڑھیے

گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے

گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے دل دار تو ہوا تو دل آزار کون ہے نالاں ہوں مدتوں سے ترے سایہ کے تلے پوچھا نہ یہ کبھو پس دیوار کون ہے ہر شب شراب خوار ہر اک دن سیاہ ہے آشفتہ زلف و لٹپٹی دستار کون ہے ہر آن دیکھتا ہوں میں اپنے صنم کو شیخ تیرے خدا کا طالب دیدار کون ہے سوداؔ کو جرم ...

مزید پڑھیے

نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے

نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے ہماری خاک سے دیکھو تو کچھ رہا بھی ہے ترا غرور مرا عجز تا کجا ظالم ہر ایک بات کی آخر کچھ انتہا بھی ہے جلے ہے شمع سے پروانہ اور میں تجھ سے کہیں ہے مہر بھی جگ میں کہیں وفا بھی ہے خیال اپنے میں گو ہوں ترانہ سنجاں مست کراہنے کے دلوں کو کبھی سنا بھی ...

مزید پڑھیے

یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردش

یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردش دریا میں ہو جس طرح سے گرداب کی گردش مرتا ہوں ترے واسطے روتا ہوں زبس یار ہے سیل مری چشم میں گرداب کی گردش پھر جاتی ہیں اس طرح سے اک پل میں وہ انکھیاں جوں بزم میں ہو جام مئے ناب کی گردش ازبسکہ ہے آنکھوں میں خمار اس گھڑی ساقی مے مانگے ہے تجھ سے جو ہر ...

مزید پڑھیے

جب نظر اس کی آن پڑتی ہے

جب نظر اس کی آن پڑتی ہے زندگی تب دھیان پڑتی ہے جھیل لیتے ہیں عاشق اے فرہاد جس کے سر جیسی آن پڑتی ہے ہے جفا سے غرض اسے اتنی کہ وفا امتحان پڑتی ہے نظر ان مہ وشاں کی ہے ظالم کیا غضب آن بان پڑتی ہے قد زاہد نظر میں چلے بعد اتری سی کچھ کمان پڑتی ہے بات اس دل کے درد کی یارو گفتگو میں ...

مزید پڑھیے

چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا

چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا پردے میں تھا آفتاب دیکھا کیوں کر نہ بکوں میں ہاتھ اس کے یوسف کی طرح میں خواب دیکھا کچھ میں ہی نہیں ہوں، ایک عالم اس کے لیے یاں خراب دیکھا دل تو نے عبث لکھا تھا نامہ جو ان نے دیا جواب دیکھا بے جرم و گناہ قتل عاشق مذہب میں ترے صواب دیکھا کچھ ہووے تو ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 899 سے 4657