شاعری

ہر اک قدم پہ زخم نئے کھائے کس طرح

ہر اک قدم پہ زخم نئے کھائے کس طرح رندوں کی انجمن میں کوئی جائے کس طرح صحرا کی وسعتوں میں رہا عمر بھر جو گم صحرا کی وحشتوں سے وہ گھبرائے کس طرح جس نے بھی تجھ کو چاہا دیا اس کو تو نے غم دنیا ترے فریب کوئی کھائے کس طرح زنداں پہ تیرگی کے ہیں پہرے لگے ہوئے پر ہول خواب گاہ میں نیند آئے ...

مزید پڑھیے

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے دوشیزگان صبح نے چہرے چھپا لیے ہم نے تو اپنے جسم پہ زخموں کے آئینے ہر حادثے کی یاد سمجھ کے سجا لیے میزان عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف اس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لیے دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے لوگوں کی چادروں پہ ...

مزید پڑھیے

آندھی چلی تو گرد سے ہر چیز اٹ گئی

آندھی چلی تو گرد سے ہر چیز اٹ گئی دیوار سے لگی تری تصویر پھٹ گئی لمحوں کی تیز دوڑ میں میں بھی شریک تھا میں تھک کے رک گیا تو مری عمر گھٹ گئی اس زندگی کی جنگ میں ہر اک محاذ پر میرے مقابلے میں مری ذات ڈٹ گئی سورج کی برچھیوں سے مرا جسم چھد گیا زخموں کی سولیوں پہ مری رات کٹ گئی احساس ...

مزید پڑھیے

لہو میں ڈوب کے تلوار میرے گھر پہنچی

لہو میں ڈوب کے تلوار میرے گھر پہنچی وہ سر بلند ہوں دستار میرے گھر پہنچی پہاڑ کھودا تو جز پتھروں کے کچھ نہ ملا مرے پسینے کی مہکار میرے گھر پہنچی شجر نے تند ہواؤں سے دوستی کر لی شکستہ پتوں کی بوچھار میرے گھر پہنچی مرے مکان سے کرنوں کی ڈار ایسی اڑی ہر اک بلائے پراسرار میرے گھر ...

مزید پڑھیے

جلتے جلتے بجھ گئی اک موم بتی رات کو

جلتے جلتے بجھ گئی اک موم بتی رات کو مر گئی فاقہ زدہ معصوم بچی رات کو آندھیوں سے کیا بچاتی پھول کو کانٹوں کی باڑ صحن میں بکھری ہوئی تھی پتی پتی رات کو کتنا بوسیدہ دریدہ پیرہن ہے زیب تن وہ جو چرخہ کاٹتی رہتی ہے لڑکی رات کو صحن میں اک شور سا ہر آنکھ ہے حیرت زدہ چوڑیاں سب توڑ دیں ...

مزید پڑھیے

گاؤں گاؤں خاموشی سرد سب الاؤ ہیں

گاؤں گاؤں خاموشی سرد سب الاؤ ہیں رہرو رہ ہستی کتنے اب پڑاؤ ہیں رات کی عدالت میں جانے فیصلہ کیا ہو پھول پھول چہروں پہ ناخنوں کے گھاؤ ہیں اپنے لاڈلوں سے بھی جھوٹ بولتے رہنا زندگی کی راہوں میں ہر قدم پہ داؤ ہیں روشنی کے سوداگر ہر گلی میں آ پہنچے زندگی کی کرنوں کے آسماں پہ بھاؤ ...

مزید پڑھیے

جب سماعت ہی نہ ہو اس کی تو ہے بیکار شرح

جب سماعت ہی نہ ہو اس کی تو ہے بیکار شرح کیا کروں دل بر میں تجھ سے اپنا حال زار شرح دم بخود ہوں کچھ نہیں کہتا ہوں رعب حسن سے چپ کھڑا ہوں حال اپنا کرتے ہیں اغیار شرح دل میں ہے اس رشک یوسف کی خریداری کا شوق میرے راز عشق کی اب ہے سر بازار شرح نوش داروئے شفا سمجھے جو مرگ عشق کو کیا ...

مزید پڑھیے

مسافروں میں ابھی تلخیاں پرانی ہیں

مسافروں میں ابھی تلخیاں پرانی ہیں سفر نیا ہے مگر کشتیاں پرانی ہیں یہ کہہ کے اس نے شجر کو تنے سے کاٹ دیا کہ اس درخت میں کچھ ٹہنیاں پرانی ہیں ہم اس لیے بھی نئے ہم سفر تلاش کریں ہمارے ہاتھ میں بیساکھیاں پرانی ہیں عجیب سوچ ہے اس شہر کے مکینوں کی مکاں نئے ہیں مگر کھڑکیاں پرانی ...

مزید پڑھیے

زرد چہروں سے نکلتی روشنی اچھی نہیں

زرد چہروں سے نکلتی روشنی اچھی نہیں شہر کی گلیوں میں اب آوارگی اچھی نہیں زندہ رہنا ہے تو ہر بہروپئے کے ساتھ چل مکر کی تیرہ فضا میں سادگی اچھی نہیں کس نے اذن قتل دے کر سادگی سے کہہ دیا آدمی کی آدمی سے دشمنی اچھی نہیں جب مرے بچے مرے وارث ہیں ان کے جسم میں سوچتا ہوں حدت خوں کی کمی ...

مزید پڑھیے

لب اظہار پہ جب حرف گواہی آئے

لب اظہار پہ جب حرف گواہی آئے آہنی ہار لیے در پہ سپاہی آئے وہ کرن بھی تو مرے نام سے منسوب کرو جس کے لٹنے سے مرے گھر میں سیاہی آئے میرے ہی عہد میں سورج کی تمازت جاگے برف کا شہر چٹخنے کی صدا ہی آئے اتنی پر ہول سیاہی کبھی دیکھی تو نہ تھی شب کی دہلیز پہ جلنے کو دیا ہی آئے رہ رو منزل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 550 سے 4657