شاعری

کاٹے ہیں دن حیات کے لاچار کی طرح

کاٹے ہیں دن حیات کے لاچار کی طرح کہنے کو زندگی ہے یہ گل زار کی طرح معلوم ہی نہ تھیں انہیں کچھ اپنی قیمتیں اہل قلم بکے یہاں اخبار کی طرح تقریر اس نے کی تھی ہمارے خلاف جو ہر لفظ چبھ رہا ہے ہمیں خار کی طرح کیا تم پہ اعتبار کریں تم ہی کچھ کہو قول و قرار کرتے ہو سرکار کی طرح نکلے گی ...

مزید پڑھیے

باتیں کرنے میں تو دنیا میں سبھی ہشیار تھے

باتیں کرنے میں تو دنیا میں سبھی ہشیار تھے ساتھ دیتے مشکلوں میں وہ تو بس دو چار تھے ہم سے جو کرتے رہے وعدے ہمیشہ بے شمار وقت پڑنے پر مکرنے کو صدا تیار تھے زندگی نے ہم کو دی ہیں نعمتیں یوں تو بہت ان کا سداپیوگ کرنے سے ہمیں لاچار تھے لوگ جو اپنے فرائض سے رہے غافل سدا مانگتے پھر کس ...

مزید پڑھیے

یہ کہہ کہہ کے ہم دل کو بہلا رہے ہیں

یہ کہہ کہہ کے ہم دل کو بہلا رہے ہیں ملاقات کے دن قریب آ رہے ہیں وہ گلشن میں یوں سیر فرما رہے ہیں ادھر آ رہے ہیں ادھر جا رہے ہیں سروں پر مصائب بھی منڈلا رہیں ہیں مگر گیت خوشیوں کے ہم گا رہے ہیں سمجھنے کو کوئی بھی راضی نہیں ہے ہمیں دل تو ہم دل کو سمجھا رہے ہیں سلجھتی نہیں زلف بھی ...

مزید پڑھیے

جو سجتا ہے کلائی پر کوئی زیور حسینوں کی

جو سجتا ہے کلائی پر کوئی زیور حسینوں کی تبھی بڑھتی ہیں قیمت جوہری تیرے نگینوں کی اٹھا دیتی ہے دیواریں دلوں کے بیچ یہ اکثر ضرورت کیوں ہو پھر ہم کو بھلا ایسی زمینوں کی اسی میں چھید کرتے ہیں کہ جس تھالی میں کھاتے ہیں بدل سکتی نہیں عادت کبھی ایسی کمینوں کی بھرا ہے لاکھ پھولوں سے ...

مزید پڑھیے

جس طرف حال جنوں میں تیرے دیوانے گئے

جس طرف حال جنوں میں تیرے دیوانے گئے پیچھے پیچھے پیروی میں سارے فرزانے گئے امتحاں کا وقت ہے آؤ مدد کے واسطے پھر نہ کہنا ہم غلط نظروں سے پہچانے گئے شیخ صاحب اپنی عزت آپ اپنے ہاتھ ہے محفل رنداں میں کیوں پھر وعظ فرمانے گئے دیکھیے اس طرح پیمان وفا پورا ہوا شمع جب روشن ہوئی مرنے کو ...

مزید پڑھیے

نمود رنگ سے بیگانہ وار آئی ہے

نمود رنگ سے بیگانہ وار آئی ہے خزاں کا بھیس بدل کر بہار آئی ہے ملول و مضمحل و بے قرار آئی ہے کوئی بتائے یہ کیسی بہار آئی ہے اسیر خانۂ گلچیں ہیں رنگ و بو اے دوست یہ کس کے عہد میں ایسی بہار آئی ہے سہاگ ادھ کھلی کلیوں کا کس نے لوٹ لیا بہار کس لئے یوں سوگوار آئی ہے چمن فسردہ گل ...

مزید پڑھیے

گزر جائیں گے یہ دن بے بسی کے

گزر جائیں گے یہ دن بے بسی کے زمانے لوٹ آئیں گے خوشی کے اٹھو اور بندگی کر لو خدا کی گزر جائیں نہ لمحے بندگی کے خدا کی ذات پر رکھیں بھروسہ بھرے گا وہ خزانے ہر کسی کے ہمیشہ واسطہ نیکی سے رکھنا نہ جانا پاس ہرگز تم بدی کے ہوئی ہے شمع گل اب پیار والی جلیں کیسے دیے اب زندگی کے بھروسہ ...

مزید پڑھیے

کبھی وہ رنج کے سانچے میں ڈھال دیتا ہے

کبھی وہ رنج کے سانچے میں ڈھال دیتا ہے کبھی خوشی وہ مجھے بے مثال دیتا ہے جواب سوچتی رہتی ہوں میں کئی دن تک وہ اک سوال ہوا میں اچھال دیتا ہے ہمارے پیار سا دنیا میں پیار سب کا ہو ہمارے پیار کی یہ جگ مثال دیتا ہے کسی کو رنگ بناتا ہے وہ سداما سا کسی کو دولت و جاہ و جلال دیتا ہے جو مجھ ...

مزید پڑھیے

ترے آنگن میں ہے جو پیڑ پھولوں سے لدا ہوگا

ترے آنگن میں ہے جو پیڑ پھولوں سے لدا ہوگا ترے گھر کا جو رستہ ہے بڑا ہی خوش نما ہوگا گوارا کب مجھے ہوگا کسی احساس کا ڈھونا ہے قرضہ اس جنم کا اس جنم میں ہی ادا ہوگا نہ جانے کب مرے بھارت میں وہ سرکار آئے گی کہ جس سرکار کے ہاتھوں غریبوں کا بھلا ہوگا وہ لمحے زندگی کے جو ترے ہمراہ گزرے ...

مزید پڑھیے

سارا جہان چھوڑ کے تم سے ہی پیار تھا

سارا جہان چھوڑ کے تم سے ہی پیار تھا تم جو بھی کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا تقریر نیتا جی نے جو بستی میں آج کی اس کا ہر ایک لفظ ہمیں ناگوار تھا گھر میں خدا کے دیر ہے اندھیر تو نہیں رحمت کے در کھلیں گے یہی انتظار تھا اس کو ہماری چاہ کی کچھ بھی خبر نہیں جس کے لئے ہمارا یہ دل بے قرار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 548 سے 4657