کاٹے ہیں دن حیات کے لاچار کی طرح
کاٹے ہیں دن حیات کے لاچار کی طرح کہنے کو زندگی ہے یہ گل زار کی طرح معلوم ہی نہ تھیں انہیں کچھ اپنی قیمتیں اہل قلم بکے یہاں اخبار کی طرح تقریر اس نے کی تھی ہمارے خلاف جو ہر لفظ چبھ رہا ہے ہمیں خار کی طرح کیا تم پہ اعتبار کریں تم ہی کچھ کہو قول و قرار کرتے ہو سرکار کی طرح نکلے گی ...